تحریر: عبدالرحیم اباذری
حوزہ نیوز ایجنسی I ہمارے عزیز ملک ایران پر دو بدعنوان اور فساد پرور عناصر، نتن یاہو اور ٹرمپ کی فوجی جارحیت کو تقریباً دو ہفتے گزر چکے ہیں۔ اس عرصے میں اگرچہ ہم دشمن کی جانب سے قرونِ وسطیٰ جیسے جرائم اور معصوم بچوں کے قتل کے واقعات کے گواہ رہے ہیں، جن میں سب سے بڑا سانحہ رہبرِ معظمِ انقلاب کا قتل ہے، جو امتِ اسلامی خصوصاً ایران کی شریف قوم کے لیے نہایت دل شکن، ناقابلِ برداشت اور ناقابلِ تلافی صدمہ ہے؛ لیکن دوسری طرف ہم خدا وندِ متعال کے شکر گزار ہیں کہ انتظامی و سیاسی ذمہ داران کی تدبیر و دانائی اور ہمارے عزیز فوجیوں"خواہ وہ فوج، سپاہ، بسیج یا پولیس فورس سے تعلق رکھتے ہوں" کی مجاہدانہ کوششوں کے سبب میدانِ جنگ میں ہمارا پلڑا بھاری ہے۔ یہ صورتحال اسلامی جمہوریہ ایران کے دیرینہ اور قابلِ ستائش اقتدار کی عکاسی کرتی ہے؛ ایسا اقتدار جو شہداء کے خون اور امام خمینیؒ اور شہید خامنہ ای کی بے مثال قربانیوں اور صبر آزما جدو جہد کا نتیجہ ہے، اور اب ہمارے ہاتھوں میں امانت کے طور پر پہنچا ہے۔ امام اور قیادت نے برسوں تک اس کے قیام اور استحکام کے لیے بڑی قیمت ادا کی ہے۔
یقیناً ہر گزرتے دن کے ساتھ اس اقتدار کی گہرائی اور دائرہ مزید وسیع ہو رہا ہے۔ ہم سب اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ یہی اقتدار دشمن کی کمزوری اور ذلت کا سبب بنا، جس کی وجہ سے جارحیت کے ابتدائی دنوں ہی میں وہ کمزور پڑ گیا۔ آج جنگ کے میدان کے ساتھ ساتھ سفارتی اور سیاسی محاذ پر بھی دشمن کی ذلت اور ناکامی واضح نظر آ رہی ہے۔ مزید یہ کہ ماہِ رمضان کی پہلی شبِ قدر میں خبرگانِ ملت کی جانب سے تیسرے رہبر کا انتخاب اس قومی اقتدار میں مزید تازگی، توانائی اور نشاط کا باعث بنا اور امت کے دلوں میں امید کو ہمیشہ کے لیے زندہ کر دیا۔
آج ہم تمام ایرانی"چاہے کسی بھی طبقے، پیشے، نسل، قومیت، دین یا مسلک سے تعلق رکھتے ہوں" اس بات کے پابند ہیں کہ اس اقتدار کو مضبوط بنائیں اور اس کی بہترین انداز میں حفاظت کریں۔ اب سوال یہ ہے کہ اس اقتدار کی حفاظت، پاسداری اور تقویت کیسے ممکن ہے؟
1۔ ہم بارہا تجربہ کر چکے ہیں کہ اقتدار اتحاد سے پیدا ہوتا ہے۔ اس حساس اور فیصلہ کن مرحلے پر ضروری ہے کہ نئی قیادت کی حمایت کرتے ہوئے ہم اختلافات کو پسِ پشت ڈال دیں، مشترکہ نکات پر توجہ دیں اور اصل دشمن کے خلاف متحد ہو جائیں۔ انتظامی و سیاسی ذمہ داران اور فوجی کمانڈر "خواہ وہ سفارتی میدان میں ہوں یا عسکری محاذ پر" اس ضرورت کے اولین مخاطب ہیں۔ خدا کا شکر ہے کہ مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے عوام نے ہمیشہ اجتماعی روح کے ساتھ اس اقتدار کو مضبوط بنانے میں بنیادی کردار ادا کیا ہے اور اپنی یکجہتی، ہم دلی، بیداری اور بروقت موجودگی سے بارہا اس کے جسم میں نئی روح پھونکی ہے۔
2۔ دوسری طرف ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ گزشتہ 47 برسوں میں جس چیز نے اس اقتدار کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا وہ بے فائدہ جماعتی اختلافات اور بعض حلقوں کی غیر ذمہ دارانہ شدت پسندی رہی ہے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج بھی کچھ لوگ آرام دہ گھروں میں بیٹھ کر کسی میدان میں کام کرنے والے یا سفارتی ذمہ دار کی معمولی غلطی کے انتظار میں رہتے ہیں تاکہ اس کے خلاف نام نہاد تنقید لکھ سکیں۔ حالانکہ ایسے حالات میں اس قسم کی تحریریں اور باتیں تنقید نہیں بلکہ محض شکوہ شکایت، ذاتی عقدہ کشائی، گروہی حساب چکانے اور حقیقت میں کیچڑ اچھالنے کے مترادف ہوتی ہیں۔
لہٰذا تجویز ہے کہ قومی اقتدار کے تحفظ اور تقویت کے لیے ایسے افراد اور حلقے کم از کم اس نازک اور جنگی مرحلے میں کچھ عرصہ ضبط و تحمل سے کام لیں اور خاموشی اختیار کریں تاکہ یہ بحران گزر جائے۔
3۔ امام خمینیؒ اور شہید خامنہای کی سیاسی اور اخلاقی سیرت میں اس اقتدار کے دفاع کی بے شمار مثالیں ملتی ہیں۔ انہوں نے اس مقصد کے لیے اپنی عزت و آبرو تک کو داؤ پر لگا دیا اور تنبیہات، نصیحتوں، خطابات اور حتیٰ کہ عملی اقدامات کے ذریعے ان لوگوں کے مقابلے میں کھڑے ہوئے جو اسلامی نظام کے اقتدار اور قومی وحدت کو نقصان پہنچانا چاہتے تھے۔ مناسب موقع ملا تو ان مثالوں پر بھی تفصیل سے گفتگو کی جائے گی۔
ماہِ رمضان 1447 کی ان بابرکت شب ہائے قدر میں ہم ایران کی باطل کے محاذ پر حاصل ہونے والی کامیابیوں پر خدا کے حضور سجدۂ شکر ادا کرتے ہیں اور اپنے ملک کے قومی اقتدار پر فخر کرتے ہیں۔ ہم خداوندِ متعال سے عاجزانہ دعا کرتے ہیں کہ اس مہینے کے شہید کے خون آلود جسم اور جنگِ رمضان کے مظلوم شہداء کے صدقے لشکرِ اسلام کو عالمی کفر پر فتح عطا فرمائے اور ہمیں اس عظیم نعمت "قومی اقتدار" کی قدر کرنے کی مزید توفیق عطا کرے۔









آپ کا تبصرہ