یوم القدس، مظلوموں کی حمایت اور اسلامی وحدت کا مظہر

حوزہ/ یوم القدس، جو ماہِ رمضان کے آخری جمعے کو منایا جاتا ہے، امتِ مسلمہ کے لیے بے حد اہمیت رکھتا ہے۔ یہ دن صرف فلسطینی مظلوم عوام کی آزادی کا نعرہ نہیں، بلکہ اسلامی اتحاد، بیداری اور ظالموں کے خلاف مشترکہ جدوجہد کا مظہر بھی ہے۔ یوم القدس، امتِ مسلمہ کے لیے ظلم اور استحصال کے خلاف ایک عالمگیر پیغام رکھتا ہے، جو مسلمانوں کی اجتماعی بیداری کا عملی نمونہ ہے۔  

تحریر: عباس رضا [فارغ التحصیل جامعۃ الکوثر]


حوزہ نیوز ایجنسی I یوم القدس، جو ماہِ رمضان کے آخری جمعے کو منایا جاتا ہے، امتِ مسلمہ کے لیے بے حد اہمیت رکھتا ہے۔ یہ دن صرف فلسطینی مظلوم عوام کی آزادی کا نعرہ نہیں، بلکہ اسلامی اتحاد، بیداری اور ظالموں کے خلاف مشترکہ جدوجہد کا مظہر بھی ہے۔ یوم القدس، امتِ مسلمہ کے لیے ظلم اور استحصال کے خلاف ایک عالمگیر پیغام رکھتا ہے، جو مسلمانوں کی اجتماعی بیداری کا عملی نمونہ ہے۔


بیت المقدس: پہلا قبلہ اور صہیونی سازشوں کا شکار سرزمین

بیت المقدس، جو اسلام کا پہلا قبلہ ہے، صدیوں سے صہیونی طاقتوں کی سازشوں کا شکار رہا ہے۔ اس مقدس سرزمین کی آزادی، فلسطینی عوام کے حقوق کی بحالی کے ساتھ ساتھ ہر اُس مسلمان کی ذمہ داری بھی ہے جو اسلامی غیرت اور دینی حمیت رکھتا ہے۔ یوم القدس ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ ظلم کے خلاف خاموش رہنا، ظالم کی حمایت کے مترادف ہے۔

رہبر کبیر سید خمینی رضوان اللہ علیہ کا یوم القدس کے متعلق فرمان

اسلامی انقلاب کے بانی امام خمینی رضوان اللہ علیہ نے اس عظیم عالمی دن کے بارے میں فرمایا:
"روز قدس فقط روز فلسطین نیست، روز اسلام است؛ روز حکومت اسلامی است. روزی است که باید جمهوری اسلامی در سراسر کشورها بیرق آن برافراشته شود."

ترجمہ:یوم القدس صرف فلسطین کا دن نہیں بلکہ اسلام کا دن ہے، یہ اسلامی حکمرانی کا دن ہے۔ یہ وہ دن ہے جب اسلامی جمہوری نظام کا پرچم تمام ممالک میں بلند ہونا چاہیے۔

اس فرمان سے واضح ہوتا ہے کہ یوم القدس کا تعلق صرف فلسطین کی آزادی سے نہیں، بلکہ اسلامی معاشرے کی احیا سے بھی ہے۔ امام خمینی رضوان اللہ علیہ نے اس دن کو اسلام کی بقا سے جوڑ دیا، جس سے اس مسئلے کی سنگینی اور اہمیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

اسلامی تعلیمات اور یوم القدس کی بنیاد
اسلام نے ہمیشہ مظلوموں کی مدد اور ظالم کے خلاف مزاحمت کا درس دیا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

"وَمَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللهِ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ الَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْ هَٰذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِم أَهْلُهَا..." (سورة النساء، آیت 75)
ترجمہ:تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں اور ان کمزور مردوں، عورتوں اور بچوں کے لیے جنگ نہیں کرتے، جو یہ دعا کر رہے ہیں: اے ہمارے پروردگار! ہمیں اس بستی سے نکال، جس کے رہنے والے ظالم ہیں..."

اس آیتِ مقدسہ سے ثابت ہوتا ہے کہ ظلم کی مخالفت اور مظلوم کی حمایت محض اخلاقی ذمہ داری نہیں بلکہ ایک الٰہی حکم ہے۔ یوم القدس اسی حکم کا عملی نمونہ ہے، جہاں مسلمان ظلم کے خلاف متحد ہو کر اسلامی وحدت کا ثبوت فراہم کرتے ہیں۔
شیعہ مکتب فکر میں یوم القدس کی اہمیت

شیعہ مکتبِ فکر نے ہمیشہ مظلوموں کی حمایت اور ظالم کی مخالفت پر زور دیا ہے۔ امام علی علیہ السلام کا فرمان ہے:

"كُونَا لِلظَّالِمِ خَصْمًا وَلِلْمَظْلُومِ عَوْنًا"

ترجمہ:"[اے حسن و حسین]! ظالم کے دشمن اور مظلوم کے مددگار بنو۔"
شیعہ نظریے کے مطابق، ظالم کے خلاف خاموشی اختیار کرنا، ظلم کی حمایت کے مترادف ہے۔ اسی لیے یوم القدس کا احیاء مکتبِ اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات کے عین مطابق ہے۔

یوم القدس: اسلامی وحدت اور بیداری کا پیغام
آج کے دور میں اسلام دشمن طاقتیں، مسلمانوں کو فرقہ واریت اور تنازعات میں الجھا کر کمزور کرنا چاہتی ہیں۔ فلسطین پر صہیونی قبضے کے خلاف آواز بلند کرنا صرف فلسطینی عوام کا فرض نہیں بلکہ پوری امتِ مسلمہ کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔

رہبر کبیر امام خمینی رضوان اللہ علیہ اس مسئلے کی شدت کو سمجھتے ہوئے فرماتے ہیں:

"روز قدس روز اسلام است. روز قدس روزى است که اسلام را باید احیاء کرد و احیاء بکنیم، و قوانین اسلام در ممالک اسلامى اجرا بشود. روز قدس روزى است که باید به همه ابرقدرتها هشدار بدهیم که اسلام دیگر تحت سیطره شما، به واسطه عمال خبیث شما، واقع نخواهد شد. روز قدس، روز حیات اسلام است. باید مسلمین بهوش بیایند (امام خمینی، صحیفه امام ج ‏9، ص 278)"

ترجمہ: یوم القدس، اسلام کا دن ہے۔ یہ وہ دن ہے جب اسلام کو از سرِ نو زندہ کرنا چاہیے، اس کو عملی جامہ پہنانا چاہیے، اور اسلامی ممالک میں اس کے قوانین کو نافذ کرنا چاہیے۔ یوم القدس وہ دن ہے جب تمام عالمی طاقتوں کو خبردار کیا جائے کہ اب اسلام تمہارے ناپاک ایجنٹوں کے تسلط میں نہیں رہے گا۔ یوم القدس، اسلام کی حیات کا دن ہے، اور مسلمانوں کو بیدار ہونا چاہیے۔

اس بیان سے واضح ہوتا ہے کہ یوم القدس صرف ایک سیاسی احتجاج نہیں، بلکہ امتِ مسلمہ کے اتحاد کا مظہر ہے۔

یوم القدس ہماری ذمہ داری

یوم القدس محض ایک رسم نہیں، بلکہ ایک نظریہ ہے جو اسلامی اتحاد، بیداری اور جدوجہد کا پیغام دیتا ہے۔ یہ دن شیعہ اور سنی مسلمانوں کے لیے ایک سنہری موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ فرقہ واریت سے بالاتر ہو کر اسلام کے حقیقی پیغام کو دنیا کے سامنے پیش کریں۔

ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ یوم القدس کو بھرپور طریقے سے منائے، صہیونی سازشوں کے خلاف آواز بلند کرے، اور بیت المقدس کی آزادی کے لیے اپنی جدوجہد کو جاری رکھے۔ کیونکہ مسلمانوں کی خاموشی، صہیونی طاقتوں کی جرأت کو بڑھائے گی، اور ان کا اتحاد دشمن کی شکست کا سبب بنے گا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha