صدائے ابابیل: منبر حسینی کا حقیقی بیانیہ

حوزہ/کیسا الم انگیز مرثیہ ہے ہمارے ملک کا کہ اجتماعات عاشوراء میں عاشورائی مجاہدوں کے تذکروں کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور حسینی راستے میں شعار عاشوراء کے کفن پوش عاشقوں، وفاداروں اور جانبازوں کے تذکرے کو مولا حسین کے تذکرے سے ٹکرایا جا رہا ہے۔

تحریر: محترمہ سیدہ معصومہ شیرازی

حوزہ نیوز ایجنسی| کیسا الم انگیز مرثیہ ہے ہمارے ملک کا کہ اجتماعات عاشوراء میں عاشورائی مجاہدوں کے تذکروں کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور حسینی راستے میں شعار عاشوراء کے کفن پوش عاشقوں، وفاداروں اور جانبازوں کے تذکرے کو مولا حسین کے تذکرے سے ٹکرایا جا رہا ہے۔

یہ ٹکراؤ کی فتنہ انگیز کوشش کربلائی پیغام کو فقط ماضی کے دریچوں میں رکھنے کی سازش کرنے والوں کے مسلسل جدوجہد کا نتیجہ ہے، وگرنہ میدان عشق کربلا ہی وہ منبر ہے جہاں سے یہ تذکرے نشر کیے جانے چاہییں، تاکہ تاریخ گواہ رہے کہ ہر دور میں حسینی رزم اور زینبی عزم کے ساتھ زمانہ اس شعار کو میدان عشق میں آزماتا رہا: مجھ جیسا اس جیسے کی بیعت نہیں کر سکتا۔ اس مسلسل اور جاری شعار کا تسلسل کس طرح جاری رکھ سکیں گے اگر ان مجاہدانِ حق کا اسوۂ شبیری بیان کرنے سے گریز کیا۔۔!!

یہ وہ رزم ہے جہاں میدان آباد رہیں گے۔ خدا نہ کرے کہ ہم کربلا کو ماضی کی داستان سمجھ کر دہراتے رہیں۔ کفن پوش حسینی عاشقوں کا میدان لا الہ میں ڈٹنا اور اپنا خون پیش کرنا بتاتا ہے کہ حسین کا شعار اب بھی اپنے کرداروں کے ساتھ موجود اور زندہ ہے اس لیے یہ ہمارا تاریخی افتخار ہے، جسے منبر سے بیان کرنا ہماری فکری زمہ داری ہے۔ یہ وہ ورثہ ہے جو حسین مولا نے ھل من ناصر ینصرنا کہہ کر علم ہمارے ہاتھوں میں پکڑایا تھا اور میدان ہمارے حوالے کیا تھا، تاکہ ہم یہ ثابت کر سکیں کہ آج بھی شعار حسین پر عمل کرنے والے ایسے ہی سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح ظالم اور جابر کے مقابل میں کھڑے ہیں۔ یہ اظہار ہے حسین علیہ السّلام سے وفاداری کا اور میدانِ توحید میں اپنی موجودگی کا اعلان ہے۔

اس مضبوط بیانیے کو کمزور کرنے کے لیے حزب باطل ایسی بدگمان باتیں پھیلا کر مؤمنین کو اپنے افتخار سے دور کر رہا ہے۔ حسینیت کا ہر پیغام اور حسینیت کا ہر شہید حقدار ہے کہ منبروں سے اس کا تذکرہ کیا جائے اس کے ناحق بہائے گئے لہو کے احتساب کا نعرہ بلند کیا جائے؛ وہ باقر الصدر ہوں، نور الله شوستری ہوں، حسن نصرالله ہوں، موسیٰ صدر ہوں، حسن شیرازی ہوں، قاسم سلیمانی ہوں یا وہ شہید امت حضرت خامنہ ای علیہ الرحمہ ہوں، یہ سب شہیدانِ عاشوراء ہیں اور عاشوراء کے فرش عزاء کے ذکر ان کے لہو سے لکھے جائیں گے اور طاغوتی طاقتوں کے ہوش اڑائے جائیں گے۔ انہی منبروں سے فتح مبین کا عظیم بیانیہ جاری ہوگا اور زمانہ اسے سماعت کرے گا؛ یہ سارے شہید کربلا کا وہ طاقتور بیانیہ ہیں جسے دنیا کی کوئی طاقت نہ خرید سکتی ہے نہ جھکا سکتی ہے۔

آیت الله العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے یہی فرمایا تھا کہ جناب زینب سلام اللہ علیہا سے بیانیے کی جنگ سیکھیں جہاں پر ہزاروں تلواریں ہار جاتی ہیں اور زبان کا بیانیہ جیت جاتا ہے اپنے اس عظیم الشان کربلائی بیانیے کو بیان کریں سنبھالیں اور اس پر افتخار کریں۔

کربلا فقط ماضی کی داستان نہیں ہے کہ جسے صرف دہرایا جائے یہ عملی میدان ہے جس میں ہم سب شریک ہیں اور اپنے عمل سے اسے زندہ و جاوید رکھیں گے اور جو مجاہد حق کربلائی بیانیہ اور کربلائی میدان کو طاقت قوت اور افتخار بخشے گا ہم اسے خراج تحسین پیش کریں گے۔ معصوم عاشقوں کو باطل کے بیانیے ہمیشہ اپنا شکار بناتے ہیں۔

آج بھی جب کربلا کا باعظمت شعار پوری طاقت سے میدانوں میں اپنی سرخرو فتح کا اعلان کر رہا ہے تو باطل اپنے مذموم عزائم کے ساتھ اس افتخار کو انتشار کی نذر کر دینے کے لیے پوری کوشش کر رہا ہے۔

یہ باطل بیانیہ 1400 سال سے جاری ہے جسے بنو امیہ اور بنو عباس نے بڑی ہی عرق ریزی اور بڑی عیاری کے ساتھ جاری رکھا اور آج پھر حزب طاغوت گمراہ کن جذباتی حیلوں سے ہمیں شکار کر رہا ہے۔

کیا خوب شعر ہے:

غیر ممکن ہے کہ حالات کی گتھی سلجھے

اہل دانش نے بہت سوچ کے الجھائی ہے

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha