جمعرات 12 مارچ 2026 - 22:25
امریکی اڈے کیوں نشانہ بنے؟ جنگ کے پسِ پردہ چلنے والی اصل کہانی۔

حوزہ/ جنگ کی حقیقت یہی ہے کہ میدان میں کھڑے سپاہی سے زیادہ اہم وہ نظام ہوتا ہے جو اسے دیکھنے، سننے اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت دیتا ہے۔ ایران نے اسی نظام پر ضرب لگائی ہے۔ اور شاید یہی وجہ ہے کہ اس ضرب کی بازگشت صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہی بلکہ واشنگٹن اور تل ابیب کے ایوانوں تک سنائی دے رہی ہے۔

تحریر: سیدکرامت حسین شعور جعفری

حوزہ نیوز ایجنسی I مشرقِ وسطیٰ کی فضا اس وقت جنگی خبروں سے بھری ہوئی ہے۔ ایران پر اسرائیل اور امریکہ کی مسلط کردہ جنگ کو دو ہفتے ہو چکے ہیں۔ ٹیلی ویژن اسکرینوں پر ہر طرف ایک ہی منظر دکھائی دیتا ہے: اسرائیل پر گرنے والے میزائل، امریکی اڈوں کی طرف بڑھتے دھوئیں کے بادل، آبنائے ہرمز میں آگ پکڑتے جہاز اور تیل کی تنصیبات کے گرد منڈلاتا خطرہ۔

مگر اس شور و غل، دھماکوں کی خبروں اور میزائلوں کی ویڈیوز کے بیچ ایک پہلو ایسا بھی ہے جس پر عالمی میڈیا نے زیادہ روشنی ڈالنے سے گریز کیا ہے۔ ٹیلی ویژن اسکرینوں اور خبروں میں زیادہ تر بات اس پر ہوتی رہی کہ کہاں میزائل گرے، کس عمارت کو نقصان پہنچا اور کس شہر میں سائرن بجے۔ لیکن اس جنگ کی اصل کہانی صرف اتنی نہیں ہے۔ اصل قصہ اُس حکمتِ عملی کا ہے جو بظاہر نظر نہیں آتی مگر جنگ کا رخ بدل دیتی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ ایران نے اس بار صرف میزائل داغنے پر اکتفا نہیں کیا۔ اس نے جنگ کے اُس پورے نظام کو نشانہ بنایا جس کے بغیر امریکہ اور اسرائیل کی دفاعی طاقت ادھوری ہو جاتی ہے۔ فوجی اصطلاح میں اسے دفاعی نیٹ ورک کی “آنکھیں اور کان” کہا جاتا ہے۔ یعنی وہ ریڈار، سینسر، سیٹلائٹ رابطے اور ارلی وارننگ سسٹمز جو دشمن کی ہر حرکت کو دیکھتے اور سنتے ہیں، اور پھر چند سیکنڈوں میں کمانڈ سنٹر کو خبر دے دیتے ہیں کہ کہاں سے خطرہ آ رہا ہے اور کس سمت جا رہا ہے۔

جنگ کے میدان میں طاقت صرف میزائلوں یا طیاروں کی تعداد سے نہیں ناپی جاتی۔ اصل طاقت اُس نظام میں ہوتی ہے جو دشمن کی حرکت کو بروقت دیکھ سکے، اس کا اندازہ لگا سکے اور فوراً جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ اگر یہی نظام متاثر ہو جائے تو جدید ترین ہتھیار بھی کچھ دیر کے لیے بے بس ہو جاتے ہیں۔

ایران نے اسی کمزور کڑی کو پہچانا اور سیدھا اسی پر ضرب لگائی۔ گویا اس نے دشمن کے ہاتھ سے ہتھیار چھیننے کے بجائے پہلے اُس کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی اور کانوں کو خاموش کر دیا۔ جب ریڈار خاموش ہونے لگے اور ارلی وارننگ سسٹمز مفلوج ہونے لگے تو وہ دفاعی نظام، جس پر اربوں ڈالر خرچ ہوئے تھے، اچانک اپنی تاثیر کھونے لگا

سادہ لفظوں میں سمجھیں تو امریکہ اور اسرائیل کی میزائل دفاعی طاقت کا اصل راز اُن کے جدید ریڈار اور ارلی وارننگ سسٹمز تھے۔ یہ وہ آلات تھے جو ایران سے کسی میزائل کے اُڑتے ہی اس کی پہچان کر لیتے تھے۔ چند لمحوں میں یہ معلوم ہو جاتا تھا کہ میزائل کس قسم کا ہے، کس رفتار سے جا رہا ہے، اس کا راستہ کیا ہے اور ممکنہ ہدف کہاں ہے۔

