بدھ 18 فروری 2026 - 22:47
ماہ رمضان؛ قرآن کا سفر لفظوں سے عمل تک

حوزہ/ رمضان درحقیقت صرف ایک مہینہ نہیں بلکہ انسان کے باطن کا امتحان اور اس کی روح کا سفر ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ اپنے بندے عمل کی دعوت دیتا ہے۔ قرآن صرف تلاوت کے لیے نہیں نازل ہوا بلکہ اس لیے نازل ہوا کہ وہ ہماری سوچ، ہمارے فیصلوں اور ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن جائے

تحریر: مزمل عباس انقلابی

حوزہ نیوز ایجنسی | ماہ رمضان "شھر اللہ" یعنی اللہ کا مہینہ ہے۔ اس مہینے میں خدا کی طرف سے برکتوں، رحمتوں اور بخششوں کا نزول ہوتا ہے۔ یہی وہ مہینہ ہے یہی وہ مہینہ ہے جس میں اللہ رب العزت کی طرف سے اپنے بندوں کو معنوی نعمات سے فیضیاب ہونے اور ان سے استفادہ کی کھلی دعوت جاتی ہے۔

خدا کی جانب توجہ، اعمال صالح کی جانب رجحان اور روزے کی فرضیت کی بنا پر یہ مہینہ تزکیہ و تہذیب نفس اور گناہوں سے چھٹکارے اور نجات کا مہینہ ہے۔

احادیث اور روایات میں اس مہینے کو قران کی بہار قرار دیا گیا ہے۔ لوگ اس مہینے میں قران کی جانب متوجہ ہوتے ہیں۔ سال کے دوسرے دنوں کے مقابلے میں ماہ رمضان کے ایام میں قراںٔت قرآن کا زیادہ اہتمام ہوتا ہے۔

پھر اس مہینے میں روزے فرض کر کے اللہ تعالی نے اس مہینے کو مزید امتیاز دیا ہے اور دوسرے اسباب کے ساتھ ساتھ تزکیہ نفس، روحانی باریدگی اور معنوی پاکیزگی کے لیے روزے کی صورت میں ایک اور جامع دستور عمل فراہم کیا ہے۔

ماہ رمضان کا معنی و مفہوم:

عربی لغت کے ماہرین کی تشریحات کے مطابق رمضان “ لفظ رمض“ سے لیا گیا ہے اور انہوں نے رمض“ کے معنی بیان کرتے ہوئے دو مفاہیم کا تذکرہ کیا ہے۔

1۔العین نامی عربی لغت کے مؤلف خلیل بن احمد کے بقول : ” رمض“ کے معنی موسم خزاں میں ہونے والی بارش ہے جو سطح زمین سے گرد و غبار اور گندگی کو دھوڈالتی ہے۔

اس بنیاد پر اس مہینے کو رمضان کہنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ انسان کی روح کو اور اس کے نفس کو آلودگیوں اور نجاستوں سے صاف اور پاک کر دیتا ہے۔

2۔طریحی نے "مجمع البحرین میں اور احمد بن محمد نے ” مصباح المنیر “ میں لفظ رمضان کو رمض “ اور رمضا“ سے ماخوذ قرار دیا ہے۔ جس کے معنی وہ گرم اور سلگتی ہوئی ریت اور پتھر ہیں جو سورج کی براہ راست تپش سے جھلنے لگتے ہیں۔

طریحی نے مجمع البحرین میں کہا ہے کہ : رَمَضَتْ قَدَمُهُ بِالْحَرِّ احْتِرُقَتْ رَمَضَتْ قَدَمُہ یعنی اس کے پاؤں جل گئے )

لہذا اس ماہ مبارک کو رمضان کہنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ مہینہ اپنی خصوصیات کی وجہ سے گناہ اور گمراہیوں کے اسباب ختم کر کے انسان کے راستے سے کمال کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرتا ہے اور اس کے اخلاق کی اصلاح اور پاکیزگی کیلئے مواقع فراہم کرتا ہے۔

مخشری کہتے ہیں کہ : اس ماہ کو رمضان اس لئے کہا گیا ہے کہ اس مہینے میں گناہ جل کرختم ہو جاتے ہیں۔ ( تفسیر کشاف سورہ بقرہ کی آیت 158 کی تفسیر میں )

دوسری متعدد احادیث میں بھی ماہ رمضان کو "شہر اللہ“ کہا گیا ہے۔

اس طرح یہ نتیجہ حاصل ہوتا ہے کہ دوسرے مہینوں پر اس مہینے کی خاص ظاہری اور باطنی فضیلت کی وجہ سے اسے رمضان کا نام دیا گیا ہے۔ یہ مہینہ گناہ کے اسباب و عوامل کے خاتمے اور ان سے چھٹکارے کا مہینہ ہے۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ یہ "شہر اللہ" اللہ کا مہینہ ہے۔ وہ مہینہ جسے خدا وند عالم نے اپنے آپ سے نسبت دی ہے اور اسے اپنا نام دیا ہے۔

احادیث کی روشنی میں فضیلت ماہِ رمضان:

پیغمبر اسلام اور ائمہ معصومین کے کلام میں مختلف تعبیروں کے ذریعے ماہ رمضان کی بزرگی اور فضیلت کو بیان کیا گیا ہے۔ ان تعبیروں میں سے ہر تعبیر دوسرے مہینوں پر اس مہینے کی عظمت کی نشاندہی کرتی ہے۔

1۔پیغمبر اسلام نے ماہ شعبان کے آخری جمعے کو جبکہ ماہ رمضان کی آمد آمد تھی، مسجد نبوی میں مہینے کی فضیلت اور شان میں ایک خطبہ ارشاد فرمایا۔ اس خطبے کے ہر حصے میں ماہ رمضان کی کسی فضیلت کو بیان کیا گیا ہے۔ کیونکہ یہ کافی طویل خطبہ ہے اس لئے اس کا صرف ابتدائی حصہ یہاں نقل کر رہا ہوں۔

أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ قَدْ أَقْبَلَ إِلَيْكُمُ شَهْرُ اللَّهِ بِالْبَرَكَةِ وَالرَّحْمَةِ وَالْمَغْفِرَةِ شَهْرٌ هُوَ عِنْدَ اللَّهِ أَفْضَلُ الشُّهُورِ أَيَّامُهُ أَفْضَلُ الأَيَّامِ ولياليهِ أَفْضَلُ اللَّيالي و ساعاتُهُ أَفْضَلُ السَّاعَاتِ هُوَ شَهْرُ دُعِيتُمْ فِيهِ إِلَى ضِيَافَةِ اللَّهِ وَ جُعِلْتُمْ فِيهِ مَنْ أَهْلِ كَرَامَةِ اللَّهِ الْفَاسُكُمْ فِيهِ تَسْبِيحٌ، وَنَوْمُكُمْ فِيهِ عِبَادَةً وَ عَمَلُكُمْ فِيهِ مَقْبُولٌ وَ دُعَاؤُكُمْ فِيهِ مُسْتَجَابٍ .

اے لوگو! بے شک خدا کا مہینہ ( ماہِ رمضان ) اپنی برکت رحمت اور مغفرت لئے تمہاری طرف رواں دواں ہے۔ یہ مہینہ خدا کے نزدیک بہترین مہینہ ہے اس کے دن بہترین دن ہیں اس کی راتیں بہترین راتیں ہیں، اس کی ساعتیں بہترین ساعتیں ہیں۔ یہ وہ مہینہ ہے جس میں تمہیں خدا کے یہاں ضیافت پر مدعو کیا گیا ہے اور تم اس مہینے میں خدا کی کرامت کے اہل ہوئے ہو۔

اس مہینے میں تمہاری سانسیں تسبیح کا ثواب رکھتی ہیں اور تمہارا سونا عبادت کا اجر رکھتا ہے اس مہینے میں تمہارے اعمال درگاہ الہی میں مقبول اور تمہاری دعائیں قبول ہیں ۔ (عیون اخبار الرضا - ج 1 ص 295)

