جمعرات 12 مارچ 2026 - 13:36
عدلِ علوی، ایثارِ حسینی کے زیر سایہ طوفانوں کے مقابل قیادتِ ایمان

حوزہ/ آیۃ اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای حفظہ اللہ کی استقامت، ہمت اور یقین اسی علوی و حسینی مکتب کی پیروی کی یاد دلاتے ہیں۔ جب ایک انسان اپنے ذاتی غم، شہادتوں کے صدمے اور خطرات کے باوجود امت کی خدمت کی ذمہ داری قبول کرتا ہے تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ اس کے دل میں خوف سے زیادہ ایمان اور حالات سے زیادہ یقین کی طاقت موجود ہے۔

تحریر: مولانا سید علی ہاشم عابدی، لکھنو

حوزہ نیوز ایجنسی | تاریخ اسلام میں جب ایمان، شجاعت، قیادت اور استقامت کا تذکرہ ہوتا ہے تو سب سے پہلے نگاہیں محرابِ کوفہ کے اس عظیم شہید کی طرف اٹھتی ہیں جسے دنیا امیر المومنین امام علی علیہ السلام کے نام سے جانتی ہے۔ وہ علیؑ جنہوں نے عدل کو حکومت کا معیار بنایا، مظلوم کی مدد کو اپنی ذمہ داری سمجھا اور ظلم کے مقابلے میں کبھی سر نہیں جھکایا۔ ان کی پوری زندگی حق کی پاسبانی اور انسانیت کی خدمت کی داستان ہے۔ جب زہر آلود تلوار سرِ اقدس پر لگی اور محرابِ مسجد خون سے رنگین ہوئی تو بھی علیؑ کے لبوں پر شکست کا شکوہ نہ تھا بلکہ یقین کی وہ صدا تھی جو قیامت تک اہلِ ایمان کے دلوں میں گونجتی رہے گی: “فزتُ وربِّ الکعبہ” — ربِ کعبہ کی قسم، میں کامیاب ہو گیا۔

یہ جملہ دراصل ایمان کی وہ منزل کمال ہے جہاں انسان کو موت سے بھی شکست محسوس نہیں ہوتی بلکہ وہ اسے اپنے رب سے ملاقات کا ذریعہ اور ابدی کامیابی سمجھتا ہے۔ یہی علیؑ کا مکتب ہے؛ یقین کا مکتب، استقامت کا مکتب اور حق پر ڈٹ جانے کا مکتب۔

پھر تاریخ کا ورق پلٹتا ہے اور کربلا کا میدان سامنے آتا ہے۔ یہاں ہمیں امام حسین علیہ السلام دکھائی دیتے ہیں؛ وہ امام جنہوں نے باطل کے سامنے سر جھکانے کے بجائے سر کٹانا قبول کیا۔ ان کے سامنے طاقتور لشکر تھا، خیموں میں پیاسے بچے تھے، عزیزوں کی لاشیں زمینِ کربلا پر بکھری ہوئی تھیں، مگر امام حسین علیہ السلام کے دل میں یقین کی وہ روشنی تھی جسے کوئی طوفان بجھا نہیں سکتا تھا۔ انہوں نے دنیا کو بتا دیا کہ حق کے راستے پر چلنے والے کبھی حالات کے غلام نہیں بنتے۔

کربلا دراصل یہ درس دیتی ہے کہ اگر ایمان زندہ ہو تو انسان مصیبتوں کے درمیان بھی عظمت کے ساتھ کھڑا رہتا ہے۔ یہی علوی عدل اور حسینی قربانی وہ روحانی سرمایہ ہے جس نے صدیوں سے اہلِ حق کو طاقت دی ہے۔

اسی ولائی روایت کے تسلسل میں جب ہم اپنے زمانے کے حالات کو دیکھتے ہیں تو ہمیں یہ حقیقت واضح نظر آتی ہے کہ اہلِ بیت علیہم السلام کے مکتب کی تعلیمات صرف تاریخ کا قصہ نہیں بلکہ آج بھی زندہ حقیقت ہیں۔ جب حالات سخت ہوں، جب گھر کے چراغوں نے شہادت کو روشنی دے دی ہو، جب دشمن کی دھمکیاں گونج رہی ہوں، جب ذاتی زندگی کے زخم ابھی تازہ ہوں، تب قیادت کی ذمہ داری قبول کرنا محض سیاسی فیصلہ نہیں ہوتا بلکہ ایمان اور یقین کا اعلان ہوتا ہے۔

