۳ اسفند ۱۴۰۲ |۱۲ شعبان ۱۴۴۵ | Feb 22, 2024
حضرت ابوطالب علیہ السلام

حوزہ/ جناب ابوطالب کی جانب سے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حمایت اور آپ کے دفاع کا وہ موقع ہے جب قریش نے اللہ کے رسول پر اوجهڑی اور دیگر گندی چیزیں پھیکیں آپ نے اس موقعہ پر سب کفار کو جمع کیا اور ان کی داڑھیوں کو پکڑ کر انہیں خون آلود کر دیا۔

تحریر: سید حمید الحسن زیدی،مدیر الاسوہ فاؤنڈیشن سیتاپور

حوزہ نیوز ایجنسیl پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کی رسالت کے دفاع میں جناب ابوطالب کے اقدامات اور ان کے موقف کی نثر اور نظم دونوں اصنا ف سخن میں صراحت ہے جس کے بیان سے تاریخ بھری پڑی ہے۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جناب ابوطالب کی محبت اور آپ کے سلسلے میں ان کے ایمانی موقف کو واضح کرنے کے لئے ہم یہاں پر ان کے بعض اشعار کا ترجمہ پیش کریں گےجو آپ نے نظم فرمایےہیں ۔

اے ہمارے حق میں خدا کی طرف سے گواہ گواہی دے کہ میں نبی خدا احمد کے دین مبین پر ہوں ۔

ایک دوسرے شعر میں آپ کہتے ہیں خدا کی قسم میں آپ تک کفار کی جماعت نہیں پہنچنے دوں گا یہاں تک کہ میں مٹی کے نیچے دفن ہوجاؤں، اپنے کام کو مضبوطی سے آگے بڑھاؤ اور تمہارے اوپر کوئی پابندی نہیں ہے تمہارے لئے اس کام کی کامیابی کی بشارت ہے اور تمہاری آنکھیں ٹھنڈی رہیں میں جانتا ہوں کہ محمد بشریت کے لئے آنے والے تمام دینوں سے بہتر ہے. «ألم تعلموا أنّا وجدنا محمداً * رسولا کموسى خط فی أولّ الکتب

کیا یہ لوگ نہیں جانتے کہ میں نے محمد کو اللہ کے نبی موسی کی طرح پایا ہے ۔

اسی طرح جناب ابوطالب کی جانب سے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حمایت اور آپ کے دفاع کا وہ موقع ہے جب قریش نے اللہ کے رسول پر اوجهڑی اور دیگر گندی چیزیں پھیکیں آپ نے اس موقعہ پر سب کفار کو جمع کیا اور ان کی داڑھیوں کو پکڑ کر انہیں خون آلود کرتے ہوئے اللہ کے رسول نے فرمایا کہ آپ پیغمبر خدا محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)سید و سردار اور نیک افراد کی اولاد ہیں وہ بھی پاکیزہ تھے اور آپ کی ولادت پاکیزہ ہے ۔

اپ ہمیشہ صحیح اور حق کے راستے پر چلنے والے ہیں باوجود اس کے کہ ابھی بچے ہیں۔

جناب ابوطالب نے اپنے بیثے اور حضور کے چچا زاد بھائی حضرت علی علیہ السلام سے فرمایا کہ تمھیں چاہئے کہ ہمیشہ اپنے چچا زاد بھائی کے ساتھ کھڑے رہو اس کے اپ نے فرمایااے علی اور جعفر تم ہمارے معتمد ہو جب زمانے کے حالات ستائیں اور مصیبتوں کے دن آئیں تو تم دونوں محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو تنہا نہ چھوڑنا اور ان کی مدد کرنا ان کے والد میرے مادری اور پدری سگے بھائی ہیں۔

خدا کی گا قسم میں نےنبی کو کبھی تنہا نہیں چھوڑا اور نہ ان کے اعلی خاندان کے افراد ہی انھیں چھوڑیں گے ۔

ان کا عظیم موقف اس وقت بھی واضح ہواجب ان کے بیٹے علی ابن ابی طالب علیہ السلام شعب ابو طالب میں ان کے بستر پر سوتے تھے تاکہ اللہ کے رسول پیغمبراسلام کی حفاظت کرسکیں۔

آپ کا یہ برتاؤ کسی نسبی رابطہ کی بنیاد پر پر نہیں تھا آپ نے اپنےبیٹے حضرت علی علیہ السلام سے فرمایا تھا میرےبیٹے صبر کرو صبرزندہ متحرک انسان کے لیے بہتر ہے میں نے اپنی پوری کوشش اپنے حبیب بن حبیب کی جان کی حفاظت کے لئے صرف کردی حضرت علی علیہ السلام نے جواب دیا میں اپنی پوری کوشش بھی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی حمایت میں صرف کر دوں گا۔

تبصرہ ارسال

You are replying to: .