بدھ 18 فروری 2026 - 21:01
ماه رمضان یک عظیم نعمت

حوزہ/ ماہِ رمضان میں انسان کو اپنے تمام اعضاء کو گناہوں سے بچا کر، اخلاص، توبہ، عبادت، شب بیداری اور قرآن پر عمل کے ذریعے خودسازی کرنی چاہیے، تاکہ اس مہینے کے اثرات رمضان کے بعد بھی باقی رہیں اور اگلے رمضان تک انسان کی روح میں تازگی قائم رہے۔

تحریر: مولانا سید علی نقوی امروہوی

حوزہ نیوز ایجنسی | رمضان لغت میں «رمضاء» سے ماخوذ ہے جس کے معنی سخت گرمی اور شدتِ حرارت کے ہیں، اور اس کا مفہوم جلانا ہے۔ چونکہ اس مہینے میں انسان کے گناہ بخش دیے جاتے ہیں، اس لیے اس مبارک مہینے کو رمضان کہا گیا ہے۔

رسولِ اکرم ﷺ فرماتے ہیں : «اِنَّما سُمِّیَ الرَّمَضانُ لِاَنَّهُ یُرمِضُ الذُّنوبَ»(بحارالانوار ج55، ص341) یعنی ماہِ رمضان کو اس نام سے اس لیے پکارا گیا ہے کہ یہ گناہوں کو جلا دیتا ہے۔

رمضان قمری مہینوں میں سے ایک مہینہ ہے اور واحد قمری مہینہ ہے جس کا نام قرآنِ کریم میں آیا ہے، نیز یہ ان چار مہینوں میں سے ایک ہے جن میں اللہ تعالیٰ نے جنگ کو حرام قرار دیا ہے (سوائے دفاع کی صورت کے)۔

اسی مہینے میں آسمانی کتابیں نازل ہوئیں: قرآنِ کریم، انجیل، تورات، صحف اور زبور۔

روایات میں اس مہینے کو اللہ کا مہینہ اور امتِ رسول ﷺ کی ضیافت کہا گیا ہے، اور اللہ اس مہینے میں اپنے بندوں کی انتہائی کرم نوازی اور مہربانی کے ساتھ پذیرائی فرماتا ہے۔

رسولِ اکرم ﷺ فرماتے ہیں۔ «ماہِ رجب اللہ کا مہینہ ہے، ماہِ شعبان میرا مہینہ ہے اور ماہِ رمضان میری امت کا مہینہ ہے»

اور جو شخص پورا مہینہ روزے رکھے، اللہ پر لازم ہے کہ اس کے تمام گناہ معاف فرما دے، اس کی بقیہ عمر کی ضمانت دے اور قیامت کے دن کی پیاس اور سخت عطش سے اسے محفوظ رکھے۔ ماہِ رمضان مسلمانوں میں غیر معمولی احترام، اہمیت اور بلند مقام رکھتا ہے اور یہ ان کی روحانی سلوک کا مہینہ ہے۔ اہلِ ایمان ہر سال رجب اور شعبان میں روحانی تیاری کر کے اس بابرکت اور عظیم مہینے کے استقبال کے لیے خود کو آمادہ کرتے ہیں، اور جیسے ہی یہ مہینہ آتا ہے، شوق و جذبے کے ساتھ محتاجوں کو کھانا اور افطار کراتے ہیں، شب بیداری، عبادت، تلاوتِ قرآن، دعا، استغفار، صدقہ، روزہ اور دیگر اعمال کے ذریعے اپنی روح و جان کو فیضِ الٰہی کے سرچشمے سے سیراب کرتے ہیں۔

فضیلت ماہِ رمضان

1۔ سال کا سب سے افضل مہینہ

ماہِ رمضان قرآنِ کریم کے نزول اور اپنی منفرد خصوصیات کی بنا پر تمام قمری مہینوں میں افضل ہے۔

قرآنِ کریم میں ذکر ہوا ہے: «ماہِ رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا، جو انسانوں کے لیے ہدایت ہے»(بقره آیه۱۸۵)

رسولِ اکرم ﷺ فرماتے ہیں: "اے لوگو! اللہ کا مہینہ تمہاری طرف برکت، رحمت اور مغفرت کے ساتھ آ گیا ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جو اللہ کے نزدیک تمام مہینوں سے افضل ہے؛ اس کے دن سب دنوں سے بہتر، اس کی راتیں سب راتوں سے افضل اور اس کے اوقات تمام اوقات سے برتر ہیں۔ یہ وہ مہینہ ہے جس میں تمہیں اللہ کی مہمانی کی دعوت دی گئی ہے اور تم اس کے لطف و کرم کے مستحق قرار پائے ہو۔ اس مہینے میں تمہاری سانسیں تسبیح ہیں، تمہاری نیند عبادت ہے، تمہارے اعمال قبول ہیں اور تمہاری دعائیں مستجاب ہوتی ہیں… یہ وہ بہترین اوقات ہیں جن میں اللہ اپنے بندوں پر نظرِ رحمت ڈالتا ہے۔"

2۔ آسمانی کتابوں کا نزول

تمام بڑی آسمانی کتابیں—قرآنِ کریم، تورات، انجیل، زبور اور صحف—اسی مہینے میں نازل ہوئیں۔

امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں: "پورا قرآن ماہِ رمضان میں بیت المعمور پر نازل ہوا، پھر بیس برس میں رسولِ اکرم ﷺ پر نازل کیا گیا۔ صحفِ ابراہیم رمضان کی پہلی رات، تورات چھ رمضان، انجیل تیرہ رمضان اور زبور اٹھارہ رمضان کو نازل ہوئی۔

3۔ روزے کی توفیق

اللہ نے اس مہینے میں اپنے بندوں کو روزے کی توفیق عطا فرمائی ہے: «پس جو شخص اس مہینے کو پائے، وہ روزہ رکھے» انسان جسمانی پہلو کے ساتھ ساتھ روحانی و معنوی بُعد بھی رکھتا ہے، اور روحانی کمال کے لیے تقویٰ اور نفس پر قابو ضروری ہے۔ روزہ نفس کو مہار کرنے اور روح کو پاکیزہ بنانے کا مؤثر ذریعہ ہے۔ قرآن فرماتا ہے: «اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے، جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے، تاکہ تم پرہیزگار بنو»

روزے کے چند فوائد: ۔ تقویٰ، پرہیزگاری اور اخلاص

حضرت فاطمہؑ فرماتی ہیں: "اللہ نے اخلاص کو مضبوط کرنے کے لیے روزے کو فرض کیا۔ "امام صادقؑ فرماتے ہیں کہ اللہ نے فرمایا: "روزہ میرے لیے ہے اور اس کی جزا میں خود دیتا ہوں۔"

ب۔ دنیاوی و اخروی عذاب سے حفاظت: رسولِ اکرم ﷺ فرماتے ہیں: "روزہ آگ کے مقابل ڈھال ہے۔

امام علیؑ فرماتے ہیں: "روزہ پیٹ کو کمزور، گوشت کو گھٹاتا اور انسان کو دوزخ کی آگ سے دور کرتا ہے ۔

ج۔ جسمانی و روحانی سکون:رسول ﷺ فرماتے ہیں: "روزہ رکھو تاکہ صحت مند رہو۔ امام محمد باقرؑ فرماتے ہیں: "روزہ اور حج دلوں کو سکون بخشتے ہیں۔

د۔ شیطان سے حفاظت:رسول ﷺ نے فرمایا: "روزہ شیطان کا چہرہ سیاہ کرتا ہے اور صدقہ اس کی کمر توڑ دیتا ہے۔

ہ۔ غریب و امیر میں مساوات:امام حسن عسکریؑ فرماتے ہیں: "روزہ اس لیے فرض کیا گیا تاکہ مالدار بھوک کا درد سمجھے اور محتاج کی مدد کرے۔

و۔ اخلاقی فضائل کی احیاء: امام رضاؑ فرماتے ہیں کہ روزہ انسان کو عاجزی، صبر، اخلاص اور خدا کی رضا کا طالب بناتا ہے، اور اسے گناہوں سے روکتا ہے۔

4۔ شبِ قدر:

شبِ قدر ہزار مہینوں سے افضل ہے، اس رات فرشتے نازل ہوتے ہیں اور ایک سال کی تقدیر کو معیین کرتے ہیں۔

امام صادقؑ فرماتے ہیں: "انیسویں رات تقدیر لکھی جاتی ہے، اکیسویں کو تحکیم کی جاتی ہے اور تیئسویں کو نافذ کی جاتی ہے۔

5۔ قرآن کی بہار

چونکہ قرآن رمضان میں نازل ہوا، اس لیے اس مہینے کو قرآن کی بہار کہا گیا ہے۔

امام باقرؑ فرماتے ہیں: "ہر چیز کی ایک بہار ہوتی ہے، اور قرآن کی بہار ماہِ رمضان ہے۔"

ایک اہم نکتہ

یہ تمام فضائل انہی لوگوں کے لیے ہیں جو روزے کی حقیقت کو سمجھیں اور اس کے تقاضوں پر عمل کریں۔ صرف بھوکا پیاسا رہنا کافی نہیں۔ رسولِ اکرم ﷺ فرماتے ہیں: "کتنے ہی روزہ دار ہیں جنہیں روزے سے سوائے بھوک کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔"

امام زین العابدینؑ دعا میں عرض کرتے ہیں کہ: "یا اللہ! روزے کے ذریعے ہمیں گناہوں سے بچا، ہمارے اعضاء کو نافرمانی سے محفوظ رکھ اور ہمیں اپنی رضا کے کاموں میں لگا دے۔"

لہٰذا ماہِ رمضان میں انسان کو اپنے تمام اعضاء کو گناہوں سے بچا کر، اخلاص، توبہ، عبادت، شب بیداری اور قرآن پر عمل کے ذریعے خودسازی کرنی چاہیے، تاکہ اس مہینے کے اثرات رمضان کے بعد بھی باقی رہیں اور اگلے رمضان تک انسان کی روح میں تازگی قائم رہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha