جمعرات 5 مارچ 2026 - 04:50
دشمن آخرکار گڑگڑانے پر مجبور اور پشیمان ہو گا / ہمیں مستقبل کے متعلق کوئی فکر نہیں

حوزہ/ شیعہ مرجعِ عظام تقلید نے انقلابِ اسلامی کے ابتدائی ایام اور دفاعِ مقدس کے حالات کو یاد کرتے ہوئے کہا: جس طرح اُس وقت دشمن اپنی غلط اندازوں کی وجہ سے ناکام ہوا اور آخرکار گڑگڑانے پر مجبور ہو گیا، آج بھی اپنے اقدام پر پشیمان ہو گا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حضرت آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی نے منگل 12 اسفند (03 مارچ 2026ء) کو جاری ایک ویڈیو پیغام میں انقلابِ اسلامی کی کامیابی کے آغاز پر دشمنوں کی سازشوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: اُس وقت نہ ہمارے پاس منظم پولیس تھی اور نہ ہی مکمل طور پر تیار فوج، اس لیے دشمن نے سمجھا کہ یہ آخری ضرب لگانے کا بہترین موقع ہے۔ اس نے عراقیوں کو اُکسایا اور یہ گمان کیا کہ ایرانی کمزور ہیں اور کچھ نہیں کر سکیں گے۔

انہوں نے خرم شہر میں بعثی افسران کے غرور کا ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا: ایک افسر کہتا تھا کہ “ہم کل تہران میں ہوں گے”، مگر ان کا وہ “کل” آٹھ سال میں بدل گیا۔ وہ اس عرصے میں کوئی کامیابی حاصل نہ کر سکے، آخرکار شکست کھائی اور گڑگڑا کر جنگ بندی کی درخواست کرنے پر مجبور ہوئے۔

حضرت آیت اللہ مکارم شیرازی نے موجودہ حالات کا جنگِ تحمیلی کے زمانے سے موازنہ کرتے ہوئے کہا: میرے عزیز بھائیو اور بہنو! آج ہماری حالت اُس وقت سے کہیں بہتر ہے۔ ہمارے مجاہدین مسلسل دشمن کو جواب دے رہے ہیں لہٰذا سب کو دل و جان سے مطمئن رہنا چاہیے اور یقین رکھنا چاہیے کہ امامِ زمانہ (عج) کی مدد سے کامیابی ہمارا مقدر ہو گی، ان شاء اللہ۔

انہوں نے مسلح افواج کی طاقت پر زور دیتے ہوئے کہا: جب ہماری فوج، سپاہ اور دیگر سیکیورٹی ادارے اس قدر قوت و توانائی رکھتے ہیں تو ہمیں مستقبل کے بارے میں کوئی تشویش نہیں۔ ہمیں پورا یقین ہے کہ وہ دشمن کو عبرتناک شکست دیں گے اور جیسا کہ رہبرِ شہیدِ انقلاب نے فرمایا تھا، " یقیناً دشمن اپنے کیے پر پشیمان ہو گا"۔

اس مرجع تقلید نے آخر میں کہا: میں اپنی طرف سے مسلسل دعا کر رہا ہوں اور آپ سب کو بھی دعا کرنی چاہیے لیکن ساتھ ہی ہماری افواج بھی میدان میں اپنا فریضہ پوری قوت سے انجام دیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha