جمعرات 1 جنوری 2026 - 15:59
احکام شرعی | بھول جانے کی صورت میں نجس لباس کے ساتھ نماز پڑھنے کا حکم

حوزہ/ حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ‌ای کے نمائندے نے ایک استفتاء کے جواب میں، جان بوجھ کر بھول جانے کی صورت میں ناپاک لباس کے ساتھ نماز پڑھنے کے مسئلے پر رہبرِ معظم کا موقف بیان کیا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حجت الاسلام والمسلمین فلاح زادہ، جو آیت اللہ العظمیٰ خامنہ‌ای کے نمائندہ ہیں، نے ایک استفتاء کے جواب میں “نماز کے وقت لباس کے ناپاک ہونے کا پہلے علم ہونے کے باوجود بھول جانے کی صورت میں نماز کے حکم” کی وضاحت کی۔ ذیل میں رہبرِ معظم کے بیان کردہ حکم کو قارئینِ کرام کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔

سوال: اگر کسی شخص کو پہلے سے معلوم ہو کہ اس کا لباس نجس ہے، لیکن نماز کے وقت وہ بھول جائے کہ لباس تبدیل کرے یا پاک کرے، اور اسی نجس لباس کے ساتھ نماز پڑھ لے، تو اس نماز کا کیا حکم ہے؟ کیا وہ نماز صحیح ہے یا باطل؟

جواب: سوال میں بیان کردہ صورت کے مطابق، اگر کوئی شخص نماز سے پہلے اپنے لباس کے نجس ہونے سے آگاہ تھا، لیکن بھول جانے کی وجہ سے نہ لباس بدلا اور نہ ہی اسے پاک کیا، اور اسی حالت میں نماز ادا کر لی، تو ایسی نماز باطل ہے۔

اس صورت میں جب اسے یاد آئے، تو اس پر لازم ہے کہ نماز دوبارہ پڑھے؛

اگر نماز کا وقت باقی ہو تو ادا کی نیت سے، اور اگر وقت گزر چکا ہو تو قضا کی نیت سے نماز بجا لائے۔

البتہ اگر نماز کے وقت اسے لباس کے نجس ہونے کا بالکل علم نہ ہو، اور نماز کے بعد اسے معلوم ہو، تو ایسی نماز صحیح ہے اور اسے دہرانے کی ضرورت نہیں۔

لہٰذا جس صورت میں پہلے نجاست کا علم موجود تھا اور بعد میں فراموشی ہو گئی، اس حالت میں پڑھی گئی نماز باطل ہے اور اس کی اعادہ ضروری ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha