جمعرات 12 فروری 2026 - 21:43
ممبئی میں پاکستان میں شیعوں پر مظالم و مسجد میں حالیہ دہشت گردانہ حملے پر شدید احتجاج

حوزہ/ ممبئی میں حسینی فڈریشن کے زیرِ اہتمام پاکستان میں شیعہ مسلمانوں پر مظالم اور اسلام آباد کی مسجد میں خودکش حملے کے خلاف ایک احتجاجی و تعزیتی اجتماع منعقد ہوا، جس میں مقررین نے دہشت گردی کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء سے اظہارِ یکجہتی اور مجرموں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔

ممبئی/ عروس البلاد ممبئی میں حسینی فڈریشن ممبئی کے زیر انتظام پاکستان میں شیعہ مسلمانوں پر مسلسل ڈھائے جانے والے مظالم اور اسلام آباد کی ایک مسجد میں نمازِ جمعہ کے دوران ہونے والے المناک خودکش حملے کے خلاف ایک پُراثر اور پُردرد احتجاجی و تعزیتی جلسہ منعقد کیا گیا۔ یہ اجتماع شہداء کی یاد میں اور ان کے غمزدہ اہلِ خانہ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے مسجد ایرانیان کے صحن میں منعقد ہوا، جس میں مومنین و مومنات کی بڑی تعداد نے شرکت کر کے دہشت گردی کے خلاف اپنے غم و غصے کا اظہار کیا۔

ممبئی میں پاکستان میں شیعوں پر مظالم و مسجد میں حالیہ دہشت گردانہ حملے پر شدید احتجاج

جلسے کا آغاز ناظمِ جلسہ مولانا علی اصغر حیدری نے کیا۔ انہوں نے اپنے مخصوص اور پُرجوش انداز میں دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی دہشت گردانہ کارروائیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے پاکستان میں حالیہ حملے کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جس طرح دیگر مواقع پر مؤثر کارروائیاں کی جاتی ہیں، اسی طرح مظلوموں کی داد رسی اور دہشت گردی کے خلاف سخت اقدام کیا جائے۔ ان کے خطاب نے سامعین کے دلوں میں اضطراب اور بیداری کی کیفیت پیدا کر دی۔

ممبئی میں پاکستان میں شیعوں پر مظالم و مسجد میں حالیہ دہشت گردانہ حملے پر شدید احتجاج

اس کے بعد معروف شاعر جناب وصی جلالپوری نے اپنے انقلابی اور درد بھرے اشعار کے ذریعے سامعین کو محظوظ کیا۔ ان کے کلام میں مظلوموں کے لیے ہمدردی اور ظالموں کے خلاف نفرت کے جذبات نمایاں تھے، جس پر حاضرین نے بھرپور داد دی۔

ممبئی میں پاکستان میں شیعوں پر مظالم و مسجد میں حالیہ دہشت گردانہ حملے پر شدید احتجاج

مسجد ایرانیان کے امامِ جماعت مولانا سید نجیب الحسن زیدی نے اپنے خطاب میں پاکستان میں شیعوں پر ہو رہی مسلسل زیادتیوں پر گہرے رنج و غم اور شدید غصے کا اظہار کیا۔ انہوں نے شہداء کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا کہ اس افسوسناک سانحے کے مجرموں کو فوری گرفتار کر کے قرارِ واقعی سزا دی جائے۔

ممبئی میں پاکستان میں شیعوں پر مظالم و مسجد میں حالیہ دہشت گردانہ حملے پر شدید احتجاج

مولانا زیدی نے اپنی تقریر میں حالیہ دنوں میں دہشت گرد عناصر کی خطے میں نقل و حرکت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال نہایت تشویشناک ہے اور اس کے اثرات پورے عالمِ اسلام پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شیعوں پر ہونے والے مظالم ناقابلِ برداشت ہو چکے ہیں اور یہ سوال اٹھایا کہ آخر کب تک بے گناہوں کے جنازے اٹھائے جاتے رہیں گے۔

انہوں نے احتجاج کو زندہ ضمیر کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا کہ “مردہ جسم پر پتھر مارا جائے تو وہ حرکت نہیں کرتا، مگر زندہ انسان معمولی ضرب پر بھی ردِ عمل ظاہر کرتا ہے۔ ہمارا اس احتجاج میں شریک ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ ہم زندہ ہیں اور ظلم کے خلاف آواز اٹھانا ہمارا فریضہ ہے۔”

ممبئی میں پاکستان میں شیعوں پر مظالم و مسجد میں حالیہ دہشت گردانہ حملے پر شدید احتجاج

اپنے خطاب کے دوران انہوں نے عالمِ اسلام کے المیے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ جو جتنی بڑی قربانی دیتا ہے، اسے اتنے ہی بڑے الزامات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے جناب ابوطالبؑ کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جس شخصیت نے شجرۂ توحید کی آبیاری کی، انہیں بھی الزامات کا نشانہ بنایا گیا، مگر حق کا راستہ کبھی مٹایا نہیں جا سکتا۔

انہوں نے حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے دربارِ یزید میں دیے گئے تاریخی خطبے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ چودہ سو سال قبل حق کی آواز بلند کی گئی تھی کہ باطل اپنی پوری قوت لگا لے، نہ وحی کو مٹا سکتا ہے اور نہ اہلِ حق کے ذکر کو ختم کر سکتا ہے۔ آج بھی یہی پیغام زندہ ہے کہ ظلم وقتی طور پر غالب آ سکتا ہے مگر حق کو مٹا نہیں سکتا۔

ممبئی میں پاکستان میں شیعوں پر مظالم و مسجد میں حالیہ دہشت گردانہ حملے پر شدید احتجاج

مولانا نجیب الحسن زیدی کے بعد الحیات سینٹر کے سربراہ حجۃ الاسلام والمسلمین جناب حسین مہدی حسینی نے خطاب کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ حکومتِ پاکستان بلا تاخیر مجرمین کو گرفتار کر کے سخت کارروائی کرے۔ انہوں نے کہا کہ ظلم کی کشتی زیادہ دیر تک نہیں چل سکتی اور اگر ذمہ داران کی گرفت میں سستی برتی گئی تو یہ مجرمانہ غفلت تصور کی جائے گی۔

ممبئی میں پاکستان میں شیعوں پر مظالم و مسجد میں حالیہ دہشت گردانہ حملے پر شدید احتجاج

بعد ازاں ڈاکٹر فخر الحسن نے بھی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ دہشت گردوں کو عبرتناک انجام تک پہنچایا جائے تاکہ آئندہ کسی کو معصوم جانوں سے کھیلنے کی جرأت نہ ہو۔

جلسے کے اختتام پر شہداء کے درجات کی بلندی، لواحقین کے صبرِ جمیل اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے اجتماعی دعا کی گئی۔ شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ دہشت گردی اور فرقہ وارانہ تشدد کے خلاف متحد رہیں گے اور مظلوموں کی حمایت میں اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے۔

یہ احتجاجی و تعزیتی اجتماع اس بات کا مظہر تھا کہ ممبئی کے باشندگان ظلم و بربریت کے خلاف خاموش رہنے کے قائل نہیں اور جہاں کہیں بھی مظلوم پر ظلم ہوگا، وہاں سے حق کی صدا ضرور بلند ہوگی۔

قابل ذکر ہے یہ احتجاجی جلسہ حسینی فڈریشن کی جانب سے رکھا گیا تھا اور اس میں جناب عمار صاحب اور انکے بھائی سلمان صاحب کی مساعی جمیلہ نا قابل فراموش ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha