از قلم: علی عباس حسینی
حوزہ نیوز ایجنسی|
کلیاں چٹک رہی ہیں خوشبو سی اٹھ رہی ہے
با صد وقار ، ماہ ذیشان آ گیا ہے
رمضان آ گیا ہے رمضان آ گیا
افطار ہو کہ سحری کیوں فکرمند ہوں ہم
خود میزبان بن کر مہمان آ گیا ہے
رمضان آ گیا ہے رمضان آ گیا ہے
ہجرت کے دوسرے سن، شعباں کی دوسری کو
خالق کا دوسرا یہ فرمان آ گیا ہے
رمضان آ گیا ہے رمضان آ گیا ہے
خیرالبشر نبی کا زندہ جو معجزہ ہے
فرقان وہ مکمل قرآن آ گیا ہے
رمضان آ گیا ہے رمضان آ گیا ہے
ہر سانس پہ جزا ہے ہر گام ہے عبادت
سرشار ہو کے ماہ فیضان آ گیا ہے
رمضان آ گیا ہے رمضان آ گیا ہے
اللہ کی رضا ہے ہر دم قدم قدم پر
لگتا ہے جیسے خود ہی رحمن آگیا ہے
رمضان آ گیا ہے رمضان آ گیا ہے
روزہ نماز کی ہے اب بات ہر زباں پر
مردہ دلوں میں پھر سے ایمان آ گیا ہے
رمضان آ گیا ہے رمضان آ گیا ہے
سچ ہے کہ یہ مہینہ خود ہی ہے روح افزا
ہمدرد بن کے اپنا درمان آ گیا ہے
رمضان آ گیا ہے رمضان آ گیا ہے
روز حساب تو ہے روز قیام لیکن
شبہائے قدر بن کر میزان آ گیا ہے
رمضان آ گیا ہے رمضان آ گیا ہے
اک اور بھی خوشی ہے اس ماہ پندرہ کو
جنت کے جوانوں کا سلطان آ گیا ہے
رمضان آ گیا ہے رمضان آ گیا ہے
تا زندگی خسارہ ہے بس اسی کا حصہ
رمضان بعد جسکو نقصان آ گیا ہے
رمضان آ گیا ہے رمضان آ گیا ہے
رمضان کے وسیلے مالک معاف کردے
بخشش کی بھیک لینے فرقان آ گیا ہے
رمضان آ گیا ہے رمضان آ گیا ہے









آپ کا تبصرہ