تحریر: مولانا قره العین مجتبیٰ
حوزہ نیوز ایجنسی I سوره الفرقان کی آیت 30 (وَقَالَ الرَّسُولُ يَا رَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا) شیعہ تفاسیر جیسے تفسیر نمونہ کے مطابق قیامت کے دن رسول الله (ص) کی اپنی امت سے شکایت ہے کہ انہوں نے قرآن کو چھوڑ دیا، نہ تلاوت کی، نہ احکامات پر عمل کیا، اور نہ ہی اسے ہدایت کا ذریعہ سمجھا، بلکہ اسے ترک کردیا۔
شیعہ نقطہ نظر سے اہم نکات:
قرآن کو چھوڑنا (ہجر) اس کا مطلب صرف پڑھنا چھوڑنا نہیں بلکہ قرآن کے معانی کو سمجھنے، اس کے احکام پر عمل کرنے اور اسے زندگی کے ہر معاملے میں رہنما بنانے سے گریز کرنا ہے۔
اہل بیت (ع) اور قرآن شیعہ روایات کے مطابق، رسول الله (ص) نے قرآن اور اہل بیت کو ایک دوسرے کے ساتھ قرار دیا ہے۔ قرآن کو چھوڑنے کا ایک بڑا پہلو یہ بھی ہے کہ اس کے حقیقی مفسرین اہل بیت کی تعلیمات کو چھوڑ دیا جائے۔
. قیامت میں رسول (ص) کی شکایت یہ آیت شدید تنبیہ ہے کہ امت نے قرآن کے ساتھ کیا رویہ اختیار کیا۔
. عمل کی دعوت یہ آیت مسلمانوں کو قرآن سے جڑنے، اسے پڑھنے، سمجھنے اور اس کی روشنی میں زندگی گزارنے کیطرف بلاتی ہے
معلوم ہونا چاہیے کہ قرآن مجید جس طرح مردوں (فوت شدگان) کے لئے برائے ثواب ہے پس اسی طرح زندوں کے لئے برائے انقلاب ہے جیسا کہ خود قرآن میں ہے کہ ہم نے قرآن کواس لیےنازل کیا کہ زندہ لوگوں کے لیے منشور حیات قرار پایے ہم نے کل عرض کیا۔ کہ ہم قران کی معرفت حاصل کرپا یے لیکن تعویذ کی حد تک اس حد تک کہ بے ہوش انسان کو ہوش میں لانے کے لئے اس کااستعمال کرتےہیں اس کی ہوا دیتےہیں باہوش تو لیتے نہیں قرآن سے سبق ، بے ہوش کو قران کی ہوا دیتے ہیں ، قران مجید مکمل منشور Conctetutan ہے ایک بار ہمیں اس نظریہ سے قران کو بڑھنا چاہے پڑھیں اس لئے کہ اس پر عمل کریں ، عمل کر یں اس لئے کہ زندگی اس کے عطاء کر نیوالے کی مرضی کے مطابق گزار سکیں کے
دوراستے ہیں قرآن کر مہجوریت (متروک) ہونے سے نکالنے کے پہلایہ کہ قران مجید کو اپنے لئے بڑھیں اور زندوں کے لئے بڑھیں چونکہ قران جس طرح مردوں (فوت شدگان)کے لئے پڑھنا ثواب رکھتا ہے تو زندگی میں پڑھ کرزندہ لوگوں کوانقلاب عطا کرسکتا ہے دوسراراستہ قران کریم کو مہجوریت (نظر انداز) سے نکالنے کا یہ ہے کہ ہم قران کو اپنی تعلیمی زندگیEducation۔ نظام کا حصہ بنائیں کتنے سبجیکٹ موضوعوں کو ہم اسکول میں تعلیم میں شامل کرتے ہیں اگر کوئی کتاب شامل نہیں ہوتی تو وہ قرآن مجید ہے جبکہ اس پر یقین ہےکہ قران میں ہر چیز موجود ہے ، یقین رکھتے ہیں کہ قرآن اللہ کی کتاب ہے یقین رکھتےہیں کہ قرآن میں گا یڈ نس ہدایت ہے یہ یقین رکھتے ہیں کہ قرآن ہمیں دینامیں کا میابی عطاء کرے گا اور آخرت میں بھی سبب نجات ہے اسکے با وجو ہم قرآن کو جو اس کا معیار اور اسٹیٹس ہے وہ اس کو دینے کے لئے نہیں تیار اس راہ میں سب سے پہلا سوال یہ کیا جاتا ہے کہ اگر بچےکو ہم قرآن بڑھائیں گے تو بچہ کو ملے گا کیا نوکری کی ذمہ داری یے کیا قران پڑھنے سے بچہ ماڈرن بن سکتا ہے ہم نہیں کہتے کہ صرف قرآن ہی پڑھا ئیے ۔۔ لیکن قر ان کو جو اس کا مقام ہے وہ تو عطاء کیجیے کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم قرآن کو صرف چومنے کے لئے رکھ لیں زیادہ احترام بھی نقصان دہ ہو جاتا ہے جیسا کہ دیکھنے میں آتا ہے ہم قرآن کو چوم کر بلند جگہ پر رکھ دیتے ہیں تاکہ بچہ کا ہاتھ اس تک نہ پہونچ سکے ٹی وی کا ریموٹ ٹیبل پربچے کی دسترسی میں اور قرآن اونچے طاق پرسچ بتاییں-وہ بچہ ٹی وی نہیں دیکھے گا توقران پڑھے گاٹی وی کا ریموٹ اوپررکھیں اور قرآن مجید بچےکی دسترسی میں لے آوتا کہ بچہ قرآن کے ساتھ اٹھے اور بیٹھے یعنی اپنی زندگی میں قرآن مجید کواس طرح رچا بسا لے جیساکہ اللہ تعالی اور اس کا رسول اور خود قرآن مجید چاہتاہے









آپ کا تبصرہ