منگل 3 مارچ 2026 - 07:15
رہبر معظم کی شہادت کے بعد ان کے مقلدین کا فریضہ؟!

حوزہ / حضرت امام خامنہ‌ای کے مقلدین کے ذہن میں ان دنوں ایک اہم سوال پیدا ہو رہا ہے کہ شہادت کے بعد ان کی تقلید کا کیا حکم ہے؟ مرکزِ موضوع شناسی احکامِ فقہی کے بانی نے اس سوال کا جواب دیا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کے مطابق، مرکزِ موضوع شناسی احکامِ فقہی کے بانی حجت الاسلام والمسلمین محمد حسین فلاح‌ زاده نے حوزه نیوز ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے ’’شہید آیت اللہ العظمیٰ امام خامنہ‌ای (رہ) کے مقلدین کی تقلید کے حکم‘‘ کے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب کو بیان کیا ہے۔

سوال:

سلام علیکم، ہم مرجع عالی قدر اور رہبرِ معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ امام خامنہ‌ای (قدس اللہ روحہ) کی شہادت پر تعزیت پیش کرتے ہیں۔ ان کے اعلانِ شہادت کے ابتدائی لمحات سے اب تک بہت سے مکلفین اور مقلدین کی جانب سے یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا وہ رہبر معظم کی تقلید پر باقی رہ سکتے ہیں اور ان کے فتاویٰ پر عمل کر سکتے ہیں یا نہیں؟

جواب:

حجت الاسلام والمسلمین محمد حسین فلاح‌زاده نے اس سوال کے جواب میں کہا ہے کہ رہبر شہید کے مقلدین ایک زندہ مجتہد اور مرجعِ تقلید کے فتوے کی بنیاد پر ان کی تقلید پر باقی رہ سکتے ہیں۔ یعنی وہ کسی ایسے زندہ مرجع کی طرف رجوع کریں جنہیں وہ جانتے ہیں۔ اگر وہ مرجع رہبر معظم کی تقلید پر باقی رہنے کے جواز یا وجوب کا فتویٰ دے تو اسی فتوے کی بنیاد پر امام خامنہ‌ای کے فتاویٰ پر باقی اور ان پر عمل کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا: اگر آئندہ کسی ایسے نئے مسئلے کا سامنا ہو جس میں حضرت آقا کا کوئی فتویٰ موجود نہ ہو، تو اس مخصوص جدید مسئلے میں اسی زندہ مجتہد کے فتوے پر عمل کیا جائے جس کے فتوے کی بنیاد پر رہبر معظم کی تقلید پر باقی رہا گیا ہے۔

انہوں نے آخر میں دعا کی کہ اللہ تعالیٰ پوری دنیا کے مسلمانوں، خصوصاً امتِ اسلامی ایران کو امریکہ اور صہیونیت کے مقابلے میں کامیابی عطا فرمائے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha