تحریر: سید کرامت حسین شعور جعفری
حوزہ نیوز ایجنسی I مولانا ماہِ رمضان اب ہمارے درمیان ہے اور اس کے ایام خاموشی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ اب سوال یہ نہیں رہتا کہ رمضان آیا یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم واقعی رمضان میں داخل ہو چکے ہیں، یا صرف دنوں اور تاریخوں کے اعتبار سے اس کے اندر ہیں؟ بہت سے لوگ روزے رکھ رہے ہوتے ہیں، عبادات بھی انجام دے رہے ہوتے ہیں، مگر دل ابھی تک وہیں کا وہیں ہوتا ہے جہاں رمضان سے پہلے تھا۔ حالانکہ رمضان کا اصل مقصد انسان کے نظام الاوقات کو بدلنا نہیں، بلکہ اس کے باطن میں حرکت پیدا کرنا ہے۔
رمضان کی پہلی اور بنیادی دعوت دل کی طرف ہے۔ عبادات کی کثرت اپنی جگہ اہم ہے، مگر اگر دل کے اندر کینہ، حسد، غرور، خود پسندی یا بے حسی جمی ہوئی ہو تو یہ اعمال اپنی پوری تاثیر نہیں دکھا پاتے۔ اسی لیے رمضان کے دنوں میں بار بار توبہ اور رجوع کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ یہ توبہ محض گناہوں کی یاد دہانی نہیں، بلکہ اپنی سمت کی درستگی، اپنے قبلے کی اصلاح اور زندگی کے رخ پر سنجیدہ نظرِ ثانی کا نام ہے۔
دل کی تجدید کے ساتھ نیت کی اصلاح بھی ناگزیر ہے۔ اگر نیت صرف رسم کی ادائیگی ہو تو روزہ بھی رسم بن جاتا ہے اور عبادت بھی عادت۔ رمضان ہم سے یہ تقاضا کرتا ہے کہ ہم ہر دن خود سے پوچھیں: کیا آج میں نے اپنے کل سے کچھ مختلف کیا؟ نیت یہ ہو کہ یہ مہینہ مجھے جوں کا توں نہ چھوڑے۔ کم از کم ایک ایسی کمزوری جس کے ساتھ میں مدتوں سے سمجھوتا کیے ہوئے ہوں، اس پر قابو پانے کی سچی کوشش کروں۔ یہی ایک فیصلہ رمضان کو محض معمول نہیں رہنے دیتا، بلکہ اسے معنی اور سمت عطا کرتا ہے۔
رمضان کے دنوں میں ذہنی اور عملی نظم بھی خاص اہمیت رکھتا ہے۔ اکثر لوگ وقت کی کمی اور مصروفیات کا شکوہ کرتے ہیں، حالانکہ اصل مسئلہ وقت نہیں بلکہ ترجیحات ہوتی ہیں۔ رمضان ہمیں سکھاتا ہے کہ غیر ضروری مشاغل کو سمیٹا جائے، بے مصرف گفتگو اور اسکرین کے اوقات کو کم کیا جائے، اور عبادت کو زندگی کے کنارے پر نہیں بلکہ اس کے مرکز میں رکھا جائے۔ یہ نظم عبادت کو بوجھ نہیں بناتا، بلکہ اسے سہارا دے دیتا ہے۔
رمضان میں داخل ہو کر حقوق الناس کی ذمہ داری اور بھی نمایاں ہو جاتی ہے۔ اگر روزہ زبان کی سختی، رویوں کی تلخی اور معاملات کی ناانصافی کے ساتھ جاری رہے تو یہ مہینہ خود سوال بن جاتا ہے۔ دل میں کسی کا حق دبا ہو، کسی سے رنجش باقی ہو، تو دعا کی راہ بھی تنگ ہو جاتی ہے۔ اسی لیے رمضان کے دنوں میں معافی مانگنا، دلوں کے بوجھ ہلکے کرنا اور رشتوں کو درست کرنا عبادت ہی کا حصہ بن جاتا ہے۔
رمضان یہ بھی واضح کرتا ہے کہ عبادت صرف مسجد یا مصلیٰ تک محدود نہیں۔ گھر کا ماحول، گفتگو کا لہجہ اور روزمرہ رویے بھی روزے کی گواہی دیتے ہیں۔ اگر رمضان کے باوجود گھروں میں بے صبری، شور اور تلخی غالب رہے تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ جسم تو روزے میں ہے، مگر دل ابھی باہر کھڑا ہے۔ اس کے برعکس جہاں لہجوں میں نرمی اور رویوں میں وقار آ جائے، وہاں رمضان خود اپنی موجودگی کا احساس دلا دیتا ہے۔
اہلِ بیتؑ کی دعاؤں میں رمضان کے دوران یہ التجا بار بار سامنے آتی ہے کہ:
“خدایا! ہمیں اس مہینے کے حق کو پہچاننے والا بنا، اور ہمیں اس میں غفلت کرنے والوں میں شامل نہ فرما۔”
یہ دعا یاد دلاتی ہے کہ رمضان کے اندر بھی غفلت ممکن ہے اور بیداری بھی، اور یہ انتخاب ہر دن نئے سرے سے کرنا ہوتا ہے۔
یوں رمضان ہمیں یہ شعور عطا کرتا ہے کہ عبادت کوئی اچانک پھوٹنے والی کیفیت نہیں، بلکہ تدریج، اخلاص اور مسلسل توجہ کا ثمر ہے۔ جو شخص رمضان کے اندر بھی اپنی نیت کی تجدید کر لے، دل کی صفائی شروع کر دے اور عمل کو شعور کے ساتھ جوڑ لے، اس کے لیے یہ مہینہ محض دنوں کا سلسلہ نہیں رہتا، بلکہ ایک خاموش مگر گہرا اندرونی انقلاب بن جاتا ہے۔
آج، اسی دن، تین باتوں کا فیصلہ کریں:
ایک رویہ جسے چھوڑنا ہے، ایک عبادت جسے شعور کے ساتھ اپنانا ہے اور ایک تعلق جسے بہتر بنانا ہے۔
رمضان انتظار نہیں کرتا، مگر ہر دن ایک نیا موقع ضرور دیتا ہے۔









آپ کا تبصرہ