ہفتہ 2 مئی 2026 - 15:11
ایران کے متعلق سرکار کے رویے اور آیۃ اللہ خامنہ ای کی شہادت کا سوگ منانے والوں پر پولیس کاروائی کے خلاف مولانا کلب جواد نقوی نے وزیراعظم،وزیر داخلہ اور وزیر دفاع کو خط ارسال کیا

حوزہ/ مجلس علمائے ہند کے جنرل سکریٹری اور امامِ جمعہ لکھنؤ مولانا سید کلب جواد نقوی نے وزیر اعظم نریندر مودی،وزیر داخلہ امت شاہ اور وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کو ایک تفصیلی مکتوب ارسال کرکے ایران کے حوالے سے بھارت سرکار کے رویے اور ملک کے مختلف حصوں میں رہبر انقلاب اسلامی شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ایؒ کا سوگ منانے والوں کے خلاف پولیس کارروائی پر سخت تشویش اور ناراضگی کا اظہار کیا ۔ساتھ ہی مولانا نے بھارت سرکار کے آیۃ اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد تعزیتی پیغام جاری نہ کرنے کی بھی مذمت کی اور اس کو امریکی دبائو میں اٹھایا گیا قدم قرار دیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، لکھنؤ۲ مئی/ مجلس علمائے ہند کے جنرل سکریٹری اور امامِ جمعہ لکھنؤ مولانا سید کلب جواد نقوی نے وزیر اعظم نریندر مودی،وزیر داخلہ امت شاہ اور وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کو ایک تفصیلی مکتوب ارسال کرکے ایران کے حوالے سے بھارت سرکار کے رویے اور ملک کے مختلف حصوں میں رہبر انقلاب اسلامی شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ایؒ کا سوگ منانے والوں کے خلاف پولیس کارروائی پر سخت تشویش اور ناراضگی کا اظہار کیا ۔ساتھ ہی مولانا نے بھارت سرکار کے آیۃ اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد تعزیتی پیغام جاری نہ کرنے کی بھی مذمت کی اور اس کو امریکی دبائو میں اٹھایا گیا قدم قرار دیا۔

اپنے مکتوب میں مولانا نے کہا کہ 28 فروری 2026 کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر اس وقت حملہ کیا گیا جب عمان میں مذاکرات جاری تھے، اور اس حملے میں آیت اللہ سید علی خامنہ ایؒ اپنے اہل خانہ کے چند افراد کے ساتھ شہید ہوگئے، جن میں ان کی کمسن نواسی بھی شامل تھی۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سنگین واقعے پر بھارت سرکار کی جانب سے نہ تو کوئی مذمت سامنے آئی اور نہ ہی کوئی تعزیتی پیغام جاری کیا گیا، حالانکہ ایران کو ہندوستان کا قدیم اور قابلِ اعتماد دوست سمجھا جاتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تاریخی، تہذیبی اور اقتصادی تعلقات ہمیشہ مستحکم رہے ہیں۔

مولانا نے اپنے خط میں اس بات پر بھی سوال اٹھایا کہ جہاں ایک طرف ایران پر ہونے والی شدید جارحیت، جس میں تعلیمی اداروں، اسپتالوں اور رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا، اس پر حکومت ہند خاموش رہی، وہیں دوسری جانب قطر اور دبئی پر ایران کے حملوں کی فوری مذمت کی گئی، حالانکہ ان حملوں میں عام شہریوں کو نشانہ نہیں بنایا گیا تھا بلکہ فوجی مراکز اور ان کمپنیوں کو ہدف بنایا گیا تھا جن کا تعلق امریکہ اور اسرائیل سے تھا۔خط میں ایران کے شہر میناب کے ایک اسکول پر حملے میں 160 سے زائد معصوم طالبات کی شہادت اور تہران کے مہاتما گاندھی اسپتال پر بمباری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ ایسے انسانیت سوز واقعات پر بھی حکومت کی خاموشی انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔

مولانا نے کہا کہ اس طرزِ عمل سے نہ صرف بھارت کی خارجہ پالیسی پر سوالات اٹھے ہیں بلکہ عالمی سطح پر ملک کی ساکھ بھی متاثر ہوئی ہے۔

مولانا کلب جواد نقوی نے مزید کہا کہ ملک کے مختلف حصوں، خصوصاً اترپردیش اور کشمیر میں، آیت اللہ خامنہ ای ؒکی تصاویر لگانے اور ان کی شہادت پر سوگ منانے والے نوجوانوں کے خلاف پولیس نے سخت کارروائی کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ نہ صرف نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا بلکہ ان پر مقدمات بھی درج کیے گئے اور بعض مقامات پر ان کی تصاویر کی بے حرمتی کی گئی، جو انتہائی قابل اعتراض عمل ہے۔

مولانا نے کہا کہ ہندوستان میں کچھ مقامات پر آیۃ اللہ خامنہ ای کی شہادت کے پروگراموں کی اجازت نہیں دی گئی جس سے عوام میں بے حد ناراضگی ہے ۔ انہوں نے واضح کیا کہ آیت اللہ خامنہ ایؒ کو ہندوستانی مسلمان ایک مذہبی رہنما کے طور پر دیکھتے ہیں، نہ کہ کسی سیاسی لیڈر کے طور پر، اس لیے ان کی تصاویر پر پابندی عائد کرنا درست قدم نہیں تھا۔انہوں نے کہاکہ ان کی شہادت سے پہلے بھی پولیس نے ان کی تصایر کے متعلق غیر اخلاقی اور غیر ذمہ دارانہ رویہ اپنایاجس کی ہم مذمت کرتے ہیں ۔ایسے پولیس والوں کے خلاف کاروائی ہونی چاہیے ۔

خط میں یہ بھی کہا گیا کہ بھارت سرکار کے منفی رویے کے باوجود ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بھارتی جہازوں کو اجازت دی، جسے انہوں نے ہندوستانی عوام کی ایران کے تئیں ہمدردی اور حمایت کا نتیجہ قرار دیا۔مولانا نے اپنے مکتوب میں حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ان پولیس اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کرے جنہوں نے نوجوانوں کو ہراساں کیا، گرفتار کیا اور ان پر مقدمات قائم کیے، نیز جنہوں نے آیت اللہ خامنہ ای کی تصاویر کی توہین کی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اس سلسلے میں کارروائی نہ کی گئی تو یہ تاثر جائے گا کہ بھارت سرکار ایران کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم رکھنے میں سنجیدہ نہیں ہے۔

مکتوب میں مزید کہا گیا کہ بھارت کو امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ دفاعی معاہدوں پر بھی سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے، کیونکہ اگر یہ ممالک خود اپنے دفاع میں مکمل طور پر کامیاب نہیں ہوسکے تو ان کے دفاعی نظام پر اندھا اعتماد کرنا دانشمندی نہیں ہوگی۔آخر میں مولانا کلبِ جواد نقوی نے زور دیا کہ بھارت کو اپنے روایتی مؤقف کی طرف واپس آتے ہوئے ایران کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ایران اور ہندوستان کے درمیان بہتر تعلقات نہ صرف دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ہوں گے بلکہ خطے میں طاقت کے توازن کو بھی مثبت طور پر متاثر کرسکتے ہیں۔مولانا نے کہا کہ ہم، بطور ہندوستانی شہری، یہ سمجھتے ہیں کہ اسرائیل کے ساتھ ہمارا قومی مفاد وابستہ نہیں ہے، بلکہ ہمارے زیادہ تر قومی مفادات مسلم ممالک، خاص طور پر ایران، کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں اس لیے ایران کے ساتھ روابط کو مستحکم کیا جائے ۔

یہ خط وزیر اعظم نریندر مودی،وزیر داخلہ امت شاہ اور وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کو بذریعہ ای میل ارسال کیا گیا۔

ایران کے متعلق سرکار کے رویے اور آیۃ اللہ خامنہ ای کی شہادت کا سوگ منانے والوں پر پولیس کاروائی کے خلاف مولانا کلب جواد نقوی نے وزیراعظم،وزیر داخلہ اور وزیر دفاع کو خط ارسال کیا

ایران کے متعلق سرکار کے رویے اور آیۃ اللہ خامنہ ای کی شہادت کا سوگ منانے والوں پر پولیس کاروائی کے خلاف مولانا کلب جواد نقوی نے وزیراعظم،وزیر داخلہ اور وزیر دفاع کو خط ارسال کیا

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha