تحریر: مولانا سید کرامت حسین شعور جعفری
حوزہ نیوز ایجنسی I ہم عموماً عبادت کو اعمال کی ایک فہرست سمجھ لیتے ہیں: نماز، روزہ، دعا، تلاوت۔ حالانکہ اگر عبادت محض حرکات و الفاظ کا مجموعہ ہوتی تو قرآن نیت، اخلاص اور خشوع پر اس درجہ اصرار نہ کرتا۔ حقیقت یہ ہے کہ عمل عبادت کا جسم ہے، نیت اس کی جان، اور شعور اس کی روح۔ ان میں سے کوئی ایک بھی کمزور پڑ جائے تو عبادت اپنی تاثیر کھو بیٹھتی ہے۔
رمضان سب سے پہلے ہمیں نیت کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ روزہ ایک ایسا عمل ہے جس میں دکھاوے کی گنجائش تقریباً نہیں ہوتی۔ انسان دن بھر بھوکا رہ سکتا ہے، مگر روزہ دار ہونے کا جھوٹا دعویٰ آسان نہیں۔ اسی لیے حدیث میں روزے کو “خدا کے لیے خاص” قرار دیا گیا ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ باقی عبادات خدا کے لیے نہیں، بلکہ یہ کہ روزہ اندر سے اٹھنے والی اطاعت ہے—جس کا اصل گواہ انسان کا اپنا ضمیر ہوتا ہے۔
نیت عبادت کو عادت سے الگ کرتی ہے۔ ایک ہی عمل—مثلاً بھوکا رہنا—کبھی مجبوری ہوتا ہے اور کبھی عبادت؛ فرق صرف نیت کا ہے۔ اسی بنا پر فقہ روزے کے آغاز میں نیت کو شرط قرار دیتی ہے، اور اخلاق روزے کے دوران نیت کی حفاظت کا مطالبہ کرتا ہے۔ اگر نیت راستے میں بدل جائے—ریا، غرور یا محض رسم بن جائے—تو عمل تو باقی رہتا ہے، عبادت نہیں رہتی۔
لیکن نیت کے بعد ایک اور درجہ آتا ہے: شعور۔ شعور یہ ہے کہ انسان جانتا ہو وہ کیا کر رہا ہے اور کیوں کر رہا ہے۔ بہت سی عبادات اسی لیے بے اثر ہو جاتی ہیں کہ ہم ان کے مفہوم سے غافل ہوتے ہیں۔ دعا مانگتے ہیں مگر نہیں جانتے کیا مانگ رہے ہیں؛ تلاوت کرتے ہیں مگر پیغام سے بے خبر رہتے ہیں۔ ایسی عبادت زبان پر تو رہتی ہے، دل تک نہیں پہنچتی۔
رمضان ہمیں عبادت کے اسی غفلت زدہ انداز سے باہر نکالنے آتا ہے۔ سحری کی خاموشی، افطار سے پہلے کی دعا، اور شب کی تنہائی—یہ سب شعور کو جگانے کے مواقع ہیں۔ یہی لمحات انسان کو یاد دلاتے ہیں کہ عبادت صرف ادا نہیں کی جاتی، محسوس بھی کی جاتی ہے۔
اسی لیے روایات میں کم عمل کے ساتھ زیادہ شعور کو ترجیح دی گئی ہے۔ دل سے نکلی ہوئی مختصر دعا، اس طویل دعا سے بہتر ہے جو زبان ادا کرے اور دل کہیں اور بھٹکتا رہے۔ عبادت کا مقصد خدا کو مطلع کرنا نہیں—وہ تو سب کچھ پہلے ہی جانتا ہے—بلکہ انسان کو بیدار کرنا ہے۔
رمضان میں عبادت کی ایک خاص کیفیت یہ بھی ہے کہ وہ انسان کو خود احتسابی کی طرف لے جاتی ہے۔ دن میں بار بار روزے کا خیال رکھنا، لاشعوری طور پر اعمال پر نظر رکھنے کی عادت پیدا کر دیتا ہے۔ یوں عبادت اخلاق سے جڑ جاتی ہے—اور یہی اس کا اصل کمال ہے۔
اگر عبادت انسان کو نرم دل، سچا، بردبار اور ذمہ دار نہ بنائے تو وہ محض ایک رسمی مشق بن کر رہ جاتی ہے۔ اسی لیے اولیائے دین نے ہمیشہ عبادت کو کردار سے جوڑا ہے۔ عبادت کا معیار یہ نہیں کہ کتنی پڑھی گئی، بلکہ یہ ہے کہ انسان کتنا بدلا۔
رمضان ہمیں یہی جامع سبق دیتا ہے کہ:
عمل، نیت کے بغیر بے روح ہے
نیت، شعور کے بغیر کمزور ہے
اور شعور کے بغیر عبادت بے اثر ہے
عملی نکتہ
آج ہر عبادت سے پہلے ایک لمحہ رک کر خود سے یہ سوال کریں:
میں یہ عمل کیوں کر رہا ہوں، اور اس کا اثر میرے کردار پر کیا پڑ رہا ہے؟
یہی سوال عبادت کو رسم سے نکال کر ایک حقیقی روحانی سفر بنا دیتا ہے۔









آپ کا تبصرہ