تحریر: مولانا سید کرامت حسین شعور جعفری
حوزہ نیوز ایجنسی | ماہِ رمضان محض سال کے بارہ مہینوں میں سے ایک مہینہ نہیں، بلکہ یہ وہ منتخب زمان ہے جسے خود خداوندِ عالم نے انسان کی تربیت، اصلاح اور ازسرِنو تشکیل کے لیے چنا ہے۔ اگر عبادت صرف چند اعمال کے مجموعے کا نام ہوتی تو سال کے کسی بھی مہینے میں یہ مقصد پورا ہو سکتا تھا، مگر رمضان کا انتخاب اس حقیقت کی دلیل ہے کہ وقت بھی تربیت کا ایک مؤثر آلہ ہے، اور بعض اوقات کو خدا اپنی خاص رحمت اور خصوصی توجہ کے لیے مخصوص کر دیتا ہے۔
قرآن جب اعلان کرتا ہے کہ یہ وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا تو دراصل وہ رمضان کی اصل حیثیت کو واضح کر دیتا ہے۔ یہ مہینہ ہدایت کے نزول کا مہینہ ہے، اور ہدایت کبھی انسان کو محض مطمئن رکھنے کے لیے نہیں آتی، بلکہ اسے بدلنے اور سنوارنے کے لیے نازل ہوتی ہے۔ اسی لیے رمضان کا پہلا تعارف ہی انسان کے دل میں ایک گہرا سوال پیدا کرتا ہے:
کیا میں ویسا ہی رہ کر اس مہینے سے گزر جاؤں گا، یا یہ مہینہ مجھے اندر سے بدل دے گا؟
رمضان میں سب سے پہلی ضرب انسان کی عادتوں پر پڑتی ہے۔ کھانا، پینا، سونا، بولنا—سب کچھ ایک نئے نظم میں ڈھل جاتا ہے۔ یہ صرف جسمانی نظم نہیں، بلکہ اس بات کی عملی تربیت ہے کہ انسان اپنی خواہشات کا غلام نہیں، بلکہ ان پر قابو پانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ روزہ اسی اعلان کا نام ہے۔ بھوک خود مقصد نہیں، بلکہ ارادے کی بیداری کا ذریعہ ہے، تاکہ انسان یہ سیکھ سکے کہ وہ ہر چاہت کے پیچھے مجبور نہیں۔
روزہ ہمیں خاموشی سے یہ سبق دیتا ہے کہ جو چیز حلال ہے، اگر خدا کے حکم سے اس سے رکنا ممکن ہے، تو جو چیز حرام ہے، اس سے رکنا کیوں مشکل ہو؟ یہی نکتہ رمضان کو محض عبادت کا مہینہ نہیں رہنے دیتا، بلکہ اسے انسان سازی کی ایک عملی درسگاہ بنا دیتا ہے۔
رمضان میں انسان کو پہلی بار شدت سے یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ اکیلا نہیں۔ پوری امت ایک ہی نظم میں بندھی ہوتی ہے—سحر، افطار، تلاوت اور دعا۔ یہ اجتماعی کیفیت انسان کو اس کی اجتماعی ذمہ داری کا احساس دلاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رمضان میں عبادت فردی ہونے کے باوجود اجتماعی شعور پیدا کرتی ہے۔ انسان صرف اپنی نجات نہیں سوچتا، بلکہ دوسروں کی بھوک، پیاس اور محرومی کو بھی محسوس کرتا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں رمضان عبادت کو اخلاق سے جوڑ دیتا ہے۔ یہ مہینہ ہمیں بتاتا ہے کہ سچا روزہ دار وہ نہیں جو صرف کھانے پینے سے رکے، بلکہ وہ ہے جو اپنی زبان، نگاہ اور دل کو بھی قابو میں رکھے۔ اسی لیے روایات میں بار بار یہ تنبیہ ملتی ہے کہ اگر روزہ انسان کے اخلاق کو بہتر نہ کرے تو وہ محض مشقت بن کر رہ جاتا ہے۔
رمضان کا ایک اور امتیاز یہ ہے کہ یہ انسان کو اپنے آپ سے آشنا کرتا ہے۔ عام دنوں میں انسان خود کو مصروفیات کے پردے میں چھپا لیتا ہے، مگر روزہ اسے اپنے اندر جھانکنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ خاموشی، دعا اور تنہائی کے لمحات میں انسان پہلی بار سنجیدگی سے یہ سوال پوچھتا ہے: میں کون ہوں؟ کہاں کھڑا ہوں؟ اور کس سمت جا رہا ہوں؟
یہی خود شناسی دراصل خدا شناسی کی طرف پہلا قدم ہے۔ اسی لیے رمضان میں دعاؤں کی کثرت ہے، کیونکہ دعا انسان کی عاجزی کا اعتراف ہے، اور یہی اعتراف اسے خدا کے قریب لے جاتا ہے۔ دعا انسان کو یاد دلاتی ہے کہ اصل طاقت اسی ذات کے ہاتھ میں ہے جس کے سامنے وہ جھکا ہوا ہے۔
اگر رمضان کو صرف اعمال کی ایک فہرست سمجھ لیا جائے تو ہم اس مہینے کی روح کھو بیٹھتے ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ ہر عمل انسان کے اندر تبدیلی پیدا کرے، ہر دعا اس کے شعور کو جگائے، اور ہر دن اسے کل سے بہتر بنا دے۔ یہی وجہ ہے کہ رمضان کا اختتام عید پر ہوتا ہے۔ عید انعام ہے—مگر صرف اس کے لیے جو اس تربیت سے گزر چکا ہو۔ جو شخص ویسا ہی لوٹ جائے، اس کے لیے رمضان بھی محض ایک گزر جانے والا مہینہ بن کر رہ جاتا ہے۔
عملی نکتہ:
اس قسط کے اختتام پر قاری اپنے آپ سے صرف ایک سوال کرے:
میں اس رمضان میں خود کو کس پہلو سے بدلنا چاہتا ہوں؟
یہی سوال اس پورے سفرِ رمضان کی بنیاد ہے، اور یہی سوال انسان کو محض روزہ دار نہیں بلکہ رمضان یافتہ انسان بنا دیتا ہے۔









آپ کا تبصرہ