۲۴ مرداد ۱۴۰۱ |۱۷ محرم ۱۴۴۴ | Aug 15, 2022
مولانا زین العابدین علوی جونپوری

حوزہ/ ماہ رمضان برکتوں اور رحمتوں  والا مہینہ ہے اور اس ماہ کی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ قرآن مقدس کا نزول اسی پاک مہینے میں ہوا ۔ رمضان کا پہلا عشرہ رحمت، دوسرا عشرہ مغفرت اور تیسرہ عشرہ جہنم کی آگ سے نجات کا ہے۔

تحریر: مولانا زین العابدین علوی جونپوری

حوزہ نیوز ایجنسی ماہ رمضان برکتوں اور رحمتوں والا مہینہ ہے اور اس ماہ کی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ قرآن مقدس کا نزول اسی پاک مہینے میں ہوا ۔ رمضان کا پہلا عشرہ رحمت، دوسرا عشرہ مغفرت اور تیسرہ عشرہ جہنم کی آگ سے نجات کا ہے۔

روزہ وہ عظیم فریضہ ہے جس کو مالک نے اپنی طرف منسوب فرمایا ہے اور قیامت کے دن مالک اس کا بدلہ اور اجر بغیر کسی واسطہ کے بذات خود روزہ دار کو عنایت فرمائے گا۔
خداوند کریم نے اپنے بندوں کے لئے عبادات کے جتنے بھی طریقے بتائے ہیں ان میں کوئی نہ کوئی حکمت ضرور پوشیدہ ہے۔ نماز خدا کے وصال کا ذریعہ ہے۔ اس میں بندہ اپنے معبودِ حقیقی سے گفتگو کرتا ہے۔ بعینہٖ روزہ بھی مالک سے لَو لگانے کا ایک ذریعہ ہے۔

حضرت جابر بن عبداﷲانصاری ؒسے روایت ہے کہ پیغمبراکرمﷺ کا فرمان ہے کہ میری امت کو ماہ رمضان میں پانچ چیزیں ایسی عطا کی گئیں جو مجھ سے پہلے کسی اورنبی کو عطا نہیں ہوئیں ۔

1۔ پہلی یہ کہ جب رمضان المبارک کی پہلی رات ہوتی ہے تو اﷲ تعالیٰ بندوں کی طرف رحمت کی نظر فرماتا ہے اور جس کی طرف اﷲ تعالیٰ نظر ِرحمت فرمادے اسے کبھی بھی عذاب نہ دے گا۔
2۔ دوسری یہ کہ شام کے وقت ان کے منہ کی بو (جو بھوک کی وجہ سے ہوتی ہے) اﷲ تعالیٰ کے نزدیک مشک وعنبر کی خوشبو سے بھی بہتر ہے۔
3۔ تیسرے یہ کہ فرشتےدن رات ان کے لئے مغفرت کی دعائیں کرتے رہتے ہیں۔
4۔ چوتھے یہ کہ اﷲ تعالیٰ جنت کو حکم دیتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے ’’میرے (نیک) بندوں کے لئے مزین ہوجا عنقریب وہ دنیا کی مشقت سے میرے گھر اور کرم میں راحت پائیں گے۔
5۔ پانچویں یہ کہ جب ماہ رمضان کی آخری رات آتی ہے تو اللہ تعالیٰ سب کی مغفرت فرمادیتا ہے۔

رمضان المبارک کی ان تمام فضیلتوں کو دیکھتے ہوئے ہمیں چاہیے کہ اس مہینہ میں عبادت کا خاص اہتمام کریں اور کوئی لمحہ ضائع اور بے کار جانے نہیں دینا چاہیے۔
اس ماہ کا ایک امتیاز اوراس میں انجام دی جانے والی عبادت جسے ہم روزہ کہتے ہیں یہ بھی ہے کہ انسان جس حال میں بھی ہے اس عبادت کو انجام دے سکتا ہےیعنی انسان چاہے تجارت کررہا ہو چاہے صنعت،حرفت ہو یا زیارت،آفس میں ہو یا اسکول میں ،اس عبادت کو انجام دے سکتا ہے ۔لیکن ہماری کوئی بھی عبادت حجت اورقابل اعتبار نہیں ہوسکتی جب تک کہ ہماری عبادت کا سرچشمہ کوئی قول معصوم یا فعل معصوم یا تقریر معصوم نہ ہو،یا یوں کہہ دیا جائے کہ ہماری عبادت ہو یا زندگی کا کوئی بھی گوشہ مالک کی طرف سے بھیجئے گئے ہادی و رہنما کی عبادتیں ہمارے لئے نمونۂ عمل ہیں ۔اوریہی وجہ ہے کہ معصومین علیہم السلام ماہ مبارک رمضان کے سلسلہ میں ایک خاص اہمیت کے قائل ہیں ،معصومین کی حیات طیبہ پر اگر نظر ڈالی جائے تو کہیں عبادتوں کی چاشنی ہے تو کہیں اپنے مالک کی بارگاہ میں دعاؤں کی شکل میں زمزمہ خوانی ہے ۔

سیرت معصومین علیہم السلام میں ماہ رمضان المبارک کی جھلکیاں
پیغمبر اکرم ﷺ
1۔ شیخ طاؤس علیہ الرحمۃ اپنی کتاب اقبال الاعمال کے صفحہ 70 پرنقل کرتے ہیں کہ جب بھی ماہ مبارک رمضان کا چاند نظر آتا تھا تو پیغمبر اکرم ﷺ کے چہرے کا رنگ متغیر ہوجاتا تھا ،بہت زیادہ عبادتیں اوردعائیں کیا کرتے تھے ۔اور جیسے جیسے ماہ رمضان المبارک اپنی آخری منزلوں کی طرف قدم بڑھاتا تھا پیغمبر اکرم ﷺ کی حالت غیر ہوتی جاتی تھی اور عبادتیں اور دعائیں طولانی تر ہوتی جاتی تھیں ۔) من لا یحضره الفقیه، شیخ صدوق، 2: 156/2018.)
ماہ رمضان المبارک میں شب زندہ داری کا عالم یہ تھا کہ پیغمبر اکرم ماہ رمضان المبارک میں خود بھی بیدار رہتے اور گھر کے دوسرے افراد کو بھی بیداررکھتے خاص طور سے شب ھای قدر میں ، روایات میں وارد ہوا ہے کہ پیغمبر اکرم ﷺ اپنے گھر کے افراد کو شبھای قدر میں منھ پر پانی چھڑک کر بیدار کرتے تھےاورفرماتے تھے اس شب کو زندہ کرو یعنی بیداررہ کر اپنے مالک کی بارگاہ میں راز و نیاز،دعا و عبادت کو انجام دو ۔ (بحار الانوار، علامه مجلسی، 98/5.(

نیز یہی سیرت ہمیں شہزادی کونین جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی حیات طیبہ میں نظر آتی ہے :
علامہ مجلسی ؒبحارالانوار میں رقمطراز ہیں کہ جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اپنے فرزندوں کو ماہ مبارک رمضان میں بالخصوص شب ھای قدر میں سونے سے منع کرتی تھیں یہاں تک کہ دن میں بچوں سے کہتی تھیں آرام کرو ، سو لو تاکہ رات میں بیدار رہ کر اپنے پروردگار عالم سے راز و نیاز کرو ۔نیز فرماتی ہیں ’’وہ شخص محروم ہے جو ماہ مبارک رمضان کی شبوں کی برکتوں،رحمتوں اور فضیلتوں سے محروم ہوجائے ۔‘‘( بحارالانوار،علامہ مجلسی ؒ، 98/160، دعائم الاسلام 1/282.(

مولائے کائنات کی سیرت میں ہمیں نظرآتا ہے کہ رازو نیاز کرتے ہوئے محراب مسجد میں امیرکائنات کی یہ حالت ہوجاتی تھی کہ بعض دفعہ لوگوں کو یہ گمان ہوا کہ علی دنیا سے رخصت ہوگئے ۔ جب بھی بھی آپ افطار کے لئے آمادہ ہوتے تھے تو فرماتے تھے’’اللهم لک صمنا و علی رزقک افطرنا فتقبله منا انک انت السیمع العلیم‘‘میرے مالک !میں نے تیرے لئے روزہ رکھا،تیرے دیئے ہوئے رزق سے افطارکیا ،ہمارے اعمال کو قبول فرمالے کہ بیشک تو سننے اور جاننے والا ہے ۔( تهذیب الاحکام 4: 200/578، بحار الانوار 98/15.)

امام حسن علیہ السلام کی سیرت طیبہ میں ہمیں نظر آتا ہے کہ آپ بہت زیادہ عبادتیں انجام دیتے،ماہ رمضان کی شبوں میں شبوں میں بیداررہتے۔صدقہ دیتے تھے،عمرہ انجام دیتے ۔ گریہ و زاری کرتے تھے ۔ غریبوں اورمحتاجوں کی مدد فرماتے تھے ۔ روایت میں ملتا ہے کہ جب ماہ مبارک رمضان کی شبوں میں آپ مصلائے عبادت پر کھڑے ہوتے تھے تو آپ کی آنکھیں اشکبار رہتی تھیں،بدن میں لرزہ ہوتا تھا ،ہاتھ مسلسل دعا کے لئے بلند رہتے تھے ۔ اورآواز دیتے تھے مالک اپنے بندے کو اپنے حصار رحمت میں لے لے ۔

چھٹے امام، امام جعفر صادق علیہ السلام کی حیات طیبہ کے سلسلہ میں نقل ہوا ہے کہ آپ ماہ مبارک رمضان ا س طرح اہتمام کرتے تھے کہ ہمیشہ مسجد میں حاضر ہوتے،دعا و عبادات انجام دیتے ۔ صدقہ دیتے تھے ، غریبوں اور مجبوروں کی مدد فرماتے تھے ۔ یہاں تک کہ آپ نے اپنے چاہنے والوں کو مخاطب کرکے فرمایا کہ اس ماہ کی فضیلتوں کو درک کرو کہ یہ رحمت الٰہی کے نزول کے ذریعہ ہیں، اس سلسلہ میں ایک روایت نقل ہوئی ہے کہ آپ ہمیشہ مسجد میں حاضر ہوتے تھے خاص کر شب ھای قدر میں ، ایک مرتبہ شدیدبیمار ہوگئے اور بیماری کی وجہ سے خود سے اعمال و دعا کے لئے مسجد میں نہیں جا سکتے تھے تو آپ نے اپنے گھر والوں کو حکم دیا کہ مجھے سہارا دو اورمسجد میں لے چلو ، اورپھر ان کی مدد کے لئے ذریعہ آپ مسجد میں تشریف لائے ۔ اورآپ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں مصروف دعا و عبادات ہوگئے ۔

المختصر یہ کہ چاہےرمضان المبارک ہو یا زندگی کا کوئی بھی مرحلہ ہوہمیں ہر وہ کام انجام دینا چاہئے جو مرضی معبود کے مطابق ہو اور ہر اس کام کو ترک کردینا چاہئے جو اس کی رضا و خوشنودی کے خلاف ہو اور اسی کا نام ’’عبادت ‘‘ہے۔ یہ ہمارے ائمہ معصومین علیہم السلام کی سرت طیبہ ، ظاہر ہے اس کو کہاں تک بیان کیا جاسکتا ہے ،اس مختصر سے مقالہ میں اتنی گنجائش نہیں ہے ، اس لئے اپنی بات کو تمام کرتے ہوئے ، دعا کا طلبگار ہوں ۔

و آخرُ دعوانَا انِ الحَمدُللہ ربِ العالمین

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
2 + 14 =