۲۸ تیر ۱۴۰۳ |۱۱ محرم ۱۴۴۶ | Jul 18, 2024
News ID: 379187
3 اپریل 2022 - 00:49
ماه رمضان

حوزہ/ افق پر نمودار چاند نے اعلان کر دیا کہ اللہ کا مہینہ رحمت و برکت اور مغفرت کے ساتھ آگیا۔ وہ مہینہ آگیا جس کو اللہ نے تمام مہینوں پر کرامت، شرافت اور فضیلت عطا کی ہے۔

تحریر: مولانا سید علی ہاشم عابدی

حوزہ نیوز ایجنسی افق پر نمودار چاند نے اعلان کر دیا کہ اللہ کا مہینہ رحمت و برکت اور مغفرت کے ساتھ آگیا۔ وہ مہینہ آگیا جس کو اللہ نے تمام مہینوں پر کرامت، شرافت اور فضیلت عطا کی ہے۔ وہ دن آگئے جو تمام دنوں سے افضل ہیں، وہ راتیں آ گئیں جو تمام راتوں سےافضل ہیں۔ وہ گھڑیاں آگئیں جو تمام گھڑیوں سے افضل ہیں۔ اس مہینہ میں بندہ اپنے رب کا مہمان ہوتا ہے۔ اس میں سانسیں تسبیح، سونا عبادت ہے، اعمال قبول ہوتے ہیں اور دعائیں مستجاب ہوتی ہیں۔

لہذا بندگان خدا پر لازم ہےکہ نیک دل اور سچی نیت سے بارگاہ معبود میں دعا کریں کہ انہیں روزہ رکھنے اور قرآن کریم کی تلاوت کی توفیق عطا ہو کیوں کہ بد بخت ہے وہ انسان جو اس مہنیہ میں اللہ کی مغفرت سے محروم ہوجائے۔

مذکورہ فرمان نبویؐ کے مفہوم سے واضح ہو گیا کہ یہ مہینہ انسان کے انسان بننے کا مہینہ ہے۔ یہ مہینہ انسان کو اس کے مقصد خلقت سے نزدیک ہونے کا مہینہ ہے۔ اگر ماہ رمضان کے اعمال، دعاو مناجات پر انسان غور کرے اور اس پر عمل کی کوشش کرے تو وہ اپنے مقصد حیات سے بہت قریب ہو سکتا ہے۔

ممکن ہے بعض ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہو کہ کیا انسان کو اللہ نے صرف نماز و روزہ کے لئے خلق کیا ہے ؟ کیا ماہ رمضان صرف خود کو سنوارنےکا مہینہ ہے؟ تو ان کی خدمت میں عرض ہے کہ اللہ نےجس چیز کا انسان کو حکم دیا ہے وہ اس کی اطاعت اور بندگی ہے اور جب ہم اسکی اطاعت و بندگی پر نظر کرتے ہیں تو اس میں دو باتیں ہی ظاہر ہوتی ہیں۔ ایک اللہ کا حق دوسرے اس کے بندوں کا حق ہے۔

ماہ رمضان کے اعمال بھی انہیں دو محوروں پر گردش کرتے نظر آتے ہیں یا انمیں اللہ کے حقوق ہیں جیسے نماز، روزہ، تلاوت قرآن اور دعاو مناجات وغیرہ یا اللہ کے بندوں کے حقوق ہیں جیسے فقراء و مساکین کی امداد اور یتیموں کا خیال وغیرہ ۔

لیکن ان امور کی توفیق انسان کو اسی وقت ملے گی جب وہ گناہوں سے مکمل دور ہو جائے۔ شائد اسی لئے روایات میں ہے کہ روزہ صرف بھوک وپیاس کا نام نہیں بلکہ انسان کے جسم کا کوئی حصہ بھی گناہ سے آلودہ نہ ہو ۔ یعنی زبان ، کان، ہاتھ، پیر، آنکھ سے کوئی گناہ سر زد نہ ہو۔ یعنی جس طرح زبان سے گالی، گلوج، چغلی، غیبت کرنا گناہ ہے اسی طرح کانوں سے سننا بھی گناہ ہے۔ آنکھوں سے صرف برائی دیکھنا ہی گناہ نہیں بلکہ اگر برای کا اشارہ کرے تب بھی گناہ ہے۔

عموما عبادتیں کرنے والے جیسے روزہ رکھنے والے تین طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ روزہ دار ہیں جو روزہ رکھتے ہیں اور ان 9 چیزوں سے پرہیز کرتے ہیں جو روزے کو باطل کرتی ہیں۔ لیکن دوسری جانب زبان، آنکھ، کان پر کوئی کنٹرول نہیں ہوتا اور گناہ بھی انجام دیتے ہیں۔ یہ عام روزہ رکھنے والے ہیں۔

دوسرے وہ روزہ دار ہیں جو مبطلات روزہ کے ساتھ ساتھ دوسرے گناہوں سے بھی پرہیز کرتے ہیں تا کہ جنت میں جائیں اور جہنم سے دور رہیں۔ روایات کے مطابق اخلاص کا پست ترین مرتبہ بھی یہی ہے کہ انسان جنت کے شوق اور جہنم کے خوف میں بندگی کرے۔ یہ خاص روزے دار ہیں۔
تیسرے وہ لوگ ہیں جو تقرب پروردگار کے لئے روزہ رکھتے ہیں۔ انکے پیش نظر اللہ ہوتا ہے اور وہ اس منزل پر ہوتے ہیں جنکے لئے اللہ نے حدیث قدسی میں فرمایا: ’’روزہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا۔‘‘ یہ خاص الخاص اور حقیقی روزہ دار ہیں۔

یہ لوگ صرف روزہ ہی اللہ کے لئے نہیں رکھتے بلکہ انکی نمازیں بھی صرف اللہ کے لئے ہوتی ہیں۔ قرآن کریم کی آیت’’ قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ‘‘کہہ دیں کہ بیشک میری نماز ، میری قربانیاں اور میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ کے لیے ہے جو عالمین کا رب ہے۔ (سورہ انعام آیت 162)

اس عظمت کے مصداق کامل آل محمد علیہم السلام ہیں جیسا کہ حضرت امیرالمومنین علیہ السلام نے فرمایا: ’’خدایا! نہ میں تیری جنت کے شوق میں عبادت کرتا ہوں اور نہ ہی تیرے جہنم کے خوف میں عبادت کرتا ہوں۔ بلکہ تجھے لائق عبادت جان کر تیری عبادت کرتا ہوں۔ ‘‘ یا وہ لوگ ہیں جو آل محمد علیہم السلام کے مطیع محض ہیں ۔

ظاہرہے اس تقرب کے لئے کچھ چیزیں اہم ہیں ۔ جنمیں سے دو چیزیں زیادہ اہمیت رکھتی ہیں ایک خواب غفلت سے بیداری، دوسرے گناہوں سے معافی۔ کیوں کہ دنیا اور اس کی محبت انسان کو خدا سے غافل کر دیتی اور گناہوں پر آمادہ کرتی ہے۔ لہذا ہماری پہلی دعا اور کوشش یہی ہونی چاہئیے کہ ہم خواب غفلت سے بیدار ہو جائیں اور اپنے کئے گناہوں کو معاف کرا لیں۔

جیسا کہ ماہ رمضان کے پہلے دن کی دعا ہمیں یہی تعلیم دے رہی ہے ۔ ’’أَللّهُمَّ اجْعَلْ صِيامى فيهِ صِيامَ الصّآئِمينَ وَقِـيامى فـيهِ قـيامَ الْقـآئِمـينَ وَنَبِّـهْنى فيهِ عَنْ نَوْمَةِ الْغافِـلينَ وَهَبْ لى جُرْمى فيهِ يا اِلهَ الْعالَمينَ وَاعْفُ عَنّى يا عـافِياً عَنْ الُْمجْـرِمينَ.‘‘ خدایا! میرےروزے کو حقیقی روزے داروں کے روزوں میں قرار دے، میری نماز کو حقیقی نمازیوں کی نماز جیسا بنا دے۔ مجھے غفلت والی نیند سے بیدار کر دے، ائے عالمین کے پروردگار آج کے دن میرے جرم اور گناہوں کو معاف کر دے، اے گناہگاروں کو معاف کرنے والے! میرے خطاوں کو معاف کر دے۔

تبصرہ ارسال

You are replying to: .