حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ماہِ مبارک رمضان علوی حکمت و بصیرت کے بے مثال خزانے سے آشنائی کا موقع ہے۔ خصوصی سلسلہ «ضیافتِ علوی» میں نہج البلاغہ کی حکمتوں کے منتخب حصے، نہج البلاغہ کے ماہر حجت الاسلام والمسلمین جواد محدثی کی توضیح کے ساتھ، آپ اہلِ دانش کے افطار کی محفلوں کی زینت بنتے ہیں۔
نہج البلاغہ، حکمت نمبر 93 میں امیرالمؤمنین علیہ السلام فرماتے ہیں:
«لَا یَقُولَنَّ أَحَدُکُمْ: اللَّهُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنَ الْفِتْنَةِ، لِأَنَّهُ لَیْسَ أَحَدٌ إِلَّا وَ هُوَ مُشْتَمِلٌ عَلَی فِتْنَةٍ، وَ لَکِنْ مَنِ اسْتَعَاذَ فَلْیَسْتَعِذْ مِنْ مُضِلَّاتِ الْفِتَنِ».
یعنی تم میں سے کوئی یہ نہ کہے: «اے اللہ! میں تجھ سے فتنے سے پناہ مانگتا ہوں»، کیونکہ ہر انسان کسی نہ کسی امتحان اور آزمائش میں مبتلا ہے۔ پس جو پناہ مانگنا چاہے، اسے چاہیے کہ وہ گمراہ کن فتنوں سے اللہ کی پناہ مانگے۔
یہاں «فتنہ» سے مراد الٰہی آزمائش اور امتحان ہے۔ جیسا کہ قرآنِ کریم میں ارشاد ہوتا ہے:
«أَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ یُتْرَکُوا أَنْ یَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا یُفْتَنُونَ»
«کیا لوگوں نے یہ گمان کر لیا ہے کہ صرف یہ کہنے سے کہ ہم ایمان لائے ہیں، انہیں چھوڑ دیا جائے گا اور ان کی آزمائش نہیں ہوگی؟»
پس معلوم ہوا کہ پچھلی امتوں کو بھی آزمائش میں ڈالا گیا تاکہ یہ واضح ہو جائے کہ کون سچا ہے اور کون جھوٹا۔
انسان کی شخصیت اور اس کی قدر کا معیار اس کے دعوے نہیں بلکہ یہ ہے کہ وہ الٰہی امتحانات سے کس طرح گزرتا ہے۔ یہ آزمائش سب کے لیے ہے مگر جس کا بوجھ زیادہ، اس کا امتحان بھی سخت تر۔ جتنا انسان کا مقام حساس اور بلند ہو، اس کا امتحان اتنا ہی کڑا ہوگا۔
احادیث میں آیا ہے کہ سب سے سخت امتحان انبیائے الٰہی کا ہوتا ہے، پھر ان کا جو جتنا قریب اور جس مرتبے پر بلند ہوتا ہے، اس کا امتحان اتنا ہی شدید ہوتا ہے؛ اور جو جتنا نیچے ہو، اس کا امتحان اتنا ہی ہلکا ہوتا ہے۔
لیکن اس امتحان سے فرار ممکن نہیں اور ہر شخص کو اپنا امتحان دینا ہی ہے۔
کچھ لوگوں کے لیے امتحان مال میں ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر جب خمس، زکات اور صدقات جیسے واجبات پیش آتے ہیں تو ان حقوق کی ادائیگی انسان پر بھاری محسوس ہوتی ہے۔
امیرالمؤمنین علیہ السلام آگے آیتِ کریمہ «إِنَّمَا أَمْوَالُکُمْ وَ أَوْلَادُکُمْ فِتْنَةٌ»کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
کبھی مال کے ذریعے اور کبھی اولاد کے ذریعے انسان کو آزمایا جاتا ہے۔ اللہ دیکھتا ہے کہ جو رزق تمہیں دیا گیا ہے، اس پر تو راضی ہو یا نہیں؟ جو اولاد تمہیں عطا کی گئی ہے، بیٹی ہو یا بیٹا، اس پر شاکر ہے یا شکوہ کرتا ہے کہ کیوں بیٹی ہوئی یا کیوں بیٹا؟ یا مثلاً کیوں میرا رزق اس طرح ہے؟
پس اللہ تعالیٰ انسانوں کو ان کے مال اور اولاد کے ذریعے آزماتا ہے۔ ہم کوشش کرنی چاہیے کہ تمام الٰہی امتحانات میں سرخرو اور کامیاب ہو کر نکلیں۔









آپ کا تبصرہ