مذہب تشیع میں محرم؛ پیغام، جہاد اور مزاحمت و مقاومت کا مہینہ

حوزہ/ شہید رہبرِ انقلاب حضرت آیت اللہ خامنہ‌ایؒ نے محرم الحرام کی حقیقت کو بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ شیعہ مذہب اور اسلامی ثقافت میں محرم صرف سوگ اور ماتم کا مہینہ نہیں بلکہ حق کی خاطر قربانی، جہاد، مزاحمت اور ظلم کے خلاف قیام کا استعارہ ہے۔ ان کے مطابق واقعۂ عاشورا کی روح نے پوری تاریخِ اسلام میں آزادی، عدل اور استقامت کی تحریکوں کو زندہ رکھا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، شہید رہبرِ انقلاب حضرت آیت اللہ خامنہ‌ایؒ نے محرم الحرام کی حقیقت کو بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ شیعہ مذہب اور اسلامی ثقافت میں محرم صرف سوگ اور ماتم کا مہینہ نہیں بلکہ حق کی خاطر قربانی، جہاد، مزاحمت اور ظلم کے خلاف قیام کا استعارہ ہے۔ ان کے مطابق واقعۂ عاشورا کی روح نے پوری تاریخِ اسلام میں آزادی، عدل اور استقامت کی تحریکوں کو زندہ رکھا ہے۔

انہوں نے کہا کہ محرم کا اصل پیغام امام حسین علیہ السلام کی قربانی، ان کے مقصد اور ان کے خون کی تاثیر کو سمجھنا ہے۔ ایک زمانہ ایسا بھی تھا جب محرم کی رسومات تو باقی تھیں، لیکن اس کے انقلابی اور اصلاحی پیغام کو فراموش کر دیا گیا تھا۔ تاہم اسلامی انقلاب نے محرم کو دوبارہ اس کے حقیقی مفہوم کے ساتھ زندہ کیا اور اسے ظلم و استبداد کے خلاف جدوجہد کی علامت بنا دیا۔

شہید آیت اللہ خامنہ‌ایؒ نے عزاداریِ امام حسین علیہ السلام کو ایک صحیح اسلامی سنت قرار دیتے ہوئے کہا کہ مجالس، گریہ اور ذکرِ مصائب صرف جذباتی اظہار نہیں بلکہ امت کو بیدار رکھنے اور حق و باطل کی پہچان کرانے کا ذریعہ ہیں۔ ان کے بقول، حقیقی ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ انسان ظلم، ناانصافی اور فساد کو دیکھ کر خاموش نہ رہے۔ اگر خاموشی جائز ہوتی تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور امام حسین علیہ السلام بھی باطل کے سامنے سر تسلیم خم کر لیتے، لیکن انہوں نے دین اور انسانیت کی بقا کے لیے عظیم قربانیاں پیش کیں۔

انہوں نے ائمہ اہل بیت علیہم السلام کی سیرت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی بھی امام کو امام حسین علیہ السلام جیسے حالات پیش آتے تو وہ بھی اسی طرح ظلم کے خلاف قیام کرتے۔ ان کے مطابق یزیدی طرزِ حکومت کی خصوصیت ہی یہ ہے کہ وہ حق گو اور مزاحمت کرنے والوں کو برداشت نہیں کرتی۔

رہبرِ شہید نے حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا کے کردار کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ کربلا کے بعد انہوں نے جس صبر، بصیرت اور استقامت کا مظاہرہ کیا، اسی نے عاشورا کے پیغام کو زندہ رکھا۔ امام حسین علیہ السلام کا خون تاریخ میں ایک ایسی طاقت بن گیا جس نے مختلف ادوار میں ظالم حکومتوں کی بنیادیں ہلا دیں اور اسلامی معاشرے میں بیداری کی روح پھونک دی۔

انہوں نے کہا کہ بنی امیہ اور بنی عباس کے جابرانہ اقتدار کے خاتمے سے لے کر جدید دور کی اسلامی و آزادی پسند تحریکوں تک، ہر جگہ امام حسین علیہ السلام کی قربانی کی تاثیر نمایاں نظر آتی ہے۔ سید جمال الدین اسدآبادی، مرزا حسن شیرازی، تحریکِ مشروطیت کے علماء، میرزا کوچک خان جنگلی، سید حسن مدرس، شہید نواب صفوی اور دیگر مجاہد شخصیات کی جدوجہد اسی حسینی فکر کا تسلسل تھی۔

آیت اللہ خامنہ‌ایؒ نے اس بات پر زور دیا کہ تاریخ میں ظالم حکمرانوں نے اہل حق کے نام و نشان مٹانے کی بہت کوشش کی، لیکن آج دنیا امام حسین علیہ السلام، حجر بن عدی، رشید ہجری، ابوذر غفاری اور عبداللہ بن مسعود جیسے حق پرست کرداروں کو عزت و احترام سے یاد کرتی ہے، جبکہ ظالم حکمران عبرت کا نشان بن چکے ہیں۔ ان کے مطابق محرم کا پیغام یہی ہے کہ حق اور عدل کے لیے دی گئی قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جاتیں اور ان کی تاثیر نسلوں تک باقی رہتی ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha