تحریر: سید کرامت حسین شعور جعفری
حوزہ نیوز ایجنسی I رمضان جب آتا ہے تو اپنے ساتھ صرف دنوں کی تبدیلی نہیں لاتا، بلکہ انسان کے باطن کے دروازے پر دستک دیتا ہے۔ عام طور پر ہم روزے کو ایک شرعی فریضہ سمجھ کر ادا کرتے ہیں—سحری سے افطار تک کھانے پینے سے اجتناب، چند ظاہری پابندیاں، اور ایک مخصوص وقت کا نظم۔ لیکن قرآنِ مجید جب اس عبادت کا مقصد بیان کرتا ہے تو وہ مشقت یا بھوک کا ذکر نہیں کرتا، بلکہ ایک ایسا لفظ استعمال کرتا ہے جو پوری روحانی عمارت کی بنیاد ہے: تقویٰ۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ (البقرہ: 183)
یہ آیت گویا اعلان کرتی ہے کہ صوم کا ہدف معدہ نہیں، بلکہ دل ہے؛ جسم نہیں، بلکہ ضمیر ہے۔
رمضان دراصل انسان کے اندر سوئی ہوئی خدا ترسی کو بیدار کرنے کا مہینہ ہے۔ انسان اپنی روزمرہ زندگی میں خواہشات کا اسیر بن جاتا ہے۔ قرآن اسے ہویٰ کہتا ہے—وہ اندرونی میلان جو انسان کو اپنے نفس کی طرف کھینچتا ہے۔ عام دنوں میں انسان جب چاہتا ہے کھاتا ہے، جب چاہتا ہے بولتا ہے، جب چاہتا ہے غصہ کرتا ہے۔ گویا اس کی زندگی کا مرکز “میں” بن جاتا ہے۔ رمضان آ کر اس مرکز کو بدل دیتا ہے۔ وہ انسان سے کہتا ہے: اب تمہاری خواہش نہیں، خدا کا حکم چلے گا۔
یہی وہ لمحہ ہے جہاں اطاعت جنم لیتی ہے، اور اطاعت کے بطن سے تقویٰ پیدا ہوتا ہے۔
تقویٰ کا مطلب دنیا چھوڑ دینا نہیں، بلکہ دنیا کو اپنی حد میں رکھنا ہے۔ تقویٰ وہ کیفیت ہے جس میں انسان دنیا کے بیچ رہ کر بھی اس کا غلام نہیں بنتا۔ روزہ اسی توازن کی عملی تربیت ہے۔ جب ایک شخص سخت بھوک کے باوجود دسترخوان کو دیکھ کر رک جاتا ہے تو وہ دراصل اپنی خواہش پر نہیں، اپنے رب کے حکم پر اعتماد کر رہا ہوتا ہے۔ یہ رک جانا ہی تقویٰ کی پہلی سیڑھی ہے۔
بھوک انسان کو اس کی حقیقت یاد دلاتی ہے۔ اسے احساس ہوتا ہے کہ وہ ہر وقت طاقت ور نہیں، ہر وقت خود کفیل نہیں، اور ہر وقت مختار نہیں۔ ایک گھونٹ پانی کے لیے بے قرار ہونا اس کے غرور کو توڑ دیتا ہے۔ یہی ٹوٹنا عبادت کی روح ہے۔ جھکنا ہی بندگی ہے۔
اسی لیے روزہ صرف معدے کی خاموشی کا نام نہیں۔ اگر زبان بدستور جھوٹ بولتی رہے، اگر آنکھیں حرام مناظر سے محفوظ نہ ہوں، اگر دل کینہ اور حسد سے بھرا رہے، تو روزہ اپنی روح کھو دیتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: “کئی روزہ دار ایسے ہیں جنہیں اپنے روزے سے سوائے بھوک اور پیاس کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔”
یہ کوئی فقہی حکم نہیں، بلکہ ایک اخلاقی تنبیہ ہے۔ یعنی عبادت درست ہو سکتی ہے، مگر اثرانداز نہ ہو۔
روزہ دراصل ضبطِ نفس کی تربیت گاہ ہے۔ ایک مہینے کی یہ مشق انسان کے اندر ایک نئی عادت پیدا کرتی ہے۔ جب وہ حلال چیزوں سے بھی مقررہ وقت تک رک سکتا ہے تو اسے یقین ہو جاتا ہے کہ حرام سے رکنا بھی ممکن ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں روزہ اخلاقی قوت میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
رمضان ہمیں یہ سبق بھی دیتا ہے کہ خدا کا حکم وقتی ہو سکتا ہے، مگر اس کا اثر دائمی ہونا چاہیے۔ اگر روزہ صرف غروبِ آفتاب تک محدود رہے اور اس کے بعد انسان اپنی سابقہ روش پر لوٹ آئے تو وہ اس مہینے کے پیغام سے محروم رہ گیا۔ لیکن اگر رمضان کے بعد بھی انسان کی نگاہ محتاط، زبان نرم، اور دل بیدار ہو جائے تو یہی روزے کی کامیابی ہے۔
ایک اور پہلو جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، وہ سماجی شعور ہے۔ بھوک انسان کو یہ احساس دلاتی ہے کہ فاقہ کیا ہوتا ہے، انتظار کس کرب کا نام ہے، اور صبر کی حقیقت کیا ہے۔ یہی احساس اسے معاشرے کے محروم طبقات کے قریب لے جاتا ہے۔ اسی لیے رمضان میں صدقہ، خیرات اور فطرہ محض مالی ادائیگیاں نہیں رہتیں، بلکہ ضمیر کی بیداری بن جاتی ہیں۔ روزہ دار جب کسی غریب کو افطار کراتا ہے تو وہ صرف کھانا نہیں دیتا، بلکہ اپنی حساسیت و زندگی کا ثبوت دیتا ہے۔
یوں صوم انسان کو تین سطحوں پر بدلتا ہے: جسم کو نظم و ضبط دیتا ہے، نفس کو قابو میں لاتا ہے، اور اخلاق کو سنوارتا ہے۔ یہی تینوں مل کر تقویٰ کی بنیاد رکھتے ہیں۔
رمضان انسان کے اندر ایک خاموش انقلاب برپا کرتا ہے۔ وہ اسے سکھاتا ہے کہ اصل آزادی خواہشات کی پیروی میں نہیں، بلکہ ان پر قابو پانے میں ہے۔ عبادت کا جوہر یہی ہے کہ انسان ہر اس چیز کو روک دے جو خدا کے حکم کے مقابل کھڑی ہو۔
آج کا سوال یہی ہے: کیا میرا روزہ مجھے صرف کھانے سے روک رہا ہے، یا میری کمزوریوں سے بھی؟
اگر یہ سوال ہمارے دل میں زندہ ہو جائے تو بھوک تقویٰ میں ڈھل جاتی ہے، اور رمضان ایک مہینہ نہیں رہتا، بلکہ ایک مستقل تربیت بن جاتا ہے۔









آپ کا تبصرہ