تحریر: سیدہ معصومہ شیرازی
حوزہ نیوز ایجنسی|
نقش الا اللہ بر صحرا نوشت
سطر عنوان نجات ما نوشت
کربلا رزم حق و باطل کا ایسا عظیم الشان میدان ہے، جہاں حق اپنی پوری شرائط کے ساتھ باطل کے مقابل ڈٹ کے کھڑا ہے۔ توحیدی عشق کا یہ آفاقی سلسلہ قیامت تک حق پرستوں کے لیے منزل کا نشان ہے۔ حسین حق پرستوں کا قبلہ عشق ہے۔ یہ وہ میدان عشق ہے جو توحید پرستوں کو حرارت ایمانی، صبر، حوصلہ، شجاعت، ہمت اور پرچم حق عطا کرتا ہے۔ عشق حسینی وہ میدانی عشق ہے جو شعائر الہٰی کی بحالی کا میدان ہے رزم حق و باطل کا، انسانی اقدار کی حرمت کا، ظالمین کی سرکوبی کا، عشق الٰہی کے نعرہ حق کا میدان ہے۔ حق گوئی اور حق شناسی کا میدان ہے سرخرو شہادت اور سرفروش عاشقی کا میدان ہے۔ رزم گاہ کربلا گویا امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا وہ آفاقی محاذ ہے جو قیامت تک انسانی سماج کے لیے زندگی بخش حرارت کی نوید ہے۔
یاد رہے کہ جس معاشرے سے اچھائی کا حکم اور برائی سے دوری کا اظہار ختم ہو جائے اس معاشرے میں انسانی اقدار کی موت واقع ہو جاتی ہے حضرت انسان موت کے بعد دفنا دیا جاتا ہے۔ اس لیے لاش کا تعفن فضاؤں میں زہر نہیں گھولتا مگر معاشرے کی اجتماعی موت کا تعفن فضاؤں کو مسموم کر دیا کرتا ہے۔
ایسے نازک وقت میں جہاں انسانی اقدار فنا ہو رہی ہوں ظلم و جور کا راج ہو اور حقوق انسانی پامال ہو رہے ہوں وہاں امام مرتے ہوئے سماج کو زندگی عطا کرنے کا ذمہ دار قرار پاتا ہے۔ امامت فقط طواف کرتی نہیں، بلکہ طواف کو بچاتی ہے۔ امامت فقط نماز پڑھتی نہیں، بلکہ نماز کو قیام عطا کرتی ہے۔ امامِ ہدایت انسانی اقدار کی جنگ میں معاشرے کی روح اور زندگی کا ضامن اور ذمہ دار بنتا ہے۔ ایک جنگ ظالمین سے اسلحے سے لڑی جاتی ہے، جبکہ انسانی اقدار کی جنگ میں انسان دشمن قوتوں سے لڑتے ہوئے انسان اس مقام تک پہنچتا ہے جہاں چھ ماہ کا بچہ جیت جاتا ہے اور لاکھوں کی فوج ہار جاتی ہے۔ معاشرے کو موت سے بچانے کے لیے امام کو مقتل میں اترنا پڑتا ہے ۔مثبت انسانی اقدار کے ساتھ منفی طاقتوں کی سب سے عظیم اور فیصلہ کن رزم آرائی کربلا ہے۔
”مجھ جیسا اس جیسے کی بیعت نہیں کر سکتا“ کا نعرہ قیامت تک کے لیے حق پرستوں کا باطل قوتوں سے برائت اور دوری کا اظہار ہے گویا کربلا منفی طاقتوں کے خلاف مثبت انسانی اقدار کی سب سے عظیم رزم آرائی ہے امام عزت سید الشہداء نے اپنے ایک جملے میں منکر اور معروف کا پورا میزان عطا کر دیا امام خدائی عہد اور ذمہ داری کے ساتھ میدان میں آتا ہے اور پورے سماج کو بچاتا ہے۔
علامہ اقبال نے کیا خوب فرمایا ہے:
نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسم شبیری
کہ فقر خانقاہی ہے فقط اندوہ و دلگیری
امر بالمعروف اور نہی عن المنکر طاغوت زمانہ کی نابودی اور اللہ کی حاکمیت کا قیام ہے۔ نماز روزہ حج اور زکوۃ جیسے عبادی وظائف سے کہیں بڑا وظیفہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر قرار پاتا ہے۔
رسول خدا فرماتے ہیں: جب امت امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ چھوڑ دے تو خدا کے شدید عذاب کی منتظر رہے۔ معروف یعنی وہ تمام امور جو خدا کی نگاہ میں پسندیدہ ہیں اور منکر جو خدا کی ٹھکرائی ہوئی چیزیں ہیں۔
معاشرتی عدل کا قیام،قرانی و الٰہی دستور کی معاشرے میں بحالی، مظلوم کی دادرسی، محرمات الٰہی کے قیام کا وظیفہ، ظالم سے اظہارِ برات، مستکبرین سے مقابلہ اور حیوانی رویوں کی بیخ کنی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کہلاتا ہے۔
امام وقت کا وظیفہ ہے کہ وہ منکر کو معروف اور معروف کو منکر میں تبدیل ہونے سے بچائے۔
امام حسین علیہ السلام نے مدینہ سے قیام کا جو سفر آغاز کیا اس کا مقصد فقط امر بالمعروف اور نہی عن المنکر تھا؛ جس کا اظہار مولا نے قدم قدم پر اپنے کلمات اپنے خطبات اور اپنے مکتوبات میں فرمایا ہے۔
یزید نے تخت اقتدار پر بیٹھتے ہی مدینہ کے والی ولید بن عتبہ کو خط لکھا کہ حسین ابن علی سے بیعت لو اور اگر انکار کریں تو قتل کر کے سر مجھے روانہ کر دو۔ ولید بن عتبہ نے فرزند رسول سے جو مکالمہ کیا وہ تاریخ کی کتابوں میں موجود ہے۔ آپ رسول اللہ کا عصا لیے ہاشمی جوانوں کی معیت میں ولید بن عتبہ سے ملے۔ ولید نے خط کی تحریر سنا کر بیعت طلب کی۔ آپ کھڑے ہو گئے اور فرمایا: اے زرقا کے بیٹے تو مجھے قتل کرے گا یا وہ ؟؟ پھر فرمایا: ہم اہل بیت نبوت ہیں، رسالت کا معدن ہیں۔ ہم فرودگاہ ملائکہ ہیں، ہم ہی رحمت کے نزول کا محل ہیں۔ سلسلہ ہدایت کو خدا نے ہم سے ہی آغاز کیا اور ہم پر ہی اتمام کیا، جبکہ یزید ایک فاسق و فاجر شرابی ہے جو نفس محترم کا قاتل ہے اور اعلانیہ فسق و فجور کرنے والا ہے اور پھر وہ تاریخی جملہ فرمایا کہ جس کی بازگشت ہر زمانے میں حق پرستوں کے لیے حق کا الٰہی میزان بن گئی۔ فرمایا مجھ جیسا اس جیسے کی ہرگز بیعت نہیں کر سکتا!
تم بھی انتظار کرو اور ہم بھی انتظار کرتے ہیں پھر دیکھیں گے کہ کون خلافت اور بیعت کا زیادہ حقدار ہے۔ ولید کے کسی بھی رد عمل سے پہلے ہاشمی جوانوں کی تلواروں کی آوازوں نے اس محفل کو برخاست کروا دیا۔ ولید بن عتبہ اگرچہ یزیدی عمال میں سے تھا مگر دلی طور پر فرزند زہراء کو شہید کرنے پر راضی نہیں تھا اور فرزند رسول کے لہو سے اپنے ہاتھ آلودہ کرنے پر تیار نہیں تھا، اس لیے امام حسین علیہ السلام دو دن تک مدینہ میں ہی رہے اور اس کے بعد اپنے انقلابی سفر کا اغاز کیا۔
ان دو دنوں میں کریم کربلا مسلسل اس سفر حق کی تفسیر بیان کرتے رہے۔ مولا حسین نے قبر رسول پر حاضری دی اور بلند آواز سے مناجات فرمائیں۔ آپ اپنے رخسار نورانی کو تربت پیغمبر سے مس فرما کر اپنے نانا سے مخاطب تھے: یا رسول اللہ آپ پر میرا سلام ہو میں آپ کا اور آپ کی بیٹی کا فرزند ہوں اپ کی امت نے مجھے ضائع کیا اور میری حفاظت نہیں کی۔ میں اپ کی امت کی اصلاح کے لیے نکل رہا ہوں۔ دوسری شب پھر تشریف لائے اور فرمایا: بار الہا یہ تیرے نبی کی قبر ہے اور میں تیرے نبی کی بیٹی کا فرزند ہوں بار الہا تو جانتا ہے کہ میں نیکی سے محبت کرتا ہوں اور برائی سے نفرت کرتا ہوں۔ تو میرے لیے وہ اختیار فرما جس میں تیری اور تیرے نبی کی رضا پوشیدہ ہے۔ پھر اپنے نانا رسولِ خدا سے مخاطب ہوئے: یا رسول اللہ میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں مجھے آپ کے جوار سے زبردستی نکالا جا رہا ہے اور آپ کے اور میرے درمیان مفارقت ڈالی جا رہی ہے اور مجھ سے زبردستی یزید بن معاویہ کی بیعت لی جا رہی ہے جو شرابی فاسق و فاجر اور نفس محترم کا قاتل ہے اگر میں قبول کر لوں تو کفر ہے اور اگر انکار کروں تو قتل کیا جاؤں گا۔ ان دو دنوں میں مدینہ کے تمام اشراف نے مولا کو اس خطرناک سفر سے روکنے کے لیے مختلف توجیہات پیش کیں مگر سید الشہداء اپنے نانا کی پیشن گوئیوں کی روشنی میں حق کے اس راستے کو اختیار کرنے کے لیے دل و جان سے تیار تھے جس کا اپنے خدا سے عہد فرما چکے تھے جہاں امت میں اصلاح کی ضرورت شدت کے ساتھ امام کو میدان قیام میں طلب کر رہی تھی۔ حضرت محمد بن حنفیہ کو ایک مقام پر فرمایا کہ اے بھائی اگر مجھے دنیا میں کوئی جائے پناہ نہ مل سکے تب بھی میں یزید کی بیعت نہیں کر سکتا۔ محمد بن حنفیہ گریہ فرمانے لگے پھر مولا حسین ع نے قلم و دوات طلب کر کے محمد بن حنفیہ کے نام ایک وصیت نامہ لکھا جو کربلا کے آفاقی رزمیے کا مکمل بیانیہ ہے۔
وصیت کا متن یہ تھا:
بسم الله الرحمٰن الرحیم
یہ وصیت نامہ حسین ابن علی ابن ابی طالب کا اپنے بھائی محمد المعروف ابن الحنفیہ کے نام ہے۔ حسین گواہی دیتا ہے کہ اللہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں جو حق تعالیٰ کے پاس سے حق لے کر آئے ہیں اور جنت و جہنم حق ہے اور یقینا بلاشبہ قیامت آنے والی ہے اور یقینا اللہ صاحبان قبر کو اٹھائے گا میں مدینہ سے باہر جا رہا ہوں نہ حکومت اور توسیع پسندی کا خواہاں ہوں نہ ظلم و فساد کا خواہش مند ہوں میں تو اس لیے نکل رہا ہوں کہ اپنے جد کی امت کی اصلاح کرنا چاہتا ہوں اور چاہتا ہوں کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ سرانجام دوں اور اپنے جد رسول اللہ اور اپنے باپ علی ابن ابی طالب کی سیرت پر عمل کروں سو جو شخص بھی میرے قول برحق کو قبول کرے تو اللہ اس سے حق کو قبول فرمائے اور جو شخص اسے رد کر دے تو اس پر میں صبر کروں گا یہاں تک کہ خداوند عالم اپنا برحق فیصلہ صادر فرمائے اور وہی بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔
وصیت نامے پر امام حسین علیہ السلام نے مہر لگائی اور محمد بن حنفیہ کے حوالے کر دیا۔
اس کے بعد آپ ام المؤمنین حضرت ام سلمہ کے پاس تشریف لائے حضرت ام سلمہ نے بہت گریہ کیا اور بے قرار لہجے میں فرمایا کہ میں نے کئی بار تمہارے نانا سے سنا تھا وہ فرمایا کرتے تھے کہ میرا بیٹا حسین عراق میں اس سرزمین پر شہید کیا جائے گا جس کا نام کربلا ہے جناب ام سلمہ نے اس مٹی کا بھی تذکرہ کیا جو بطور امانت رسول اللہ نے انہیں عطا کی تھی اور بتلایا تھا کہ جس دن حسین جام شہادت نوش کریں گے اس دن یہ مٹی سرخ ہو جائے گی۔ آپ نے فرمایا: اے مادر گرامی مجھے بھی اس کا علم ہے کہ میں شہید کیا جاؤں گا، لیکن جانا لازمی ہے خدا کی قسم مجھے معلوم ہے کہ میں کس دن قتل کیا جاؤں گا کون میرا قاتل ہے اور مجھے کہاں دفن کیا جائے گا مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ اہل بیت اور اعزاء میں کون کون قتل کیا جائے گا۔ مادر گرامی اگر آپ چاہیں تو میں اپ کو وہ جگہ دکھلا دوں جہاں مجھے قتل کیا جائے گا اور جہاں مجھے دفن کیا جائے گا پھر آپ نے ہاتھ سے کربلا کی جانب اشارہ کیا زمین بلند ہوئی اور آپ نے جناب ام سلمہ کو تفصیلات سے اگاہ فرمایا۔ جناب ام سلمہ نے شدت سے گریہ فرمایا، آپ کے نالہ و شیون کی آواز سے سارے علاقے میں شور گریہ بلند ہونا شروع ہوا۔ پھر اپ نے فرمایا: اے مادر گرامی میرے نانا کی دی ہوئی مٹی کو سرخ رنگت میں بدلتا دیکھ کر سمجھ جائیے گا کہ آپ کا بیٹا مارا گیا۔ پھر آپ نے کتب اور وصایا جناب ام سلمہ کے پاس بطور امانت رکھوائیں اور جب امام زین العابدین مدینہ واپس آئے تو جناب ام سلمہ نے وہ چیزیں آپ کے حوالے کیں۔ مدینہ کی خواتین گریہ و زاری کرتی ہوئیں آپ کی خدمت میں آئیں آپ نے فرمایا کہ صبر کیجئے جواب میں خواتین نے روتے ہوئے کہا کہ ہم کیسے گریہ و زاری نہ کریں کہ آج کا دن رسول خدا اور علی و فاطمہ کی شہادت کے دن جیسا ہے۔ جب امام حسین نے سفر کا حتمی ارادہ کر لیا تو اہل بیت اور غلاموں اور دوستوں کو حکم دیا کہ سفر کی تیاری کریں گھوڑے ناقے اور خچر لائیں تاکہ ان پر سفر کے سارے اسباب و لوازمات رکھے جائیں ہمشیرگان و دختران اور دیگر اہل حرم خواتین کو اطلاع دی گئی کہ سفر کے لیے تیار ہو جائیں جناب ابو الفضل العباس کی ہمت اور جوان مردی سے مختصر مدت میں تمام اسباب فراہم ہو گئے شیخ مفید کے مطابق سنیچر کےدن شام کے وقت والی مدینہ نے کچھ لوگوں کو امام حسین کے پاس بھیجا کہ وہ بیعت کے لیے آئیں اپ نے جواب دیا کہ صبح ہونے دو پھر دیکھا جائے گا وہ لوگ واپس چلے گئے امام حسین نے اسی رات سفر اختیار کیا وہ اتوار کی رات تھی اور ماہ رجب کے اختتام میں دو دن باقی تھے۔۔بحار الانوار کے مطابق شیخ مفید نے اپنے سلسلہ سند سے روایت کی ہے کہ جب امام حسین مدینہ سے نکلے تو فرشتے فوج در فوج اسلحہ لیے ہوئے گھوڑوں پر سوار اپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سلام عرض کرنے کے بعد کہنے لگے کہ اپ کے جد و پدر اور برادر کے بعد ساری خلق پر اپ حجت خدا ہیں اللہ نے ہمارے ذریعے سے بہت سے مقامات پر آپ کے جد کی مدد فرمائی تھی اس وقت ہمیں اپ کی مدد کے لیے بھیجا گیا ہے اپ نے جواب میں ارشاد فرمایا اب ہماری وعدہ گاہ وہ جگہ ہے جہاں میرے لیے شہادت اور دفن معین ہے اور وہ کربلا ہے جب میں وہاں وارد ہو جاؤں تب میرے پاس آنا فرشتوں نے کہا اے حجت الہی آپ ہمیں حکم دیں ہم اطاعت کریں گے اور اگر آپ کو اپنے دشمن سے کوئی خوف ہے تو ہم آپ کے ساتھ رہیں گے آپ نے فرمایا یہ لوگ نہ مجھے پا سکیں گے اور نہ نقصان پہنچا سکیں گے جب تک کہ میں اپنی سرزمین شہادت پر نہ پہنچ جاؤں اسی روایت کا دوسرا جز یہ ہے کہ مسلمان جنوں کے گروہ فوج در فوج آئے اور عرض کی کہ اے سید و سردار اے فرزند رسول ہم اپ کے محب اور انصار ہیں اپ جو چاہیں ہمیں حکم فرمائیں اگر آپ ہمیں حکم دیں تو ہم آپ کے دشمن کو ہلاک کر دیں اور اپ اپنی جگہ سے حرکت نہ کریں تو ہم بسر و چشم یہ انجام دیں گے امام حسین نے انہیں جزائے خیر کی دعا دی اور ارشاد فرمایا کیا تم نے میرے جد پر نازل ہونے والی کتاب میں نہیں پڑھا کہ اللہ نے ارشاد فرمایا کہ تم جہاں بھی ہو گے موت تمہیں پا لے گی چاہے تم مضبوط قلعوں میں رہو اور یہ بھی ارشاد فرمایا ہے کہ جن کا قتل ہونا لکھا جا چکا ہے وہ یقینا نکل کر اپنے مقتل اور مدفن کی طرف جائیں گے اگر میں اپنی جگہ پر ہی ٹھہرا رہا ہوں تو یہ گمراہ لوگ کس چیز سے آزمائے جائیں گے اور کیسے ان کا امتحان ہوگا اور کون کربلا میں میری قبر میں رہے گا جبکہ اللہ نے نحو الارض کے دن اسے چنا ہوا ہے اور اسے ہمارے چاہنے والوں کی پناہ گاہ قرار دیا ہے اور وہ دنیا و اخرت میں ان کے لیے امان ہوگی اب تم میرے پاس سبت یعنی ہفتے کے دن جو کہ عاشور کا دن ہوگا حاضری دینا اس دن کے اخری حصے میں مجھے شہید کیا جائے گا اس وقت میرے خاندان میں کوئی ایسا باقی نہ ہوگا جسے وہ قتل کرنا چاہیں پھر میرا سر یزید کے پاس لے جایا جائے گا جنوں نے عرض کی اے حبیب خدا اور اے حبیب خدا کے فرزند آپ کی اطاعت واجب ہے ہم اپ کی مخالفت نہیں کر سکتے اگر ایسا نہ ہوتا تو ہم اپ کے دشمنوں کو اپ تک پہنچنے سے پہلے قتل کر دیتے اپ نے ارشاد فرمایا خدا کی قسم ہم تم سے زیادہ ان لوگوں پر قدرت رکھتے ہیں پھر اپ نے ایک آیت کی تلاوت کی جس سے مراد یہ تھی کہ ہم حجت کو تمام کرنا۔
28 رجب کو کریم کربلا نے مکہ کی طرف سفر اغاز کیا امام کے قیام کا اہم ترین مقصد مکہ ہی میں پورا ہو سکتا تھا کعبہ اسلامی دنیاکا سب سے بڑا اور اہم مرکز تھا جہاں گوشں و کنار سے مسلمان ا کر سجدہ ریز ہو کر اپنی زندگی کی سب سے بڑی سعادت حاصل کرتے تھے مواصلات اور ذرائع ابلاغ کے ادوار سے پہلے یہ وہ واحد جگہ تھی جہاں کہی جانے والی بات مختصر ترین وقت میں اطراف و اکناف عالم میں پھیل جایا کرتی تھی لہذا اپنے مقصد کی تکمیل کے لیے مولا حسین نے اتمام حجت کے لیے مکہ کی طرف کوچ کیا اور یہ ایک انتہائی مناسب اور بر محل اقدام تھا اکثر تاریخی بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ کاروان حسینی نے رات کی تاریکی میں مدینہ سے کوچ کیا اور بعض روایات کے مطابق یہ کوچ رات کے پچھلے پہر ہوا جب امام حسین مدینہ سے نکلے تو اپ نے سورہ قصص کی اکیسویں آیت کی تلاوت فرمائی: گویا آپ نے اپنے مدینہ چھوڑنے کو حضرت موسیٰ کے سفر سے تشبیہ دی جو اپنے زمانے کے فرعون کے ظلم و جبر کے مقابلے کے لیے مصر سے نکلے تھے۔
شیخ مفید کے مطابق امام حسین سورہ قصص کی آیت پڑھتے ہوئے شاہراہ عام سے روانہ ہوئے اپ کے اہل خاندان نے اگرچہ اصرار کیا کہ اگر اپ شارع عام چھوڑ کر سفر کریں تو تعاقب کا خطرہ ٹل جائے گا اپ نے جواب میں ارشاد فرمایا خدا کی قسم میں اسی راستے پر چلوں گا یہاں تک کہ اللہ کا فیصلہ سامنے ا جائے شاہراہ عام جو قافلوں اور مسافروں کی گزرگاہ ہے اس کے ذریعے سفر کرنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ جس منشور کو لے کر مولا آگے آرہے ہیں اس کی نشر و اشاعت کم وقت میں زیادہ سے زیادہ ہو جائے۔۔گویا عالمین میں انسانی اقدار کی بحالی کا سب سے عظیم پرچم اٹھائیس رجب مدینۃ الرسول سے جانب مکہ روانہ ہوا اور قیامت تک حق کا وہ راستہ عطا کر گیا جو راستہ توحید الہی کا نشان منزل قرار پایا۔









آپ کا تبصرہ