ایسے حالات میں آیۃ اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای حفظہ اللہ کی استقامت، ہمت اور یقین اسی علوی و حسینی مکتب کی پیروی کی یاد دلاتے ہیں۔ جب ایک انسان اپنے ذاتی غم، شہادتوں کے صدمے اور خطرات کے باوجود امت کی خدمت کی ذمہ داری قبول کرتا ہے تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ اس کے دل میں خوف سے زیادہ ایمان اور حالات سے زیادہ یقین کی طاقت موجود ہے۔

ایمان دراصل وہ قوت ہے جو انسان کو خوف کی زنجیروں سے آزاد کر دیتی ہے۔ یقین وہ چراغ ہے جو اندھیری راتوں میں بھی راستہ دکھاتا ہے۔ اور ہمت وہ سرمایہ ہے جو انسان کو طوفانوں کے درمیان بھی ثابت قدم رکھتا ہے۔

تاریخ اہلِ بیت علیہم السلام ہمیں یہی بتاتی ہے کہ مردانِ خدا مصیبتوں سے نہیں ڈرتے بلکہ انہیں امتحان سمجھ کر قبول کرتے ہیں۔ ان کے دل میں یہ یقین ہوتا ہے کہ اگر راستہ حق کا ہو تو مشکلات دراصل انسان کی روح کو اور مضبوط کر دیتی ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ تاریخ کے ہر دور میں وہی لوگ کامیاب ہوئے ہیں جنہوں نے خوف کے بجائے ایمان کو اپنا سہارا بنایا۔ جنہوں نے دشمن کی دھمکیوں کے سامنے سر نہیں جھکایا بلکہ اپنے عزم کو اور بلند کر دیا۔

جب ایک انسان کے دل میں امیر المومنین امام علی علیہ السلام کا عدل، سید الشہداء امام حسین علیہ السلام کی قربانی اور اہلِ بیت علیہم السلام کی محبت زندہ ہو تو اس کی نگاہیں صرف حالات پر نہیں بلکہ مقصد پر ہوتی ہیں۔ وہ جانتا ہے کہ حق کا راستہ آسان نہیں ہوتا، مگر یہی وہ راستہ ہے جو انسان کو عزت اور بقا عطا کرتا ہے۔

یقیناً ایسے لمحات دراصل روح کی آزمائش ہوتے ہیں۔ اللہ اپنے بندوں کو کبھی کبھی ایسے راستوں پر لے جاتا ہے جہاں ظاہری سہارا کم اور باطنی یقین زیادہ ضروری ہوتا ہے۔ یہی وہ لمحے ہوتے ہیں جب ایمان کی اصل طاقت ظاہر ہوتی ہے۔

تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جب بھی حق کا قافلہ مشکل راستوں سے گزرا ہے تو اس کے سالار وہی لوگ بنے ہیں جنہوں نے اپنے دل کو خوف سے خالی اور یقین سے معمور کر لیا تھا۔ وہ جانتے تھے کہ زندگی اور موت دونوں اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔ اگر زندگی حق کے لئے ہو تو عبادت ہے اور اگر موت حق کے راستے میں آئے تو شہادت ہے۔

اسی یقین کے ساتھ مردانِ حق ہمیشہ آگے بڑھتے ہیں۔ وہ اپنے زخموں کو صبر میں بدل دیتے ہیں، اپنے آنسوؤں کو عزم میں ڈھال دیتے ہیں اور اعلان کرتے ہیں کہ حق کا قافلہ کبھی نہیں رکے گا۔

کیونکہ مکتبِ اہلِ بیت علیہم السلام یہی سکھاتا ہے کہ ظلم کی رات کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو، عدل کا سورج آخرکار طلوع ہوتا ہے۔ اور جب وہ سورج طلوع ہوتا ہے تو اس کی روشنی میں علیؑ کا عدل، حسینؑ کی قربانی اور مردانِ ایمان کی استقامت ایک ساتھ جگمگاتی نظر آتی ہے۔

بارگاہ معبود میں دعا ہے کہ شہید رہبر اور ان کے ہمراہ شہید ہونے والے دیگر شہداء کے درجات میں اضافہ فرمائے، انہیں شہدائے کربلا علیہم السلام کے ساتھ محشور فرمائے اور موجودہ قائد و رہبر اور ان کے مخلص رفقائے کار کی حفاظت فرمائے۔ آمین

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha