جمعرات 19 فروری 2026 - 18:09
شب ہجرت؛ راہ خدا و رسول میں امیر المومنین علیہ السلام کی جانثاری کی روشن نشانی 

حوزہ/ شبِ ہجرت کا سبق صرف تاریخ کا باب نہیں بلکہ ہر دور کے اہلِ ایمان کے لئے چراغِ راہ ہے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ حق کی بقا کے لئے ذاتی مفاد قربان کرنا ہی ایمان کی معراج ہے، رہبرِ حق کی نصرت میں خطرات سے گھبرانا کمزوری ہے اور رضائے الٰہی کے مقابل دنیا کی ہر آسائش ہیچ ہے۔

ترجمہ و اضافات: مولانا سید علی ہاشم عابدی

حوزہ نیوز ایجنسی | وَمِنَ النَّاسِ مَن يَشْرِي نَفْسَهُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ رَءُوفٌ بِالْعِبَادِ (سورہ بقرہ، آیت 207)

اور لوگوں میں وہ بھی ہیں جو اپنے نفس کو مرضی پروردگار کے لئے بیچ ڈالتے ہیں اور اللہ اپنے بندوں پر بڑا مہربان ہے۔

محسن اسلام حضرت ابو طالب علیہ السلام اور محسنہ اسلام ام المومنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ سلام اللہ علیہا کی وفات کے بعد مکہ کی فضا مزید ظلم و عداوت سے بوجھل ہو گئی تھی۔ قریش نے یہ طے کر لیا تھا کہ مختلف قبائل کے نوجوان بیک وقت حملہ کر کے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو شہید کر دیں تاکہ بنی ہاشم کسی ایک قبیلہ سے انتقام نہ لے سکیں۔ ایسے نازک لمحے میں رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مدینہ کی طرف ہجرت کا حکم ہوا۔ اس منصوبہ کی کامیابی کے لئے ایک ایسے فرد کی ضرورت تھی جو کامل ایمان، غیر متزلزل یقین اور بے مثال شجاعت کا پیکر ہو۔ نیز وہ صرف بیداری میں ہی نہیں بلکہ خواب میں بھی اسوۃ حسنۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایسی تاسی اور پیروی کرتا ہو کہ اگر آپ کے بستر پر لیٹے تو آپ جیسا لگے اور صرف انداز ہی ایسا نہ ہو بلکہ اس سے بھی نور و عطر محمدی کا صدور ہوتا ہو۔ اور یہ تمام صفات و خصائص مولائے کائنات امیر المومنین امام علی علیہ السلام میں بطور اکمل و اتم موجود تھے۔

جب امیر المومنین امام علی علیہ السلام نے سنا کہ اس بستر پر لیٹنا یقینی خطرے کو دعوت دینا ہے، تو انہوں نے کسی تردد کے بغیر عرض کیا: “یا رسول اللہ! کیا آپ سلامت رہیں گے؟” جواب اثبات میں ملا تو مشکل کشاء نے مسکرا کر بسترِ رسول کو اپنا مسکن بنا لیا۔ یہ مسکراہٹ دراصل یقینِ کامل کی علامت تھی۔ اس یقین کے ساتھ کہ جان اللہ کی امانت ہے اور اس کی رضا میں خرچ ہو جائے تو یہی حقیقی کامیابی ہے۔

یہ وہ لمحہ تھا جب آسمان نے زمین پر ایثار کی نئی تفسیر دیکھی۔ تلواروں کے سائے میں سونا، موت کو آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھنا اور پھر بھی سکون و اطمینان کے ساتھ رضائے خدا پر راضی رہنا—یہی وہ روح ہے جسے قرآن نے “يَشْرِي نَفْسَهُ” کے الفاظ میں بیان کیا ہے۔

امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا: "فَإِنَّهَا نَزَلَتْ فِي عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ عَلَيْهِ السَّلاَمُ حِينَ بَذَلَ نَفْسَهُ لِلَّهِ وَ لِرَسُولِهِ صَلَّى اللَّهِ عَلَيهِ وَ آلِهِ لَيْلَةَ اِضْطَجَعَ عَلَى فِرَاشِ رَسُولِ اَللَّهِ صَلَّى اَللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ لَمَّا طَلَبَتْهُ كُفَّارُ قُرَيْشٍ"

یہ آیت امام علی بن ابی طالب علیہ السلام کے بارے میں نازل ہوئی، جب انہوں نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے اپنی جان قربان کرنے کا عزم کیا، اور اس رات رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بستر پر سوئے جب کفار قریش آپ کی تلاش میں تھے۔ (تفسیر عیاشی، جلد 1، صفحہ 101)

یہ واقعہ مقام امامت و ولایت کے مفہوم کو بھی جِلا بخشتا ہے۔ جو ہستی شبِ ہجرت اپنی جان کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، وہی بعد میں دین کی امانت اور امت کی رہبری کی اہل قرار پاتی ہے۔ امیرالمؤمنین علیہ السلام کی شخصیت میں شجاعت، اطاعت، اخلاص اور قربانی کا ایسا امتزاج نظر آتا ہے جو اسلامی قیادت کے لئے معیار متعین کرتا ہے۔

شبِ ہجرت کا سبق صرف تاریخ کا باب نہیں بلکہ ہر دور کے اہلِ ایمان کے لئے چراغِ راہ ہے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ حق کی بقا کے لئے ذاتی مفاد قربان کرنا ہی ایمان کی معراج ہے، رہبرِ حق کی نصرت میں خطرات سے گھبرانا کمزوری ہے اور رضائے الٰہی کے مقابل دنیا کی ہر آسائش ہیچ ہے۔

شبِ ہجرت دراصل ایثار کی وہ درخشاں صبح ہے جس کی کرنیں قیامت تک اہلِ ایمان کے دلوں کو منور کرتی رہیں گی۔ امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام کا یہ عمل رہتی دنیا تک اس حقیقت کی گواہی دیتا رہے گا کہ جب ایمان کامل ہو جائے تو جان بھی سستی ہو جاتی ہے اور رضائے خدا سب سے قیمتی سرمایہ بن جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسانیت سربلند ہوتی ہے اور تاریخ، وفا و فداکاری کے سنہری حروف سے رقم ہو جاتی ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha

تبصرے

  • Showkat hussain IN 20:34 - 2026/02/19
    Liva