تحریر: مولانا سید کرامت حسین شعور جعفری
حوزہ نیوز ایجنسی I اگر روزہ صرف بھوک اور پیاس تک محدود رہے تو وہ جسم کو تو نڈھال کر دیتا ہے، مگر دل اور روح کو بیدار نہیں کرتا۔ اصل روزہ وہ ہے جو انسان کے ظاہر سے اتر کر اس کے باطن تک پہنچ جائے، جو عادتوں کو بدلے اور سوچ کو سنوار دے۔ رمضان اسی اندرونی تبدیلی کا مہینہ ہے۔ یہ مہینہ انسان کو یہ احساس دلاتا ہے کہ گناہ صرف ہاتھ اور پاؤں سے نہیں ہوتے، بلکہ زبان کی لغزش، آنکھ کی بے احتیاطی اور دل کی میل بھی انسان کو خدا سے دور کر دیتی ہے۔
اسی لیے رمضان انسان کے ان حصوں کی خاص تربیت کرتا ہے جو عام دنوں میں سب سے زیادہ آزمائش میں رہتے ہیں: زبان، آنکھ اور دل۔ جب زبان سنبھل جاتی ہے تو رشتے محفوظ ہو جاتے ہیں، جب آنکھ قابو میں آتی ہے تو دل کو سکون ملتا ہے، اور جب دل صاف ہو جاتا ہے تو عبادت بوجھ نہیں رہتی بلکہ راحت بن جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان تینوں کی اصلاح کے بغیر روزہ محض ایک رسم رہ جاتا ہے، اور جب یہ تینوں سنور جائیں تو روزہ انسان کی پوری زندگی کی تربیت بن جاتا ہے۔
زبان کا روزہ
زبان ایک چھوٹا سا عضو ہے، مگر اس کے اثرات بہت گہرے اور دیرپا ہوتے ہیں۔ ایک بے سوچا ہوا جملہ دل کو زخمی کر دیتا ہے، اور ایک نرم و سچی بات بکھرے ہوئے حوصلوں کو جوڑ دیتی ہے۔ اسی لیے زبان کا روزہ یہ نہیں کہ انسان بالکل خاموش ہو جائے یا بات کرنا چھوڑ دے، بلکہ یہ ہے کہ وہ بولنے سے پہلے سوچے، تولے اور پھر بات کرے۔ خاموشی اگر شعور کے ساتھ ہو تو عبادت بن جاتی ہے، اور گفتگو اگر حدود میں ہو تو صدقہ بن جاتی ہے۔
رمضان میں زبان کا روزہ یہ سکھاتا ہے کہ انسان جھوٹ، غیبت، الزام تراشی، طعنہ زنی اور سخت لہجے سے خود کو روکے۔ اصل امتحان اس وقت آتا ہے جب غصہ دل میں ابھرتا ہے اور زبان جواب دینا چاہتی ہے۔ ایسے میں بہت سے لوگ کہہ دیتے ہیں: “میں روزے سے ہوں!”
حالانکہ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب روزہ اخلاق کے اعتبار سے کمزور پڑنے لگتا ہے۔ زبان کا روزہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ عبادت کا مطلب غصہ نکالنے کی اجازت نہیں، بلکہ اپنے نفس پر قابو پانا ہے۔ جو شخص زبان کو سنبھال لیتا ہے، وہ دراصل اپنے پورے کردار کو سنوارنے کی بنیاد رکھ دیتا ہے
آنکھ کا روزہ
آنکھ دل کا دروازہ ہے۔ جو کچھ آنکھ دیکھتی ہے، وہی آہستہ آہستہ دل میں اترتا ہے، خیال بنتا ہے، پھر ارادہ بنتا ہے اور آخرکار عمل کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ اسی لیے نگاہ کی بے احتیاطی صرف ایک لمحے کی لغزش نہیں ہوتی، بلکہ وہ دل کے سکون کو بھی متاثر کر دیتی ہے۔ بہت سی بے چینیاں، حسرتیں اور بے مقصد خواہشیں اسی دروازے سے اندر داخل ہوتی ہیں۔
آنکھ کا روزہ صرف حرام مناظر سے بچنے کا نام نہیں، بلکہ ہر اس چیز سے نگاہ ہٹانے کا نام بھی ہے جو دل کو بے سکون کرے، انسان کو فضول سوچوں میں الجھا دے یا اس کے اصل مقصد سے دور کر دے۔ آج کے دور میں یہ امتحان پہلے سے زیادہ سخت ہے؛ اسکرینیں، تصاویر اور بے شمار مناظر ہر وقت انسان کو اپنی طرف کھینچتے ہیں۔ ایسے میں نگاہ کو قابو میں رکھنا ایک بڑی عبادت بن جاتا ہے۔
رمضان ہمیں یہ شعور دیتا ہے کہ ہر چیز دیکھنے کے قابل نہیں اور ہر منظر دل کے لیے مفید نہیں ہوتا۔ کچھ چیزیں وقتی طور پر دل کو خوش کر دیتی ہیں مگر بعد میں خلاء چھوڑ جاتی ہیں۔ جو آنکھ خدا کے لیے جھک جاتی ہے، جو فالتو اور نقصان دہ مناظر سے خود کو بچا لیتی ہے، وہی دل کو حقیقی سکون عطا کرتی ہے۔ نگاہ کی حفاظت دراصل دل کی حفاظت ہے، اور دل کی حفاظت ہی عبادت کی روح کو زندہ رکھتی ہے۔
دل کا روزہ
دل کا روزہ سب سے مشکل بھی ہے اور سب سے زیادہ اہم بھی، کیونکہ دل ہی انسان کے پورے وجود کا مرکز ہے۔ یہاں انسان کو صرف اپنے اعمال نہیں، بلکہ اپنے خیالات، ارادوں اور اندر اٹھنے والی کیفیات کو بھی سنبھالنا پڑتا ہے۔ حسد، کینہ، بدگمانی اور خود پسندی وہ خاموش بیماریاں ہیں جو نظر تو نہیں آتیں، مگر دل کو اندر ہی اندر کمزور کر دیتی ہیں۔ انسان بظاہر عبادت میں مشغول ہوتا ہے، مگر دل اگر ان آلودگیوں سے بھرا ہو تو عبادت کا اثر کم ہو جاتا ہے۔
دل کا روزہ یہ ہے کہ انسان دوسروں کی نعمتوں کو دیکھ کر جلنے کے بجائے شکر کرنا سیکھے، اختلاف کی صورت میں بھی نفرت کو دل میں جگہ نہ دے، اور اپنی عبادت کو برتری یا فخر کا ذریعہ نہ بنائے۔ یہ ایک خاموش جدوجہد ہے، جس میں کوئی تالی نہیں، کوئی تعریف نہیں، مگر یہی جدوجہد انسان کو اندر سے بدل دیتی ہے اور اس کے کردار میں نرمی اور اخلاص پیدا کرتی ہے۔
رمضان ہمیں یہ گہرا سبق دیتا ہے کہ اگر زبان سنبھل جائے تو جھگڑے خود بخود کم ہو جاتے ہیں، اگر آنکھ کی حفاظت ہو جائے تو دل محفوظ رہتا ہے، اور اگر دل صاف ہو جائے تو عبادت بوجھ نہیں رہتی بلکہ راحت اور خوشی بن جاتی ہے۔
یہ تینوں روزے ایک دوسرے سے مضبوطی سے جڑے ہوئے ہیں۔ زبان کی غلطی دل کو آلودہ کر دیتی ہے، آنکھ کی لغزش زبان کو بے قابو بنا دیتی ہے، اور دل کی گندگی دونوں کو متاثر کرتی ہے۔ رمضان اسی لیے آتا ہے کہ انسان ایک ساتھ زبان، آنکھ اور دل کی اصلاح کرے، اور اپنے باطن کو ایک نئی، بہتر سمت عطا کرے۔









آپ کا تبصرہ