ہفتہ 7 مارچ 2026 - 17:29
امام خامنہ ای نے آئندہ رہبر کے لیے کسی خاص فرد کی وصیت یا اشارہ نہیں کیا، آیت اللہ کعبی

حوزہ / مجلسِ خبرگانِ رہبری کے رکن آیت اللہ عباس کعبی نے کہا ہے کہ تمام قرائن و شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ شہید امام حضرت آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ایؒ کی رائے یہ تھی کہ مجلسِ خبرگانِ رہبری اپنے قانونی اور شرعی فرائض کے مطابق معیاروں اور اصولوں کی بنیاد پر فیصلہ کرے۔ انہوں نے آئندہ رہبر کے لیے کسی خاص فرد کی نشاندہی نہیں کی۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ عباس کعبی نے اپنے پیغام میں بتایا کہ مجلسِ خبرگان کے تحقیقی کمیشن کئی مرتبہ شہید امام آیت اللہ العظمیٰ امام خامنہ ایؒ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ایک نشست میں انہوں نے خاص طور پر تاکید کی کہ آپ لوگ رہبری کے معیار اور خصوصیات کو واضح طور پر استخراج کریں اور اسی بنیاد پر عمل کریں۔

انہوں نے کہا: اس مقصد کے لیے ابتدا میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جس کے ارکان میں مرحوم آیت اللہ سید محمود شاہرودیؒ، شہید آیت اللہ سید ابراہیم رئیسیؒ، آیت اللہ سید احمد خاتمی، آیت اللہ محسن قمی اور میں خود شامل تھا۔ ہم نے رہبری کے لیے کچھ ضوابط اور معیار مرتب کیے اور بعد کی ملاقاتوں میں اس عمل اور ان معیاروں کی رپورٹ شہید امام کی خدمت میں پیش کی۔

آیت اللہ کعبی نے کہا: امام خامنہ ایؒ نے فرمایا "تمام خصوصیات میں سب سے زیادہ اہمیت رہبر کی مالی تقویٰ (مالی دیانت داری) کو حاصل ہے کیونکہ رہبر کے وسیع اختیارات اور ذمہ داریوں کے پیش نظر اگر مالی انحراف پیدا ہو جائے تو اس کے اثرات دوسرے تمام امور پر بھی پڑ سکتے ہیں لہٰذا مالی تقویٰ کو خاص طور پر سنجیدگی سے مدنظر رکھیں۔"

ایک اور نشست میں انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مستقبل کے رہبر کو انقلابِ اسلامی کے بنیادی اصولوں پر مضبوط یقین، بصیرت، دشمن کی پہچان، فتنوں کی شناخت، استکبار کے خلاف موقف، اور خاص طور پر امریکہ اور صہیونی حکومت کے خلاف جدوجہد اور مزاحمت پر ایمان ہونا چاہیے۔

مجلس خبرگان کے پانچویں دور کے آخری زمانے میں منعقدہ ایک اور اجلاس میں حجت الاسلام کازرونی (صوبہ البرز کے نمائندہ) نے شہید امام سے درخواست کی کہ اگر وہ آئندہ رہبر کا نام واضح طور پر نہیں بتانا چاہتے تو کم از کم کوئی اشارہ یا رہنمائی دے دیں تاکہ مجلس خبرگان اسی طرح راستہ پا سکیں جیسے امام خمینیؒ نے آپ کی طرف اشارہ کیا تھا۔ اس کے جواب میں امام خامنہ ایؒ نے فرمایا: "اس کی ضرورت نہیں ہے۔ فکر نہ کریں۔ خدا مدد کرے گا اور آپ راستہ ڈھونڈ لیں گے۔" انہوں نے مزید فرمایا: "امام خمینیؒ کی رحلت کے بعد ہم گویا ایک تاریک گلی میں داخل ہو گئے تھے لیکن خدا کی مدد اور امام زمانؑ کی عنایت سے راستہ روشن ہو گیا۔ اب حالات اس طرح کے نہیں ہیں؛ اب کچھ روشن راستے موجود ہیں اور آپ انہیں تلاش کر لیں گے۔ اللہ تعالیٰ دلوں کو ہدایت دے گا۔"

آیت اللہ کعبی نے مزید کہا: اس سے بھی پہلے آئین کی شقوں 107 اور 109 سے متعلق تین رکنی کمیٹی، جس میں آیت اللہ یزدی، آیت اللہ شبستری اور آیت اللہ وافی شامل تھے، نے بھی امام خامنہ ایؒ سے درخواست کی کہ وہ کسی مخصوص شخصیت کی نشاندہی کریں۔ مگر انہوں نے ایسا کرنے سے انکار کیا اور فرمایا: "یہ ذمہ داری مجلس خبرگان کی ہے۔" یہاں تک کہ جب کمیٹی نے اپنے ممکنہ نام پیش کرنا چاہے تو امام خامنہ ایؒ نے ان ناموں کو بھی سننے سے گریز کیا۔

لہٰذا تمام شواہد اور قرائن سے یہ واضح ہوتا ہے کہ شہید امام آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ایؒ کی رائے یہی تھی کہ مجلس خبرگانِ رہبری خود طے شدہ معیاروں اور اپنے قانونی و شرعی فرائض کے مطابق فیصلہ کرے اور انہوں نے آئندہ رہبر کے لیے کسی خاص فرد کی وصیت یا اشارہ نہیں کیا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha