اتوار 22 فروری 2026 - 02:43
علانیہ روزہ خوری؛ ذاتی و انفرادی آزادی یا سماجی جرم؟

حوزہ / جو چیز جرم شمار ہوتی ہے وہ خود روزہ نہ رکھنا نہیں بلکہ "استخفاف" یعنی دین کی حرمت کو علانیہ طور پر ہلکا سمجھنا اور اس کا تمسخر کرنا ہے۔ روزہ رکھنا ذاتی معاملہ ہے لیکن معاشرے میں اس کا ترک دینی فضا کی تضعیف اور دین کی مخالفت کو آسان بنانے کا باعث بنتا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، دینی احکام پر عمل کے حوالے سے ذاتی آزادی اسلامی اصولوں میں سے ایک مسلمہ اصل ہے لیکن یہ آزادی کہاں تک ہے؟ یہ سوال کہ علانیہ روزہ خوری کیوں جرم ہے دراصل انسان کی پرائیویسی اور سماجی دائرے کے درمیان حد بندی سے جڑا ہوا ہے۔ حوزہ نیوز نے اسی سلسلہ میں دینی شبہات کے ماہر حجت الاسلام محمد عباسی کے ساتھ گفتگو کی ہے جس میں اس نکتے کا جائزہ لیا گیا ہے کہ شریعت میں فردی عمل اور عوامی اظہار میں کیا فرق ہے۔

اس مسئلے کا جواب یہ ہے کہ دینی احکام پر عمل فردی دائرے میں اختیاری ہے۔ انسان تکوینی طور پر حتیٰ کہ کسی حرام کام کا بھی ارتکاب کر سکتا ہے۔ اطاعت اور نافرمانی کا مفہوم اسی وقت بنتا ہے جب انسان کے پاس درست اور غلط دونوں کام کرنے کا اختیار ہو۔

اصل نکتہ؛ ذاتی پرائیویسی اور عوامی میدان میں فرق

لہٰذا فردی سطح پر روزہ رکھنا یا نہ رکھنا خود شخص سے متعلق ہے اور ہمیں یہ حق نہیں کہ ہم لوگوں کی نجی زندگی میں تجسس کریں کہ وہ اپنے گھروں میں روزہ رکھتے ہیں یا نہیں۔ یہ معاملہ خالصتاً فردی ہے۔

لیکن سماجی سطح پر اور دینی شعائر کے تحفظ کے باب میں اسلام سخت حساسیت دکھاتا ہے۔ بہت سے افراد کسی شرعی عذر مثلاً بیماری یا سفر کی وجہ سے روزہ نہیں رکھ سکتے لیکن اس سے یہ اجازت پیدا نہیں ہوتی کہ وہ معاشرتی ماحول میں ماہِ رمضان کی حرمت اور احترام کو توڑیں اور اس دینی فضا کو مجروح کریں جو اس مقدس مہینے میں اسلامی معاشرے میں قائم ہونی چاہیے۔ ایسے مواقع پر جہاں دینی احکام کی بے حرمتی اور استخفاف ہوتا ہے وہاں سخت رویہ اختیار کیا جاتا ہے۔

مثال کے طور پر بعض بڑے گناہوں کے بارے میں حکم دیا گیا ہے کہ اگر وہ علانیہ سرزد ہوں تو ان کی سزا بھی علانیہ دی جائے تاکہ گناہ کے معاشرتی اثرات کا سدِباب ہو سکے اور دینی اقدار کی حرمت باقی رہے۔ جس جگہ گناہ علانیہ ہوا ہو وہیں اس کے خلاف کارروائی بھی علانیہ ہونی چاہیے تاکہ معاشرہ دیکھے کہ حرمت شکنی کا انجام ہوتا ہے۔

جرم قرار دینے کی منطقی بنیاد

پس جرم خود روزہ نہ رکھنا نہیں کیونکہ ممکن ہے اس کے پیچھے کوئی شرعی عذر ہو بلکہ جرم وہ علانیہ طرزِ عمل ہے جس میں دینی احکام کو ہلکا اور خفیف سمجھا جائے اور ان کی حرمت پامال کی جائے۔ ماہِ مبارک رمضان کے بارے میں روزہ خوری کا جرم شمار ہونا اسی منطق پر مبنی ہے تاکہ معاشرتی فضا پاکیزہ رہے اور بندگی کا ماحول آلودہ نہ ہو۔

اسلامی تعلیمات میں دوسروں کے سامنے کھانا کھانے کو بھی ناپسندیدہ قرار دیا گیا ہے خصوصاً اس صورت میں جب سامنے والے بھوکے ہوں۔ روایات میں آیا ہے کہ جو شخص دوسروں کے سامنے کھاتا ہے اور ان کی پروا نہیں کرتا وہ اپنے آپ کو بیماری سے محفوظ نہ سمجھے۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت ہے: «مَنْ أَکَلَ وَذُو عَیْنَیْنِ یَنْظُرُ إِلَیْهِ وَلَمْ یُوَاسِهِ، ابْتُلِیَ بِدَاءٍ لَا دَوَاءَ لَهُ» یعنی جو شخص اس حال میں کھائے کہ دوسرے اس کی طرف دیکھ رہے ہوں اور وہ ان کے ساتھ ہمدردی نہ کرے تو وہ ایسی بیماری میں مبتلا ہو سکتا ہے جس کا کوئی علاج نہ ہو۔

ایک اور روایت میں آیا ہے: «اَلْأَکْلُ فِی السُّوقِ دَنَاءَةٌ» یعنی بازار جیسے ہجوم والے مقام پر کھانا انسان کی پستی کی علامت ہے۔

نتیجہ یہ کہ دینی احکام کی پابندی فردی دائرے میں ذاتی معاملہ ہے لیکن جو شخص کسی وجہ سے کسی حکم پر عمل نہ کر سکے اسے یہ حق حاصل نہیں کہ اپنی عدم پابندی کو سماجی سطح پر نمایاں کرے کیونکہ اس سے دینی فضا کمزور ہوتی ہے اور دین کی مخالفت کو فروغ ملتا ہے۔ اسی لیے علانیہ گناہ پر علانیہ سماجی ردِعمل اور سزا کو اسلامی معاشرت کے تحفظ کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha