حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مجمع علماء و خطباء حیدرآباد دکن نے اسلامی جمہوریہ ایران کے تیسرے رہبر، آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کے انتخاب پر اپنی قلبی مبارکباد اور بھرپور حمایت کا اعلان کرتے ہوئے امت مسلمہ سے یکجہتی کی اپیل کی ہے۔
بیانیہ کا مکمل متن اس طرح ہے؛
بسم اللہ الرحمن الرحیم
مجمع علماء و خطباء حیدرآباد دکن کی جانب سے اسلامی جمہوریہ ایران کی موجودہ صورتِ حال اور امتِ مسلمہ کے وسیع تر مفادات کے پیشِ نظر ہم یہ مشترکہ بیان جاری کرتے ہیں کہ آیت اللہ مجتبٰی خامنہ ای کے اسلامی جمہوریہ ایران کے تیسرے رہبر کے طور پر منتخب ہونے پر ہم اپنی قلبی مبارکباد، نیک تمنائیں اور بھرپور حمایت کا اظہار کرتے ہیں۔
اسلامی جمہوریہ ایران نہ صرف عالمِ اسلام میں ایک منفرد اور باوقار سیاسی و فکری نظام کی حیثیت رکھتا ہے بلکہ یہ نظام مرجعیتِ دینی، ولایتِ فقیہ اور اسلامی اصولوں کی بنیاد پر قائم ایک ایسا ماڈل ہے جس نے استکباری طاقتوں کے مقابلے میں استقامت، خود مختاری اور اسلامی اقدار کے تحفظ کی روشن مثال قائم کی ہے۔
یہ بات بھی تاریخی حقیقت ہے کہ ایران میں ولایتِ فقیہ کے نظام کی عملی بنیاد رہبرِ کبیر حضرت امام خمینیؒ نے رکھی۔ انہوں نے انقلابِ اسلامی کی قیادت کرتے ہوئے نہ صرف ایران کے اندر ایک اسلامی نظام قائم کیا بلکہ پوری دنیا کے مسلمانوں اور مظلوم اقوام کو انقلابِ اسلامی کے پیغام، استقلال اور مزاحمت کی فکر سے آشنا کیا۔
امام خمینیؒ کی رحلت کے بعد جب حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کو دوسرے رہبر کے طور پر منتخب کیا گیا تو ابتدا میں بعض حلقوں میں یہ سوال پیدا ہوا کہ آیا یہ عظیم کارواں کس طرح آگے بڑھے گا۔ مگر بہت ہی مختصر مدت میں دنیا نے یہ محسوس کیا کہ رہبر معظم نے نہایت حکمت، بصیرت اور استقامت کے ساتھ امام خمینیؒ کے افکار، انقلاب کے اصولوں اور ولایتِ فقیہ کے نظام کو نہ صرف مضبوطی کے ساتھ آگے بڑھایا بلکہ اسے عالمی سطح پر مزید استحکام عطا کیا۔
آج جب آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای تیسرے رہبر کے طور پر اس ذمہ داری کو سنبھال رہے ہیں تو ہمیں یقین ہے کہ یہ مبارک سلسلہ اسی طرح استحکام کے ساتھ جاری رہے گا اور انقلابِ اسلامی کے نظریات، رہبر کبیر کے افکار اور امتِ مسلمہ کی وحدت و بیداری کا یہ کارواں مزید قوت اور بصیرت کے ساتھ آگے بڑھے گا۔
ہم سمجھتے ہیں کہ رہبرِ انقلاب کی قیادت اسلامی جمہوریہ ایران کے استحکام، وحدتِ امت اور مظلوم اقوام کی حمایت میں بنیادی ستون کی حیثیت رکھتی ہے۔ ولایتِ فقیہ کا نظام درحقیقت اسی تسلسل کا مظہر ہے جس کے ذریعے دین اور سیاست کے درمیان ایک متوازن، عادلانہ اور شرعی نظام قائم کیا گیا ہے۔ اس نظام نے نہ صرف ایران کے عوام کو استقلال اور عزت عطا کی بلکہ عالمِ اسلام میں بیداری اور مزاحمت کی نئی روح بھی پیدا کی ہے۔
مرجعیتِ دینی ہمیشہ سے امتِ مسلمہ کی فکری اور روحانی رہنمائی کا مرکز رہی ہے، اور ولایتِ فقیہ اسی مرجعیت کے عملی و اجتماعی کردار کی توسیع ہے۔ لہٰذا ہم اس نظام کو اسلامی معاشرے کے استحکام اور اسلامی اقدار کے تحفظ کے لیے نہایت اہم سمجھتے ہیں۔
مجمع علماء و خطباء حیدرآباد دکن اس موقع پر اسلامی جمہوریہ ایران کی قیادت، اس کے عوام اور خصوصاً رہبرِ انقلاب کے ساتھ اپنی مکمل اخلاقی و معنوی یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔ ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس قیادت کو مزید توفیقات عطا فرمائے تاکہ عالمِ اسلام میں عدل، آزادی، استقلال اور اسلامی اقدار کا پرچم مزید بلند ہو۔
آخر میں ہم عالمِ اسلام کے تمام علماء، دانشوروں اور بیدار امت کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اسلامی جمہوریہ ایران کی خود مختاری، مزاحمتی پالیسی اور اسلامی نظام کے استحکام کے لیے اپنی حمایت اور یکجہتی کا اظہار کریں۔
والسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
مجمع علماء و خطباء حیدرآباد دکن









آپ کا تبصرہ