تحریر و انتخاب: آغا زمانی، سکردو بلتستان
حوزہ نیوز ایجنسی | ماہِ صیام انسان کے لیے محض عبادت کا موسم نہیں بلکہ خود احتسابی، فکری بیداری اور اخلاقی تربیت کا جامع مرحلہ ہے۔ روزہ انسان کو بھوک اور پیاس کے ذریعے اس کے باطن سے روشناس کراتا ہے اور یہ بتاتا ہے کہ عبادت کی اصل روح ظاہری اعمال نہیں بلکہ نیت کی پاکیزگی، اطاعتِ الٰہی اور انسان دوستی ہے۔ اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام اور رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرامین اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ روزہ نفس کی خواہشات پر قابو پانے، سماجی ناانصافیوں کو محسوس کرنے اور بندے کے اخلاص کو پرکھنے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ انہی تعلیمات کی روشنی میں یہ تحریر روزے کی حقیقی افادیت، اس کے اخلاقی و سماجی اثرات اور اس معیار کو بیان کرنے کی کوشش ہے جو روزے کو محض رسم کے بجائے ایک زندہ اور اثر پذیر عبادت بناتا ہے۔
روزہ بدن کی زکوٰۃ
رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے:
''ہر چیز کی زکوٰۃ ہے اور بدن کی زکوٰۃ روزہ ہے''۔
(اصولِ کافی، جلد 4، ص 62)
جس طرح مال کی زکوٰۃ اسے پاک کرتی ہے، اسی طرح روزہ انسان کے بدن کو پاکیزگی بخشتا ہے۔ روزہ نہ صرف جسمانی صحت پر اثر انداز ہوتا ہے بلکہ انسان کو خواہشات کی غلامی سے نجات دے کر روحانی بلندی عطا کرتا ہے۔ یہ نفس کی میل کچیل کو دھو دینے والا عمل ہے۔
روزہ اخلاص کا امتحان
امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:
''خدا نے ایمان کو شرک سے بچانے، نماز کو تکبر سے بچانے، زکوٰۃ کو رزق میں اضافے اور روزے کو بندوں کے اخلاص کی آزمائش کے لیے فرض کیا ہے''۔
(نہج البلاغہ، حکمت 252)
روزہ ایک ایسا عمل ہے جس میں دکھاوا ممکن نہیں۔ کوئی انسان کے بھوکے یا پیاسے ہونے کو نہیں جانتا، سوائے خدا کے۔ اسی لیے روزہ انسان کے اخلاص کو جانچنے کا بہترین ذریعہ ہے۔
افطاری اور حوضِ کوثر کا وعدہ
شعبان کے آخری جمعہ کے خطبے میں رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
''جو شخص کسی روزہ دار کو افطار کرائے، خدا اسے حوضِ(کوثر) سے ایسا شربت پلائے گا جس کے بعد وہ کبھی پیاسا نہ ہوگا''۔
(مستدرک الوسائل، جلد 7، ص 354)
اسلام میں عبادت کے ساتھ خدمتِ خلق کو بھی غیر معمولی اہمیت دی گئی ہے۔ روزہ دار کو افطار کرانا محض کھانا کھلانا نہیں بلکہ دل جوڑنے، ہمدردی اور ایثار کی عملی تربیت ہے۔
اعضاء کا روزہ حقیقی روزہ
سیدۂ کائنات حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا فرماتی ہیں:
''جس روزہ دار نے اپنی زبان، آنکھ، کان اور دیگر اعضاء کو گناہ سے نہ بچایا، اسے روزے کا کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوا''۔
(مستدرک الوسائل، جلد 7، ص 366)
اس حدیث کے مطابق روزہ صرف پیٹ کا نہیں بلکہ پورے وجود کا ہونا چاہیے۔ جھوٹ، غیبت، بدنگاہی اور گناہ آلود گفتگو روزے کی روح کو کھوکھلا کر دیتی ہے۔
معاشرتی مساوات روزے کی حکمت
امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں:
''روزہ اس لیے فرض کیا گیا تاکہ امیر اور غریب کے درمیان فرق کم ہو اور مالدار غریب کی بھوک کو محسوس کر سکے''۔
(بحار الانوار، جلد 96، ص 371)
روزہ انسان کو احساس دلاتا ہے کہ بھوک کیا ہوتی ہے۔ یہ احساس انسان کے دل میں رحم، ہمدردی اور انصاف کے جذبات کو بیدار کرتا ہے اور ایک متوازن معاشرے کی بنیاد رکھتا ہے۔
روزہ دار کی عظمت
امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام کا ارشاد ہے:
''روزہ دار کا سونا عبادت، اس کی خاموشی تسبیح، اس کا عمل قبول اور اس کا اجر دوگنا ہوتا ہے اور افطار کے وقت اس کی دعا رد نہیں ہوتی''۔
(دعائم الاسلام، جلد 1، ص 260۔ بحار الانوار، جلد 96، ص 269)
یہ حدیث روزہ دار کے مقام کو واضح کرتی ہے۔ روزہ انسان کو خدا کے اتنا قریب کر دیتا ہے کہ اس کی سانسیں بھی عبادت بن جاتی ہیں۔
ظاہری و باطنی روزہ
امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
''جب تم روزہ رکھو تو تمہاری آنکھ، کان، بال اور جلد بھی روزے سے ہوں''۔
(اصولِ کافی، جلد 4، ص 87)
یہ فرمان ہمیں متنبہ کرتا ہے کہ روزہ صرف ظاہری عمل نہ بن جائے بلکہ باطن کی اصلاح کا ذریعہ بنے۔
بے روح عبادت
امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:
''کتنے ہی روزہ دار ایسے ہیں جنہیں اپنے روزے سے بھوک اور پیاس کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا اور کتنے ہی راتوں کو عبادت میں جاگنے والے ہیں جنہیں سوائے بے خوابی اور سختی کے کچھ نصیب نہیں ہوتا''۔
(نہج البلاغہ، حکمت 145)
یہ فرمان ایک سخت مگر حقیقت پسندانہ تنبیہ ہے۔ عبادت اگر نیت، اخلاص اور اطاعتِ الٰہی سے خالی ہو تو وہ جسم پر بوجھ تو بن سکتی ہے، مگر روح کو فائدہ نہیں دیتی۔ روزہ ہو یا شب بیداری، اصل چیز دل کی کیفیت ہے۔
روحانی تیاری اور اجر
حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام فرماتے ہیں:
''رجب جنت کی ایک نہر کا نام ہے جو دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ شیریں ہے، جو اس مہینے میں ایک دن روزہ رکھے گا خدا اسے اس نہر سے سیراب کرے گا''۔
(من لا یحضرہ الفقیہ، جلد 2، ص 92)
رجب کا مہینہ دراصل رمضان کی روحانی تیاری ہے۔ اس میں روزہ رکھنا انسان کو عبادت کی لذت سے آشنا کرتا اور دل کو نرمی عطا کرتا ہے، تاکہ رمضان میں بندہ پوری توجہ کے ساتھ داخل ہو۔
حقیقی روزہ، ناپسندیدہ امور سے اجتناب
مولائے متقیان حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:
''صرف کھانے پینے سے رک جانا روزہ نہیں بلکہ ہر اس چیز سے رک جانا روزہ ہے جسے خدا ناپسند کرتا ہے''۔
(شرح نہج البلاغہ، جلد 20، ص 298)
یہ حدیث روزے کی جامع تعریف ہے۔ زبان کا جھوٹ، آنکھ کی بدنگاہی، دل کا کینہ اور ہاتھ کا ظلم. یہ سب روزے کے منافی ہیں، چاہے انسان بھوکا ہی کیوں نہ ہو۔
افطاری دینا نفلی عبادت سے افضل
امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کا ارشاد ہے:
''روزہ دار کو افطار کرانا مستحب روزوں سے بہتر ہے''۔
(اصولِ کافی، جلد 4، ص 68)
شرح:
اس حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ اسلام میں انفرادی عبادت کے ساتھ اجتماعی خیر کو فوقیت حاصل ہے۔ کسی روزہ دار کو افطار کرانا دل جوڑنے اور سماجی وحدت کو مضبوط کرنے کا ذریعہ ہے۔
روزہ اور سماجی انصاف
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
''خدا نے روزہ اس لیے فرض کیا تاکہ امیر اور غریب کے درمیان فرق ختم ہو جائے''۔
(من لا یحضرہ الفقیہ، جلد 2، ص 43)
روزہ طبقاتی فاصلے کم کرتا ہے۔ جب سب ایک ہی وقت میں بھوک پیاس برداشت کرتے ہیں تو انسانیت کا رشتہ مضبوط ہوتا ہے اور احساسِ محرومی کم ہوتا ہے۔
روزہ اور صحت
رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے:
''روزہ رکھو تاکہ صحت مند رہو''۔
(نہج الفصاحہ، حدیث 1854)
اسلامی تعلیمات روح اور جسم دونوں کو ساتھ لے کر چلتی ہیں۔ روزہ نہ صرف روحانی صفائی کا ذریعہ ہے بلکہ جسمانی توازن اور صحت کے لیے بھی مفید ہے۔
مومن اور منافق کا فرق
رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
''مومن کا مقصد نماز، روزہ اور عبادت ہے، جبکہ منافق کا مقصد جانوروں کی طرح کھانا پینا ہوتا ہے''۔
(بحار الانوار، جلد 67، ص 290؛ نیز مفہوم سورۂ محمد: 12 سے ماخوذ)
یہ حدیث انسان کے ہدف کو واضح کرتی ہے۔ جو شخص زندگی کو صرف خواہشاتِ نفس تک محدود کر دے وہ روحانی اعتبار سے حیوانی سطح پر آ جاتا ہے، جبکہ مومن کی نگاہ آخرت اور رضائے الٰہی پر ہوتی ہے۔
کامل روزہ، اطاعت کی شرط
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں:
''چار افراد کا روزہ کامل نہیں:
امامِ معصوم کی نافرمانی کرنے والا،
بھاگا ہوا غلام جب تک پلٹ نہ آئے،
ناشزہ بیوی جب تک توبہ نہ کرے،
اور والدین کی طرف سے عاق ہوجانے والا نافرمان جب تک اطاعت نہ کرے''۔
(بحار الانوار، جلد 93، ص 295)
روزے کی قبولیت صرف بھوک پیاس پر نہیں بلکہ اطاعت، نظم اور اخلاقی ذمہ داری پر موقوف ہے۔ جو شخص بنیادی فرائض میں کوتاہی کرے، اس کا روزہ روحانی کمال تک نہیں پہنچتا۔
اختتامیہ
روزہ انسان کے باطن کا آئینہ ہے۔ اگر دل میں اطاعت، اخلاص اور انسان دوستی نہ ہو تو روزہ محض رسم رہ جاتا ہے۔ لیکن اگر روزہ ہمیں گناہوں سے روکے، محتاجوں کا احساس دلائے اور خدا کے قریب کر دے تو یہی روزہ ہماری زندگی کو بدلنے والا بن جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو تعلیماتِ قرآن و اہلبیت کو سمجھ کر ان پر عمل توفیق عطا فرمائے۔ آمین









آپ کا تبصرہ