منگل 24 فروری 2026 - 17:10
روزے کے مراتب ظاہری روزہ، باطنی روزہ

حوزہ/ ظاہری روزہ بدن کی تربیت ہے۔ یہ انسان کو نظم، ضبط اور اطاعت سکھاتا ہے۔ یہی وہ درجہ ہے جس کے بغیر اگلے مدارج تک رسائی ممکن نہیں۔ جو شخص ظاہری روزے کا پابند نہیں، وہ باطنی روزے کی بات بھی نہیں کر سکتا۔ اس درجے پر انسان سیکھتا ہے کہ حلال چیزوں سے بھی وقتی طور پر رکنا عبادت ہو سکتا ہے، اگر وہ خدا کے حکم سے ہو۔

تحریر: مولانا سید کرامت حسین شعور جعفری

حوزہ نیوز ایجنسی I اکثر ہم روزے کو ایک ہی درجے میں دیکھتے ہیں: سحری سے افطار تک کھانے پینے سے رک جانا۔ یہ روزے کا ظاہری درجہ ہے، اور شریعت نے اسی کو فقہی صحت کا معیار قرار دیا ہے۔ مگر دین صرف صحیح اور غلط کے دائرے میں محدود نہیں؛ وہ کمال اور نقص، گہرائی اور سطحیت، اثر اور بے اثری کی بات بھی کرتا ہے۔ اسی لیے اہلِ معرفت نے روزے کے مراتب بیان کیے ہیں۔

ظاہری روزہ بدن کی تربیت ہے۔ یہ انسان کو نظم، ضبط اور اطاعت سکھاتا ہے۔ یہی وہ درجہ ہے جس کے بغیر اگلے مدارج تک رسائی ممکن نہیں۔ جو شخص ظاہری روزے کا پابند نہیں، وہ باطنی روزے کی بات بھی نہیں کر سکتا۔ اس درجے پر انسان سیکھتا ہے کہ حلال چیزوں سے بھی وقتی طور پر رکنا عبادت ہو سکتا ہے، اگر وہ خدا کے حکم سے ہو۔

مگر یہ درجہ صرف آغاز ہے، منزل نہیں۔

دوسرا درجہ باطنی روزہ ہے—یعنی اعضا کا روزہ۔ اس میں زبان، آنکھ، کان اور ہاتھ سب روزہ رکھتے ہیں۔ زبان جھوٹ، غیبت اور سخت کلامی سے رکتی ہے؛ آنکھ حرام اور فضول سے بچتی ہے؛ کان بے مقصد باتوں سے محفوظ رہتے ہیں؛ اور ہاتھ ظلم و زیادتی سے باز رہتے ہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں روزہ انسان کے اخلاق پر اثر ڈالنا شروع کرتا ہے۔

یہی وہ نکتہ ہے جہاں بہت سے روزے کمزور پڑ جاتے ہیں۔ معدہ تو بند ہوتا ہے، مگر زبان کھلی رہتی ہے۔ جسم تو بھوکا ہوتا ہے، مگر دل دوسروں کو زخمی کر رہا ہوتا ہے۔ ایسے روزے فقہی طور پر درست ہو سکتے ہیں، مگر تربیتی طور پر ناکام۔

تیسرا درجہ دل کا روزہ ہے۔ یہاں انسان صرف گناہ سے نہیں، بلکہ گناہ کے خیالات سے بھی بچنے کی کوشش کرتا ہے۔ حسد، کینہ، غرور، اور ریا جیسے باطنی امراض پر قابو پانا اسی درجے کا تقاضا ہے۔ یہ روزہ مشکل ہے، مگر یہی روزہ انسان کو اندر سے بدلتا ہے۔ یہاں عبادت صرف عمل نہیں رہتی، بلکہ ایک مستقل کیفیت بن جاتی ہے۔

دل کا روزہ انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ خدا صرف میرے عمل کو نہیں دیکھتا، بلکہ میرے ارادے اور میلان کو بھی جانتا ہے۔ یہی شعور انسان کو نرمی، عاجزی اور سچائی کی طرف لے جاتا ہے۔

اہلِ معرفت نے ایک چوتھے درجے کا بھی ذکر کیا ہے: روح کا روزہ۔ اس درجے پر انسان کا دل خدا کے علاوہ ہر شے سے بے نیاز ہونے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ مقام سب کے لیے نہیں، مگر رمضان اس سمت پہلا قدم رکھنے کا موقع ضرور دیتا ہے۔ کم از کم اتنا تو ممکن ہے کہ انسان اپنی توجہ کو غیر ضروری خواہشات سے ہٹا کر خدا کی یاد کی طرف لے آئے۔

یہ تمام مراتب ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ:

ہر روزہ ایک جیسا نہیں ہوتا

اور ہر روزہ ایک ہی نتیجہ نہیں دیتا

جتنا روزہ باطن میں اترتا ہے، اتنا ہی وہ انسان کو سنوارتا ہے۔

رمضان کا کمال یہ ہے کہ وہ ہر انسان کو اس کے ظرف کے مطابق بلاتا ہے۔ کوئی صرف ظاہری روزہ رکھتا ہے، کوئی اعضا کا، اور کوئی دل کا۔ مگر خسارہ صرف اس کا ہے جو روزے کو محض بھوک سمجھ کر گزار دے۔

آج اپنے روزے کا جائزہ لیں:

میرا روزہ کس درجے پر ہے—صرف معدے کا، یا زبان اور دل کا بھی؟

یہ سوال روزے کو رسم سے نکال کر تزکیۂ نفس کا ذریعہ بنا دیتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha