حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مجمع علماء و خطباء حیدرآباد دکن کے بیان کا مکمل متن اس طرح ہے؛
بسم اللہ الرحمن الرحیم
مجمع علماء و خطباء حیدرآباد کی جانب سے یومِ القدس کے موقع پر یہ واضح پیغام دیا جاتا ہے کہ مسئلۂ فلسطین صرف ایک علاقائی یا سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ پوری امتِ مسلمہ اور تمام انسانیت کے ضمیر کا مسئلہ ہے۔ بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ مسلمانوں کا قبلۂ اول اور ایک مقدس مقام ہے، جس کا تحفظ اور آزادی ہر مسلمان کی دینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔
آج فلسطین خصوصاً غزہ میں مظلوم عوام مسلسل ظلم و ستم کا سامنا کر رہے ہیں۔ معصوم بچے، خواتین اور بے گناہ شہری ظلم و بربریت کا نشانہ بن رہے ہیں اور انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ دنیا کے اکثر طاقتور ممالک کی خاموشی اس ظلم کو مزید بڑھا رہی ہے۔
یومِ القدس دراصل مظلوم فلسطینی عوام سے اظہارِ یکجہتی اور ظالم قوتوں کے خلاف بیداری کا دن ہے۔ اس دن دنیا بھر کے مسلمان اور انصاف پسند افراد یہ عہد کرتے ہیں کہ وہ بیت المقدس کی آزادی اور فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت کے لیے اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے۔
موجودہ حالات میں یہ حقیقت بھی واضح ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران اور محورِ مقاومت مسلسل فلسطینی عوام کی حمایت میں کھڑے ہیں۔ ایران نے ہمیشہ مسئلۂ فلسطین کو امتِ مسلمہ کا بنیادی مسئلہ قرار دیا ہے اور اس سلسلے میں اپنی سیاسی و اخلاقی حمایت جاری رکھی ہے۔
ہم رہبرِ معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کی قیادت کو بھی خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں جو اس نازک دور میں استقامت، مزاحمت اور مظلوموں کی حمایت کا پیغام دے رہے ہیں اور عالمِ اسلام کو اتحاد اور بیداری کی دعوت دے رہے ہیں۔
مجمع علماء و خطباء حیدرآباد دنیا کے تمام انصاف پسند ممالک اور بین الاقوامی اداروں سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ فلسطین میں جاری ظلم و بربریت کو فوری طور پر روکنے کے لیے عملی اقدامات کریں، غزہ کے مظلوم عوام تک انسانی امداد پہنچائی جائے اور مسجد اقصیٰ کی حرمت و تقدس کو برقرار رکھا جائے۔
ہم تمام علماء، خطباء اور عوام الناس سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اتحاد، بیداری اور دعا کے ذریعے مظلوم فلسطینی عوام کی حمایت میں اپنا کردار ادا کریں اور ظلم کے خلاف اپنی آواز بلند کریں۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ مظلوم فلسطینی عوام کی مدد فرمائے، امتِ مسلمہ کو اتحاد و استقامت عطا کرے اور دنیا میں امن و انصاف قائم فرمائے۔
والسلام
مجمع علماء و خطباء حیدرآباد









آپ کا تبصرہ