تحریر: مولانا عقیل رضا ترابی، سربراہ: مدرسہ بنتُ الہدیٰ (رجسٹرڈ)، ہریانہ الہند
حوزہ نیوز ایجنسی | ماہِ رمضان المبارک شریعتِ اسلامی میں محض روزوں کا مجموعہ نہیں، بلکہ انسان کی روحانی تربیت کا ایک منظم اور تدریجی نصاب ہے۔ اہلِ معرفت کے نزدیک اس مہینے کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس کا پورا نظام انسان کو مرحلہ وار باطنی ارتقا کی طرف لے جاتا ہے۔ اسی حکیمانہ ترتیب کی بنا پر اسلامی روایات میں ماہِ رمضان کو تین معنوی حصّوں، یعنی تین عشروں میں تقسیم کر کے بیان کیا گیا ہے:
- پہلا عشرہ - رحمت
- دوسرا عشرہ - مغفرت
- تیسرا عشرہ - نجات من النار
یہ تقسیم محض وعظی اسلوب نہیں بلکہ ایک عمیق تربیتی اور معرفتی پیغام رکھتی ہے۔
پہلا عشرہ: رحمتِ الٰہی کا نزول - روحانی بیداری کی ابتدا
رمضان المبارک کا پہلا عشرہ رحمتِ خداوندی کا عشرہ قرار دیا گیا ہے۔ متعدد روایات میں آیا ہے:
«أَوَّلُهُ رَحْمَةٌ، وَأَوْسَطُهُ مَغْفِرَةٌ، وَآخِرُهُ عِتْقٌ مِنَ النَّارِ»
یعنی اس مہینے کا آغاز رحمت ہے۔
علمی نقطۂ نظر سے رحمت کا مفہوم صرف نعمت عطا ہونا نہیں، بلکہ بندے پر خداوندِ متعال کی خصوصی توجہ اور تربیتی عنایت کا نام ہے۔ انسان جب رمضان میں داخل ہوتا ہے تو اکثر گناہوں، غفلت اور فکری پراگندگی کے بوجھ کے ساتھ آتا ہے۔ اگر ابتداء ہی میں بندے کو صرف محاسبہ اور مؤاخذے کی فضا میں رکھا جائے تو اس کے اندر رجوع اور اصلاح کی امید کمزور پڑ سکتی ہے۔
اسی لیے شریعت نے رمضان کی ابتداء رحمت سے کی ہے، تاکہ بندہ سب سے پہلے اپنے ربّ کو:
مہربان،قریب،اور لوٹ آنے والوں کو قبول کرنے والا
سمجھے۔
پہلے عشرے میں رحمت کا بنیادی مقصد انسان کے دل میں یہ یقین پیدا کرنا ہے کہ اللہ کی طرف پلٹنا ہمیشہ ممکن ہے۔ یہی مرحلہ روحانی بیداری کا نقطۂ آغاز بنتا ہے۔ اسی لیے اس عشرے میں دعا، استغفار اور قرآن سے تعلق کے ساتھ ساتھ امید اور اعتماد کی فضا نمایاں ہوتی ہے۔
یہ مرحلہ بندے کی شکستہ روح کو سہارا دیتا ہے اور اسے یہ شعور عطا کرتا ہے کہ عبادت کا رشتہ خوف سے پہلے محبت، اعتماد اور رجوع الیٰ اللہ پر قائم ہوتا ہے۔
دوسرا عشرہ: مغفرت - تطہیرِ باطن اور خود احتسابی
رمضان المبارک کا دوسرا عشرہ مغفرت کا عشرہ ہے۔ رحمت کے بعد مغفرت کا مرحلہ آنا اس حقیقت کی علامت ہے کہ بندہ اب اللہ کی طرف متوجہ ہو چکا ہے، اور اب اس کی توجہ اپنی اصلاح اور باطن کی تطہیر کی طرف منتقل کی جا رہی ہے۔
مغفرت کا مفہوم محض سزا کا معاف ہو جانا نہیں، بلکہ:
- گناہوں کے روحانی اثرات کا زائل ہونا
- دل کے زنگ کا صاف ہونا
- اور باطن کے بوجھ کا ہلکا ہو جانا ہے
قرآنِ مجید میں مغفرت کے ساتھ اصلاحِ حال اور حقیقی توبہ کی شرط بار بار بیان کی گئی ہے۔ اس عشرے میں بندے سے بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ وہ اپنے نفس کے ساتھ دیانت دار مکالمہ کرے۔
علمی اعتبار سے یہ عشرہ مرحلۂ محاسبہ ہے۔
یعنی بندہ اپنے آپ سے یہ سوال کرے:
میرے تعلقات، معاملات اور گفتگو میں کہاں قرآن کی ہدایت سے انحراف ہو رہا ہے؟
میرے روزے مجھے کن عملی گناہوں سے روک پا رہے ہیں اور کن سے نہیں؟
یہ عشرہ ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے کہ مغفرت کا راستہ محض زبانی استغفار سے نہیں، بلکہ حقیقی اور عملی تبدیلی کے ذریعے کھلتا ہے۔
اہلِ بیتؑ کی تعلیمات کے مطابق سچی توبہ وہ ہے جس کے بعد انسان کے رویّے اور طرزِ زندگی میں نمایاں فرق ظاہر ہو۔ چنانچہ دوسرا عشرہ دراصل کردار کی اصلاح اور نفس کی تطہیر کا مرحلہ ہے۔
تیسرا عشرہ: نجات من النار - روحانی بلوغت اور عبدیت کی تکمیل
رمضان المبارک کا تیسرا عشرہ نجات من النار کا عشرہ ہے۔ یہ مرحلہ درحقیقت پورے مہینے کی روحانی جدوجہد اور باطنی تربیت کا حاصل ہے۔
- فکری زاویے سے اگر پہلے عشرے کو:
- روحانی بیداری
- اور دوسرے عشرے کو:
- تطہیرِ باطن
- کہا جائے، تو تیسرے عشرے کو:
- روحانی بلوغت
- کہنا زیادہ مناسب ہوگا۔
نجات من النار صرف جہنم سے چھٹکارے کا نام نہیں، بلکہ اس حقیقت کی علامت ہے کہ انسان نے اپنے اندر ان نفسیاتی اور اخلاقی کمزوریوں پر قابو پانے کی سنجیدہ کوشش کی ہے جو اسے گناہ، غفلت اور انحراف کی طرف لے جاتی ہیں۔
اسی عشرے میں شبِ قدر جیسی عظیم اور فیصلہ کن راتیں عطا کی گئی ہیں۔ شبِ قدر دراصل اس اعلان کا نام ہے کہ انسان کا مستقبل محض اس کے ماضی کا تسلسل نہیں ہوتا، بلکہ وہ ایک رات میں اپنی فکری، روحانی اور عملی سمت تبدیل کر سکتا ہے۔
یہ عشرہ بندے کو یہ شعور عطا کرتا ہے کہ اب عبادت محض وقتی جذبات یا موسمی کیفیت کا نام نہیں، بلکہ مستقل طرزِ زندگی کا تقاضا ہے۔
اسی مرحلے پر انسان اپنی عبدیت کو صرف فردی عبادات تک محدود نہیں رکھتا، بلکہ عملاً اسے معاشرت، اخلاق، امانت، دیانت اور سماجی ذمہ داری کے میدانوں تک منتقل کر دیتا ہے۔
یہی نجات کا حقیقی مفہوم ہے۔
تینوں عشروں کا باہمی ربط - ایک منظم تربیتی نظام
ماہِ رمضان کے تینوں عشرے الگ الگ خانوں میں بند نہیں بلکہ ایک مربوط اور مسلسل تربیتی نظام کی صورت رکھتے ہیں:
- پہلا عشرہ بندے کو اللہ کی طرف متوجہ کرتا ہے،
- دوسرا عشرہ بندے کو اپنے نفس کی طرف پلٹاتا ہے،
- اور تیسرا عشرہ بندے کو نئی زندگی کی طرف لے جاتا ہے۔
یہ ترتیب اس حقیقت کی علامت ہے کہ شریعتِ اسلامی میں انسان کی اصلاح تدریج اور حکمت کے ساتھ ہوتی ہے، نہ کہ اچانک حکم اور محض دباؤ کے ذریعے۔
ماہِ رمضان المبارک کے تینوں عشرے دراصل انسان کے روحانی سفر کے تین بنیادی مراحل ہیں:
- رحمت کے ذریعے امید اور رجوع کی بحالی،
- مغفرت کے ذریعے باطن کی تطہیر،
- اور نجات کے ذریعے عبدیت کی تکمیل۔
اگر بندہ اس مہینے کو صرف عبادات کی فہرست کے طور پر لینے کے بجائے ایک ہمہ جہت تربیتی پروگرام کے طور پر اختیار کرے تو وہ محسوس کرے گا کہ رمضان اسے صرف روزہ دار نہیں، بلکہ ایک باشعور، ذمہ دار اور خدا آشنا انسان بنا رہا ہے۔
یوں بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ:
رمضان کے تین عشرے دراصل انسان کو رحمت سے مغفرت اور مغفرت سے نجات تک پہنچانے کا الٰہی راستہ ہیں۔
آخر میں خداوندِ منّان سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ماہِ رمضان المبارک کی حقیقی قدر پہچاننے کی توفیق عطا فرمائے،
ہمیں اپنے ذکر، قرآنِ کریم کی تلاوت اور اس پر عمل کی لذت نصیب فرمائے، ہمارے ظاہر و باطن کی اصلاح فرما دے، ہماری لغزشوں کو اپنی رحمت سے معاف فرما دے، ہمیں سچی توبہ، خلوصِ نیت اور دوامِ عبادت عطا فرمائے، اور اس مبارک مہینے کو ہمارے لیے نجات، ہدایت اور قربِ الٰہی کا ذریعہ بنا دے۔
اے پروردگار!
ہمیں ان بندوں میں شامل فرما دے جو رمضان کے بعد بھی قرآن سے وابستہ، اخلاق میں مضبوط اور ذمہ داری کے شعور سے آراستہ رہیں۔
وما علينا إلّا البلاغ۔









آپ کا تبصرہ