تحریر: مولانا ریحان حیدر
حوزہ نیوز ایجنسی I رمضان المبارک کے آخری جمعہ کو دنیا بھر میں یوم القدس عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد فلسطین کے مظلوم عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرنا اور بیت المقدس کی آزادی کے لیے آواز بلند کرنا ہے۔ مختلف ممالک میں اس موقع پر ریلیاں، سیمینار اور اجتماعات منعقد کیے جاتے ہیں جن میں علماء، دانشور اور عوام بڑی تعداد میں شرکت کرتے ہیں۔
علماء نے اپنی خطابات میں یہ پیغام دیتے ہیں کہ یوم القدس امتِ مسلمہ کے لیے نہایت اہم دن ہے کیونکہ یہ مسلمانوں کو فلسطین کے مسئلے کی طرف متوجہ کرتا ہے اور انہیں اپنے دینی اور اخلاقی فرائض کی یاد دلاتا ہے۔ اس دن مسلمان دنیا بھر میں مظلوم فلسطینی عوام کی حمایت کا اعلان کرتے ہیں اور ظلم و ناانصافی کے خلاف متحد ہونے کا پیغام دیتے ہیں۔
پھر علماء اس بات پر بھی توجہ دلاتے ھیکہ بیت المقدس مسلمانوں کا ایک مقدس شہر ہے اور اسی شہر میں واقع Al-Aqsa Mosque اسلام کا مقدس ترین مقام ہے۔ یوم القدس کی اہمیت اس بات میں بھی ہے کہ یہ دن مسلمانوں کو اپنے مقدسات کی حفاظت اور ان کی آزادی کے لیے جدوجہد کی یاد دہانی کراتا ہے۔
یوم القدس صرف ایک احتجاجی دن نہیں بلکہ یہ امت مسلمہ کے اتحاد، بیداری اور مظلوموں کی حمایت کا عالمی پیغام ہے۔ اس دن کے ذریعے مسلمانوں کو یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ وہ فلسطینی عوام کی آزادی اور انصاف کے قیام کے لیے اپنی آواز بلند کریں۔
واضح رہے کہ یوم القدس منانے کی اپیل 1979 میں آیت اللہ روح اللہ خمینی نے کی تھی، جس کے بعد سے ہر سال رمضان کے آخری جمعہ کو یہ دن منایا جاتا ہے۔ اس دن دنیا کے مختلف ممالک میں خصوصی پروگرام منعقد ہوتے ہیں جن میں فلسطین کی آزادی، مسلمانوں کے اتحاد اور مظلوموں کی حمایت کا پیغام دیا جاتا ہے۔
یوم القدس کی اصل اہمیت یہی ہے کہ یہ دن مسلمانوں کو بیداری، اتحاد اور اپنے مقدسات کے دفاع کا شعور دیتا ہے اور فلسطین کی آزادی کی امید کو زندہ رکھتا ہے۔









آپ کا تبصرہ