تحریر: عاصم علی
حوزہ نیوز ایجنسی | اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کی روحانی، اخلاقی، معاشرتی اور انفرادی زندگی کی اصلاح کرتا ہے۔ اس ضابطۂ حیات کے بنیادی ارکان میں سے ایک اہم رکن روزہ ہے۔ روزہ محض بھوک اور پیاس کا نام نہیں بلکہ یہ نفس کی تربیت، روح کی پاکیزگی اور معاشرے کی اصلاح کا ایک عظیم نظام ہے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں روزے کو فرض قرار دے کر اس کا مقصد واضح کیا ہے، اور حضرت محمد ﷺ نے اپنی عملی زندگی کے ذریعے اس کی روح کو سمجھایا۔
روزہ انسان کو حیوانی خواہشات سے بلند کر کے اسے تقویٰ، صبر، شکر اور ہمدردی جیسے اعلیٰ اوصاف سے آراستہ کرتا ہے.
1. قرآن مجید کی روشنی میں روزے کی فرضیت اور مقصد
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے.
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ
(سورہ بقرہ: 183)
ترجمہ: اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ۔
اس آیت سے تین اہم نکات سامنے آتے ہیں.
روزہ صرف امتِ محمدی پر نہیں بلکہ سابقہ امتوں پر بھی فرض تھا۔
روزہ ایک الٰہی حکم ہے۔
روزے کا بنیادی مقصد تقویٰ ہے۔
تقویٰ وہ کیفیت ہے جس میں انسان ہر حال میں اللہ کی رضا کو مدنظر رکھتا ہے اور گناہوں سے بچنے کی کوشش کرتا ہے۔ روزہ انسان کو اس منزل تک پہنچانے کا ذریعہ ہے۔
2. روزے کا روحانی فلسفہ
روزہ انسان کے باطن کو پاک کرتا ہے۔ جب انسان اللہ کے حکم پر اپنی بنیادی خواہشات (کھانا، پینا، ازدواجی تعلق) کو ایک مخصوص وقت تک ترک کرتا ہے تو وہ دراصل اپنے نفس پر قابو پانا سیکھتا ہے۔
(الف) نفس کی تربیت
انسان کا سب سے بڑا دشمن اس کا نفس ہے۔ روزہ نفس کی سرکشی کو کم کرتا ہے اور انسان کو اللہ کی اطاعت کی طرف مائل کرتا ہے۔
(ب) اخلاص کی تربیت
روزہ ایک ایسی عبادت ہے جس میں ریاکاری کا امکان کم ہوتا ہے، کیونکہ اگر کوئی شخص تنہائی میں کھا لے تو کسی کو معلوم نہیں ہوگا۔ مگر وہ اللہ کے خوف سے ایسا نہیں کرتا۔ یہی اخلاص روزے کی اصل روح ہے۔
حدیثِ قدسی میں آیا ہے
"روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا۔"
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ روزہ اللہ کے نزدیک خاص مقام رکھتا ہے۔
3. روزہ اور تقویٰ کا تعلق
- تقویٰ کا مطلب ہے،
- اللہ سے ڈرنا
- گناہوں سے بچنا
- *نیکی اختیار کرنا
روزہ انسان کو عملی طور پر تقویٰ سکھاتا ہے۔ جب وہ حلال چیزوں (کھانا، پانی) سے بھی اللہ کے حکم پر رک جاتا ہے تو حرام چیزوں سے رکنا اس کے لیے آسان ہو جاتا ہے۔ یوں روزہ ایک تربیتی کیمپ ہے جو انسان کو سال بھر کے لیے گناہوں سے بچنے کی مشق کراتا ہے۔
4. روزہ اور اخلاقی اصلاح
روزہ اخلاقی تربیت کا بہترین ذریعہ ہے۔
- (الف) زبان کی حفاظت
- (ب) غصے پر قابو
- (ج) صبر کی عادت
حضرت محمد ﷺ نے فرمایا
روزہ ڈھال ہے۔
یعنی روزہ انسان کو برائیوں سے بچاتا ہے۔
5. روزہ اور سماجی مساوات
روزہ معاشرے میں مساوات پیدا کرتا ہے۔
امیر اور غریب ایک ہی وقت میں بھوکے رہتے ہیں۔
مالدار شخص کو غریب کی بھوک کا احساس ہوتا ہے۔
زکوٰۃ اور صدقات کی ادائیگی میں اضافہ ہوتا ہے۔
رمضان کے مہینے میں پورا معاشرہ عبادت، خیرات اور ہمدردی کی فضا میں ڈھل جاتا ہے۔
6. روزہ اور صبر
رمضان کو "شہر الصبر" کہا گیا ہے۔
صبر کی تین قسمیں ہیں.
اطاعت پر صبر
گناہ سے بچنے پر صبر
مصیبت پر صبر
روزہ ان تینوں اقسام کی عملی مشق ہے۔
7. روزہ اور قرآن
رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن مجید نازل ہوا۔
شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ
(سورہ بقرہ: 185)
رمضان میں قرآن کی تلاوت، تدبر اور عمل کی خصوصی تاکید کی گئی ہے۔ اس طرح روزہ اور قرآن کا گہرا تعلق ہے۔
8. روزہ اور خود احتسابی
رمضان خود احتسابی کا مہینہ ہے۔
انسان سوچتا ہے.
میں نے سال بھر کیا کیا؟
میری کمزوریاں کیا ہیں؟
میں کیسے بہتر مسلمان بن سکتا ہوں؟
یہی محاسبہ انسان کی اصلاح کا سبب بنتا ہے۔
9. روزے کے جسمانی فوائد
اگرچہ روزہ بنیادی طور پر روحانی عبادت ہے، مگر اس کے جسمانی فوائد بھی ہیں.
نظامِ ہضم کو آرام
جسم سے فاسد مادوں کا اخراج
خود کنٹرول کی عادت
لیکن اصل مقصد اللہ کی رضا ہے، نہ کہ صرف صحت۔
10. روزہ اور آخرت کی تیاری
روزہ انسان کو آخرت کی یاد دلاتا ہے۔
قیامت کے دن کی بھوک اور پیاس کو یاد کر کے انسان نیکی کی طرف مائل ہوتا ہے۔
حدیث میں آیا ہے کہ روزہ قیامت کے دن شفاعت کرے گا.
11. خواتین اور روزہ
اسلام نے خواتین کو بھی روزے کا مکلف بنایا، مگر ان کی جسمانی حالت کے مطابق رعایتیں بھی دی ہیں۔
بیماری کی حالت
حمل اور رضاعت
حیض و نفاس
یہ سب اسلام کی آسانی اور حکمت کو ظاہر کرتے ہیں۔
12. روزہ اور نوجوان نسل
روزہ نوجوانوں کے لیے خصوصی تربیت ہے۔
خواہشات پر قابو
نظم و ضبط
وقت کی پابندی
یہ اوصاف مستقبل کی قیادت کے لیے ضروری ہیں۔
13. روزہ اور معاشی نظم
رمضان میں اسراف سے بچنا چاہیے۔
بدقسمتی سے بعض لوگ افطار میں فضول خرچی کرتے ہیں، جو روزے کی روح کے خلاف ہے۔
اصل مقصد سادگی اور تقویٰ ہے۔
14. روزہ: ایک مکمل تربیتی نظام
اگر غور کیا جائے تو روزہ.
روح کی پاکیزگی
اخلاق کی اصلاح
معاشرتی ہمدردی
جسمانی اعتدال
آخرت کی تیاری
ان سب پہلوؤں کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔
نتیجہ
روزہ محض ایک وقتی عبادت یا سال میں ایک مہینے کی رسمی مشق نہیں، بلکہ یہ انسان کی مکمل شخصیت سازی کا ایک جامع الٰہی نظام ہے۔ روزہ انسان کے ظاہر اور باطن دونوں کی اصلاح کرتا ہے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اگر ہم اللہ کے حکم پر حلال چیزوں سے بھی رک سکتے ہیں تو حرام امور سے بچنا ہمارے لیے اور بھی آسان ہونا چاہیے۔ اسی میں روزے کا حقیقی فلسفہ پوشیدہ ہے۔
روزہ انسان کے اندر تقویٰ کی ایسی کیفیت پیدا کرتا ہے جو اس کی پوری زندگی کو منظم کر دیتی ہے۔ جب انسان بھوک اور پیاس کی شدت میں بھی اللہ کی نافرمانی نہیں کرتا تو اس کے دل میں اللہ کی عظمت اور نگرانی کا احساس مضبوط ہو جاتا ہے۔ یہی احساس اسے گناہوں سے دور اور نیکیوں کی طرف راغب کرتا ہے۔ یوں روزہ محض ایک مہینے کی عبادت نہیں بلکہ سال بھر کی عملی تربیت بن جاتا ہے۔
سماجی اعتبار سے بھی روزہ امتِ مسلمہ میں اتحاد، مساوات اور بھائی چارے کو فروغ دیتا ہے۔ امیر و غریب ایک ہی کیفیت سے گزرتے ہیں، ایک ہی وقت میں سحری و افطار کرتے ہیں اور ایک ہی مقصد کے لیے عبادت کرتے ہیں۔ اس سے دلوں میں نرمی، ہمدردی اور ایثار کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ اگر رمضان کے بعد بھی یہ جذبہ برقرار رہے تو معاشرے سے ناانصافی، ظلم اور خود غرضی کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔
اخلاقی طور پر روزہ انسان کو ضبطِ نفس، صبر، برداشت اور حلم سکھاتا ہے۔ وہ اپنی زبان، آنکھ، کان اور دل کی حفاظت کرنا سیکھتا ہے۔ یہی اخلاقی پاکیزگی ایک صالح معاشرے کی بنیاد بنتی ہے۔ اگر روزہ ہمیں جھوٹ، غیبت، حسد اور بغض سے نہ روک سکے تو ہمیں اپنے روزے کی روح پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔
روحانی پہلو سے دیکھا جائے تو روزہ بندے اور رب کے درمیان تعلق کو مضبوط کرتا ہے۔ دعا، تلاوتِ قرآن، ذکر و استغفار اور شب بیداری کے ذریعے انسان اللہ کے مزید قریب ہو جاتا ہے۔ یہی قربِ الٰہی روزے کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔
آخر میں یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ روزہ صرف بھوک اور پیاس کا نام نہیں بلکہ یہ تقویٰ، اصلاحِ نفس اور اللہ کی رضا حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔ اگر ہم رمضان کے بعد بھی اپنی زندگی کو اسی نظم و ضبط، صبر اور تقویٰ کے ساتھ جاری رکھیں تو یہی روزہ ہماری دنیا و آخرت کی کامیابی کا سبب بن سکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں روزے کی حقیقی روح کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اور ہمارے روزوں کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔ آمین۔









آپ کا تبصرہ