خطبے کے اس حصے میں پایا جانے والا قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ ماہ رمضان میں مومن انسان کا سانس لینا بھی خدا کی تسبیح کا ثواب رکھتا ہے۔ حالانکہ سانس کے ذریعے انسانی بدن کے اندر کی آلودہ ہوا خارج ہوتی ہے۔ اگر یہ ہوا خارج نہ ہو تو انسان کا دم گھٹ جائے اور اسکی موت واقع ہو جائے۔ اس کے باوجود یہی سانس ماہ رمضان میں خدا کی تسبیح کا ثواب رکھتی ہے۔ اس طرح یہاں اس مہینے میں انسان کا سونا بھی عبادت قرار دیا گیا ہے۔ جبکہ صورت یہ ہے کہ عبادت کے لئے نیت اور ہوش و حواس کا ہونا ضروری ہے نیز اسے اختیار کے ساتھ انجام دیا جانا چاہئے جبکہ نیند کے عالم میں نیت ہوش اور اختیار و ارادے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا پھر بھی ماہ رمضان میں یہی نیند درگاہ الہی میں عبادت تسلیم کی جاتی ہے۔

2۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ایک کلام میں فرمایا ہے :

مُحَمَّدٌ في عِبَادِ اللَّهِ كَشَهْرِ رَمَضَانَ فِي الشُّهُورِ .

بندگان خدا کے درمیان محمد کی حیثیت ایسی ہی ہے، جیسی مہینوں کے درمیان ماہ رمضان کی حیثیت " ( بحار الانوار ج 37 - ص 53)

3۔نیز آنحضرت ہی کا ارشاد ہے:

"إِنَّ اللَّهَ إِخْتارُ مِنَ الأَيَّامِ الْجُمُعَةَ وَ مِنَ الشُّهُورِ شَهْرَ رَمَضَانَ وَ مِنَ اللَّيَالِي لَيْلَةَ الْقَدْرِ".

بے شک خدا نے دنوں میں سے جمعے کے دن کو منتخب کیا ہے، مہینوں میں سے ماہ رمضان کو چتا ہے اور شبوں میں سے شب قدر کا انتخاب کیا ہے۔"

( بحار الانوار ج 35 - ص 372 اور 296)

4۔حضرت سلمان فارسی کہتے ہیں کہ : پیغمبر اسلام نے اپنی ایک گفتگو کے دوران فرمایا:

جبرئیل مجھ پر نازل ہوئے اور کہا کہ خدا وند عالم فرماتا ہے:

"شَهْرُ رَمَضانَ سَيِّدُ الشُّهُورِ وَ لَيْلَةُ الْقَدْرِ سَيِّدَةُ اللَّيَالِي وَالْفِرْدَوْسُ سَيِّدُ الْجَنانَ" .........

ماہ رمضان مہینوں کا سردار، شب قدر شبوں کی سردار ہے اور فردوس جنت کے باغات کی سردار ہے۔ ( بحار الانوار ج 40- ص 54)

ایک دوسری گفتگو میں آپ نے فرمایا:

جمعہ دنوں کا سردار، رمضان مہینوں کا سردار، اسرائیل فرشتوں کا سردار، آدم انسانوں کے سردار، میں پیغمبروں کا سردار اور علی اوصیاء کے سردار ہیں۔

(بحار الانوار ج 40- ص 47)

5۔۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ شعبانیہ کے ایک حصے میں ماہ مبارک رمضان کی شان میں فرمایا:

أَنْ أَبْوابَ الْجَنانِ في هَذَا الشَّهْرِ مُفَتِّحَةً فَاسْتَلُوا رَبَّكُمْ أَنْ لَا يُغْلِقَها عَلَيْكُمْ وَأَبْوابَ التيرانِ مُغَلَقَةٌ فَاسْتَلُوا رَبَّكُمْ أَن لا يَفْتَحَهَا عَلَيْكُمْ وَالشَّيَاطِينَ مَغْلُولَةٌ فَاسْتَلُوا رَبَّكُمْ أَنْ لَا يُسَلِّطَهَا عَلَيْكُمْ ."

" بے شک اس مہینے میں جنت کے دروازے کھلے ہوئے ہیں خدا سے دعا کرو کہ ان دروازوں کو تمہارے اوپر بند نہ کرے ۔ اور اس مہینے میں جہنم کے دروازے بند ہیں خدا سے دعا کرو کہ ان دروازوں کو تمہارے لئے نہ کھولے۔ اور شیطانوں کو زنجیروں میں جکڑ دیا گیا ہے پروردگار سے دعا کرو کہ انہیں تم پر مسلط نہ کرے۔ (عیون اخبار الرضا - ج 1 ص 295)

ماه رمضان میں نور قرآن کی تابانی:

ماہ رمضان، ماه نزول قرآن، ماه خدا اور ماہ تزکیہ و تہذیب نفس ہے اور قرآن مجید اسی مہینے میں واقع شب قدر میں قلب پیغمبر پر نازل ہوا ہے۔ لہذا اس سے یہ نتیجہ اخذ ہوا کہ ماہ رمضان، قرآنی نور کی تابانی اور قرآن کریم سے انس و رغبت کا مہینہ ہے۔

روزہ دار اس مہینے میں خدا کے مہمان ہوتے ہیں اور قرآن کریم کے بابرکت دستر خوان کے گرد بیٹھتے ہیں۔ لہذا انہیں اس ماہ میں قرآن کریم کی تلاوت سے خاص رغبت کا ثبوت دینا چاہئے اور آیات قرآنی میں غور و فکر اور قرآنی مفاہیم سے فکری اور عملی استفادے کے ذریعے اپنے معنوی رشد و کمال میں اضافہ کرنا چاہئے۔

قرآن کریم سے اُنس در حقیقت تین بنیادوں سے تشکیل پاتا ہے۔ یہ بنیادیں درج ذیل ہیں:

▪️ا۔ آیات قرآن کو پڑھنا۔

▪️۲۔ قرآن کی معرفت اور اس میں غور و فکر۔

▪️۳۔ قرآنی احکام اور فرامین پر عمل۔

وجودات؛

ہر چیز کے چار وجود ہوتے ہیں: وجود ذہنی، وجود لفظی، موجود تحریری، وجود عینی و خارجی۔

مثلا اگر انسان پیاسا ہو تو کتنا ہی وہ زبان سے پانی، پانی، پانی کہتا ر ہے اس کی پیاس نہیں بجے گی۔ اور کتناہی وہ پانی، پانی لکھتا رہے اس کی تشنگی جوں کی توں رہے گی۔ اور کتناہی وہ ٹھنڈے اور میٹھے پانی کا خیال اپنے ذہن میں لائے پیاسا کا پیاسا ہی رہے گا۔ صرف اسی صورت میں اس کی تشنگی ختم ہوگی اس کی پیاس بجھے گی جب وہ واقعی پانی کی جستجو کرے اور اس کا گلاس اٹھا کر پی جائے۔

بالکل اسی طرح قرآن کریم کے الفاظ، تحریر اور اس کی آیات کو ذہن میں لانا نجات و کامیابی کا باعث نہیں بن سکتا، محض یہ عمل انسان کی معنوی ضروریات کی تسکین نہیں کر سکتا ۔ بلکہ جو چیز باعث نجات ہوگی وہ قرآن سے واقعی وابستگی ہے۔ یعنی اپنی زندگی کو قرآنی تعلیمات کے سانچے میں ڈھالنا اپنے اعمال کو قرآن کے مطابق انجام دینا زندگی کے تمام میدانوں میں قرآنی احکام و فرامین کا نفاذ کرنا۔ پہلے تین وجود (ذہنی، لفظی اور تحریری) اس وقت قابل قدر ہیں جب وہ قرآن سے شناسائی اور اس پر عمل کا مقدمہ ہوں ۔

مثلاً ایک ویٹ لفٹر کو ذہن میں رکھئے۔ وہ شروع شروع میں صرف بیس کلو وزن اٹھا پاتا ہے۔ لیکن مسلسل مشق اور بار بار پریکٹس کے نتیجے میں وہ اپنے اندر دو سو کلو تک وزن اٹھانے کی صلاحیت پیدا کر لیتا ہے۔ جی ہاں عمل انسان میں اتنی قوت پیدا کر دیتا ہے۔

ام عقیل کا واقعہ؛

تاریخ میں ام عقیل نامی ایک بادیہ شین خاتون کا ذکر آیا ہے۔ اس خاتون نے دل کی گہرائیوں سے اسلام قبول کیا اور سچے ایمان کے ساتھ اس پر عمل پیرا ہوئیں۔ ایک دن ان کے یہاں دو مہمان آئے ۔ مہمانوں کی خاطر تواضع کے دوران اچانک انہیں پتا چلا کہ ان کا بچہ اونٹوں کے نزدیک کھیل رہا تھا کہ اونٹوں نے اسے کچل کر مار دیا۔ ام عقیل نے مہمانوں کو اس سانحے سے مطلع کئے بغیر اس واقعے کی خبر لانے والے سے درخواست کی کہ وہ مہمانوں کی خاطر مدارت میں ان کی مدد کرے۔ کھانا پکنے کے بعد جب مہمان اسے تناول کر چکے تب انہیں ام عقیل کے بیٹے کی موت کا پتا چلا۔ انہیں اس عورت کے صبر، حوصلے اور بلند ہمتی پر بڑا تعجب ہوا۔مہمانوں کے چلے جانے کے بعد چند مسلمان ام عقیل کے پاس تعزیت و تسلیت کی غرض سے آئے۔ ام عقیل نے ان سے کہا: کیا تم میں آیات قرآنی جانے والا کوئی شخص موجود ہے جو تلاوت قرآن کے ذریعے میرے دل کو تسلی دے؟ حاضرین میں سے ایک شخص نے کہا: ہاں میں ہوں۔ اور پھر اس نے درج ذیل آیات کی تلاوت کی:

"وَبَشِّرِ الصَّبِرِينَ الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُّصِيبَةٌ قَالُوْا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ أُولَئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ رَحْمَةٌ وَ أُولَئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ".

اور آپ ان صبر کرنے والوں کو بشارت دے دیجئے، جو مصیبت پڑنے کے بعد یہ کہتے ہیں کہ ہم اللہ ہی کے لئے ہیں اور اس کی بارگاہ میں واپس جانے والے ہیں ان (لوگوں) کے لئے پروردگار کی طرف سے صلوات اور رحمت ہے اور یہی ہدایت یافتہ ہیں ۔ ( سورہ بقرہ 2۔ آیت 155 تا 157)

ان مسلمانوں کو رخصت کرنے کے بعد ام عقیل نے وضو کیا اور دست و دعا اٹھا کے بارگاہ الہی میں عرض کیا۔ بارالہا! تو نے صبر کا جو حکم دیا تھا میں نے اسے انجام دیا اب تو (صبر کی جزا کے سلسلے میں) اپنا وعدہ پورا فرما۔ یوں اس خاتون نے قرآن سے سبق لیا اور سخت ترین حالات میں اس پر عمل کیا، نتیجے کے طور پر سکون واطمینان کی دولت حاصل کی۔

نتیجہ

رمضان درحقیقت صرف ایک مہینہ نہیں بلکہ انسان کے باطن کا امتحان اور اس کی روح کا سفر ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ اپنے بندے عمل کی دعوت دیتا ہے۔ قرآن صرف تلاوت کے لیے نہیں نازل ہوا بلکہ اس لیے نازل ہوا کہ وہ ہماری سوچ، ہمارے فیصلوں اور ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن جائے۔ اگر ہم نے رمضان کو صرف روزہ رکھنے، افطار کرنے اور چند مخصوص عبادات تک محدود رکھا تو ہم نے اس مہینے کے اصل پیغام کو مکمل طور پر نہیں سمجھا۔رمضان ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ نفس کی خواہشات کو قابو میں رکھ کر انسان اپنے اندر تقویٰ کی روشنی پیدا کر سکتا ہے۔ یہ مہینہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ قرآن کے الفاظ تب تک زندہ نہیں ہوتے جب تک وہ ہمارے کردار میں ظاہر نہ ہوں۔ تلاوت پہلا قدم ہے، غور و فکر دوسرا اور عمل اس کا حقیقی ثمر ہے۔ جب تک قرآن ہماری زبان سے نکل کر ہمارے اعمال تک نہیں پہنچتا، تب تک ہمارا سفر ادھورا رہتا ہے۔ لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس بابرکت مہینے کو اپنی اصلاح، اپنے باطن کی صفائی اور اپنی زندگی کو قرآنی سانچے میں ڈھالنے کا موقع سمجھیں۔ اگر رمضان کے اختتام پر ہمارے اندر صبر، تقویٰ، سچائی اور اللہ سے قربت پہلے سے زیادہ پیدا ہو جائے تو یہی اس مہینے کی حقیقی کامیابی ہے۔ ورنہ وقت گزر جائے گا، دن بدل جائیں گے، مگر ہم وہیں کے وہیں رہ جائیں گے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha