تحریر: مولانا سید کرامت حسین شعور جعفری
حوزہ نیوز ایجنسی I ماہِ رمضان آتا ہے تو دعاؤں کی کثرت بھی آ جاتی ہے۔ کتابیں کھلتی ہیں، صفحات پلٹتے ہیں، زبانیں مسلسل حرکت میں رہتی ہیں، اور ہر دن کے ساتھ ایک نئی دعا ہمارے لبوں پر ہوتی ہے۔ بظاہر یہ سب دینداری کی علامت ہے، مگر اصل سوال یہ نہیں کہ کتنی دعائیں پڑھی گئیں، بلکہ یہ ہے کہ کتنی دعائیں دل کی دہلیز تک پہنچیں۔ کیونکہ دعا اگر صرف الفاظ کی گردش بن جائے تو وہ عبادت تو رہتی ہے، مگر اس کی تاثیر آہستہ آہستہ ماند پڑ جاتی ہے۔
دعا خدا کو یہ بتانے کا نام نہیں کہ ہمیں کیا چاہیے۔ وہ تو دلوں کے بھید جانتا ہے، نگاہوں کی چوری پہچانتا ہے، اور خاموش آہوں سے بھی واقف ہے۔ دعا کا اصل مقصد یہ ہے کہ انسان خود کو پہچان لے—اپنی محتاجی، اپنی کمزوری اور اپنی بے بسی کو مان لے۔ یہی احساسِ احتیاج دعا کی روح ہے۔ جب دل اس کیفیت میں آ جائے تو الفاظ کم ہوں یا زیادہ، دعا وزن اختیار کر لیتی ہے اور اثر دکھانے لگتی ہے۔
رمضان کی روزانہ کی دعائیں اسی مقصد کے لیے ترتیب دی گئی ہیں۔ ان میں بار بار مغفرت، رحمت، ہدایت اور رضا کا ذکر آتا ہے، تاکہ انسان اپنی اصل ضرورت کو نہ بھولے۔ انسان عموماً سمجھتا ہے کہ اسے دنیا کی چیزوں کی حاجت ہے، حالانکہ اس کی سب سے بڑی ضرورت درست سمت ہے۔ اگر سمت درست ہو جائے تو راستے خود بنتے چلے جاتے ہیں۔
اکثر یہ شکایت سننے میں آتی ہے کہ دعا کی جاتی ہے، مگر دل میں کوئی خاص اثر محسوس نہیں ہوتا۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم دعا کو آہستہ آہستہ مطالبے کی فہرست بنا لیتے ہیں۔ ہم مانگتے رہتے ہیں، مگر جھکنا بھول جاتے ہیں۔ دعا جب مطالبہ بن جائے تو اس میں ایک نادیدہ انا داخل ہو جاتی ہے، اور جہاں انا آ جائے وہاں قبولیت کی راہ تنگ ہو جاتی ہے۔ دعا کی اصل قوت عاجزی میں ہے، اور عاجزی خاموشی سے جنم لیتی ہے۔
روزانہ کی دعا کا ایک اہم فائدہ یہ بھی ہے کہ وہ انسان کو مسلسل خدا سے جوڑے رکھتی ہے۔ رمضان میں دن کا کوئی حصہ ایسا نہیں رہتا جس میں بندہ خدا کو یاد نہ کرے۔ سحر کی دعا، دن کی خاموش التجائیں، افطار سے پہلے کی بے قراری—یہ سب مل کر دل میں یہ یقین بٹھاتے ہیں کہ خدا دور نہیں، وہ ہر لمحہ حاضر ہے، سنتا ہے اور دیکھتا ہے۔
اس پورے عمل میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ دعا کو سمجھ کر پڑھا جائے۔ ضروری نہیں کہ ہر روز پوری دعا پڑھی جائے، لیکن جو پڑھی جائے وہ دل کے ساتھ ہو۔ کبھی ایک ہی جملہ انسان کی پوری کیفیت کو بدل دیتا ہے۔ اگر وہ جملہ سمجھ میں آ جائے، دل میں اتر جائے اور حال سے جڑ جائے، تو وہ کئی صفحات پر بھاری ہو سکتا ہے۔
رمضان ہمیں یہ سبق بھی دیتا ہے کہ دعا صرف مانگنے کا نام نہیں، بلکہ اپنے آپ کو خدا کے سامنے رکھنے کا عمل ہے۔ اپنی کمزوریوں کا اعتراف، اپنی لغزشوں پر ندامت، اور اپنی اصلاح کی سچی خواہش—یہ سب دعا کے دائرے میں شامل ہیں۔ جب انسان اس احساس کے ساتھ دعا کرتا ہے تو وہ بدلنے لگتا ہے، چاہے حالات فوراً نہ بدلیں۔
جو شخص روزانہ کی دعا کو کیفیت کے ساتھ پڑھتا ہے، اس کے اندر آہستہ آہستہ ایک خاموش تبدیلی جنم لیتی ہے:
وہ کم شاکی ہو جاتا ہے
زیادہ شاکر بن جاتا ہے
اور خدا پر بھروسہ کرنا سیکھ لیتا ہے
یہی دعا کی اصل کامیابی ہے۔
رمضان کی روزانہ کی دعائیں ہمیں یہ سادہ مگر گہرا سبق دیتی ہیں کہ:
الفاظ راستہ ہیں، منزل نہیں۔
منزل وہ کیفیت ہے جہاں انسان خود کو خدا کے سامنے حاضر پاتا ہے۔









آپ کا تبصرہ