یہ معلومات فوراً کمانڈ سینٹر تک پہنچتی تھیں۔ پھر سائرن بجتے تھے، لوگ بنکروں کی طرف بھاگتے تھے، اور فضائی دفاعی نظام فیصلہ کر لیتا تھا کہ میزائل کو روکنے کے لیے کون سا انٹرسیپٹر استعمال کرنا ہے۔ اس پورے عمل کو مکمل ہونے میں تقریباً پندرہ منٹ کا وقت مل جاتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ اکثر میزائل راستے میں ہی تباہ ہو جاتے تھے اور اگر زمین تک پہنچ بھی جاتے تو نقصان نسبتاً کم ہوتا تھا۔

پچھلے سال ایران اور اسرائیل کے درمیان ہونے والی بارہ روزہ کشیدگی میں یہی نظام پوری طرح فعال نظر آیا تھا۔ مگر اس بار ایران نے جنگ کا انداز بدل دیا۔

ایران نے سیدھا میزائلوں کی بارش کرنے کے بجائے پہلے اُن ریڈاروں اور ارلی وارننگ سسٹمز کو نشانہ بنایا جو پورے دفاعی نظام کی بنیاد تھے۔ خلیج کے مختلف ممالک میں نصب یہ نظام امریکی دفاعی نیٹ ورک کی ریڑھ کی ہڈی تھے۔

جب یہ ریڈار ناکارہ ہونے لگے تو دفاعی نظام کی حالت کچھ ایسی ہو گئی جیسے کسی طاقتور پہلوان کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی جائے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ اسرائیل کو میزائل کے آنے کی اطلاع پندرہ منٹ پہلے نہیں بلکہ صرف دو یا تین منٹ پہلے ملتی ہے۔

دو یا تین منٹ میں نہ مناسب دفاعی فیصلہ ہو سکتا ہے اور نہ ہی شہریوں کو محفوظ پناہ گاہوں تک پہنچنے کا وقت ملتا ہے۔ کئی مرتبہ تو میزائل گرنے کے بعد سائرن بجتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انٹرسیپشن کی شرح بھی نمایاں طور پر کم ہو گئی ہے اور جانی نقصان میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

یوں کہا جا سکتا ہے کہ ایرانی میزائلوں نے اسرائیلی فضا میں ایک طرح کی محدود فضائی برتری حاصل کر لی ہے۔

خلیج کے خطے میں جن اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، اُن میں اردن کا موفق السالتی ایئر بیس بھی شامل ہے۔ یہاں نصب تھاڈ نظام کا جدید ریڈار بحیرۂ روم اور شام و لبنان کی فضاؤں پر نظر رکھتا تھا۔ تقریباً تین سو ملین ڈالر مالیت کا یہ نظام اب ملبے میں تبدیل ہو چکا ہے۔

قطر میں نصب ایک ارب ڈالر سے زیادہ مالیت کا فیزڈ ایرے ریڈار بھی اس نیٹ ورک کا اہم ستون تھا۔ اس کی نگرانی کا دائرہ پانچ ہزار کلومیٹر تک پھیلا ہوا تھا اور یہ خلیج سے لے کر دور دراز خطوں تک نظر رکھ سکتا تھا۔ جنگ کے ابتدائی دنوں میں ہی یہ نظام بھی ناکارہ ہو گیا۔

متحدہ عرب امارات کے الرویس اور الصدر کے علاقوں میں نصب تھاڈ ریڈار بھی نشانہ بنے۔ سیٹلائٹ تصاویر کے مطابق دونوں مقامات پر تباہی کا انداز تقریباً ایک جیسا ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حملہ نہایت درستگی کے ساتھ کیا گیا۔

سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئر بیس کے قریب موجود دفاعی نظام اور اسرائیل کے ایرو میزائل ڈیفنس ریڈار کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ دنیا بھر میں ایسے جدید تھاڈ ریڈاروں کی تعداد بہت محدود ہے۔ امریکہ نے اب تک صرف سولہ ایسے نظام تیار کیے ہیں جو مختلف اہم مقامات پر تعینات ہیں۔ دفاعی ماہرین کے مطابق اگر ان میں سے چند بھی تباہ ہو جائیں تو ان کی دوبارہ تیاری میں پانچ سے دس سال لگ سکتے ہیں۔

اور سب سے حیران کن پہلو یہ ہے کہ ایران نے ان مہنگے نظاموں کو تباہ کرنے کے لیے کوئی غیر معمولی یا مہنگی ٹیکنالوجی استعمال نہیں کی۔ کم قیمت ون وے ڈرونز اور کم بلندی پر پرواز کرنے والے میزائلوں کے ذریعے ان اربوں ڈالر کے ریڈاروں کو ناکارہ بنا دیا گیا۔

اس وقت صورتحال یہ ہے کہ دفاعی نیٹ ورک کے کئی حصے مفلوج ہو چکے ہیں۔ آنے والے میزائل کے بارے میں بروقت معلومات حاصل کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ اسی لیے امریکہ نے اپنے بحری بیڑے کو بھی خطے سے کچھ فاصلے پر منتقل کر دیا ہے۔

یہ تمام صورتحال ایک بنیادی سوال کو جنم دیتی ہے۔ کچھ لوگ حیرت اور اعتراض کے لہجے میں پوچھ رہے ہیں کہ ایران نے عرب ممالک میں موجود امریکی تنصیبات کو کیوں نشانہ بنایا؟

لیکن یہ سوال دراصل لاعلمی سے زیادہ فکری کمزوری کی علامت ہے۔ جنگ کے بنیادی اصول سے ناواقفیت کا ثبوت ہے۔ جنگ میں کوئی بھی ملک صرف اُس دشمن کو نہیں دیکھتا جو سامنے کھڑا ہے، بلکہ اُس پورے نظام کو دیکھتا ہے جو دشمن کو طاقت فراہم کر رہا ہوتا ہے۔ اگر دشمن کی تلوار کسی اور کے ہاتھ میں ہو، تو سمجھدار سپاہی صرف تلوار کو نہیں بلکہ اُس ہاتھ کو بھی دیکھتا ہے جو اسے تھامے ہوئے ہے۔

خلیج کے مختلف ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈے اور دفاعی تنصیبات دراصل ایران کے خلاف جنگی مشین کا حصہ ہیں۔ یہ وہی ریڈار، سینسر اور کمانڈ سسٹمز ہیں جن کے ذریعے اسرائیل اور امریکہ ایران کے میزائلوں کی نگرانی کرتے ہیں، انہیں روکنے کی کوشش کرتے ہیں اور اپنی دفاعی حکمتِ عملی بناتے ہیں۔ اگر یہی نظام دشمن کی آنکھیں اور کان بنے ہوئے ہوں تو کیا کسی بھی ملک سے یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ انہیں ہاتھ نہ لگائے؟

یہ تو ایسا ہی ہے جیسے کوئی دشمن آپ کے گھر پر حملہ کرے، لیکن آپ کو کہا جائے کہ آپ صرف دروازے پر کھڑے حملہ آور سے لڑیں، اُس شخص کو نہ چھیڑیں جو اس کے ہاتھ میں اسلحہ دے رہا ہے اور پیچھے بیٹھ کر اسے ہدایات دے رہا ہے۔

اصل میں اعتراض کرنے والوں کی مشکل یہ نہیں کہ وہ حقیقت نہیں سمجھ سکتے، بلکہ یہ ہے کہ وہ حقیقت کو ماننے کے لیے تیار نہیں۔ ان میں سے بہت سے لوگ وہ ہیں جو برسوں سے امریکہ کی عسکری موجودگی کو مشرقِ وسطیٰ کی “حقیقت” قرار دیتے آئے ہیں۔ انہیں کبھی یہ سوال نہیں سوجھا کہ عرب سرزمین پر ہزاروں میل دور سے آئی ہوئی طاقت کے فوجی اڈے کیوں قائم ہیں۔ انہیں کبھی یہ فکر نہیں ہوئی کہ یہ اڈے کس کے خلاف استعمال ہوتے ہیں۔

مگر جیسے ہی ایران نے اسی نظام کو نشانہ بنایا، اچانک انہیں عرب ممالک کی خودمختاری یاد آنے لگی۔

یہ دراصل وہی دوہرا معیار ہے جس نے خطے کو مسلسل کمزور رکھا ہے۔ اگر کسی ملک کی سرزمین پر موجود تنصیبات کسی دوسرے ملک کے خلاف جنگی کردار ادا کر رہی ہوں تو وہ تنصیبات عملی طور پر جنگ کا حصہ بن جاتی ہیں۔ بین الاقوامی عسکری اصولوں میں اسے جائز عسکری ہدف سمجھا جاتا ہے۔

لہٰذا سوال یہ نہیں کہ ایران نے امریکی تنصیبات کو کیوں نشانہ بنایا۔ اصل سوال یہ ہے کہ وہ تنصیبات وہاں تھیں ہی کیوں؟ اور وہ کس کے خلاف استعمال ہو رہی تھیں؟

جنگ کی حقیقت یہی ہے کہ میدان میں کھڑے سپاہی سے زیادہ اہم وہ نظام ہوتا ہے جو اسے دیکھنے، سننے اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت دیتا ہے۔ ایران نے اسی نظام پر ضرب لگائی ہے۔

اور شاید یہی وجہ ہے کہ اس ضرب کی بازگشت صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہی بلکہ واشنگٹن اور تل ابیب کے ایوانوں تک سنائی دے رہی ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha