تحریر: عارف بلتستانی
حوزہ نیوز ایجنسی | آج عوام کی بعثت اور عاشورا کی ساتویں شب ہے۔ آج تک واقعہ کربلا منبروں سے سنا تھا اور کتابوں میں پڑھا تھا۔ لیکن آج ایرانی سپریم لیڈر کی شہادت کے بعد شعر و شمشیر اور عشق و جنگ کا منظر اپنی گنہگار آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں۔ کیسے آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ائ (حسین زمان) کی شہادت کے بعد شش ماہہ بچے سے لے کر صد سالہ حبیب تک راتوں کو میدان (افطار کے بعد سے لیکر وقت سحر تک ایران کے عوام سڑکوں پر یزید وقت کے خلاف احتجاج) میں کھڑے ہیں اور فوج اشقیا کے پیادہ ریجمنٹ (منافقین اور فتنہ گر) کو خیموں کی طرف حملہ کرنے سے روک رہی ہے اور ان فتنہ گروں میں حملہ کرنے کی جرائت بھی نہیں ہو رہی ہے۔ خدا کے بعد سب سے بڑی طاقت عوام ہے۔ اگر عوام نکلے تو کوئی طاقت اس کو نہیں روک سکتی۔ ایرانی عوام اس کی بہترین مثال ہے۔
عجب ہے کہ ایک طرف چودہ سو سال اسلامی تاریخ ہے۔ حسینی خصوصیات کے حامل الہی رہبر اور باشعور عوام ہے۔ شہید نینوا اور اصحاب عاشورا کی طرح بھوکے، پیاسے، صوم و صلوٰۃ کے پابند ہیں۔ جبکہ دوسری طرف یزیدی خصوصیات سے مملو ایپسٹین فائل کے مجرمین کہ انسان کے گوشت خور جانور اور جام خون پینے والے گروہ کا معرکہ اپنے عروج پر ہیں۔ اب اس سے زیادہ تاریخ میں حق و باطل شفاف صورت میں دکھائی دی ہے؟
اس صدی کی عاشورائی جنگ میں ہر ایک (چاہے حسین حسین کہنے والے کوفی ہو یا ولایت فقیہ ولایت فقیہ کہنے والے خواص) سب کا امتحان لیا جا رہا ہے۔ امامِ عشق کے عاشورائی اصحاب کی صفوں میں صرف یقین مطلق کی بدولت شامل ہوا جا سکتا ہے اور اس تبدیل نہ ہونے والی سنت سے فرار ممکن نہیں! ہرگز مت سوچنا کہ صرف عاشورا والوں کو اس مصیبت سے آزمایا گیا اور کسی کو بھی نہیں! صحرائے بلا نے پوری تاریخ کو اپنے احاطے میں لے رکھا ہے۔
آج کے زمانے کی بعثت اور عاشور کی یہ راتیں انسان کی باطن کو پرکھنے کا آلہ ہے۔ انسان نے کس قدر خود پر کام کیا ہے۔ زبان سے زیارت عاشورا پڑھنے کی بجائے امام حسین علیہ السلام کے آخر الزمانہ کے اصحاب کی صف میں زیارت عاشورا کے دل کے ساتھ داخل ہو جانا ہر کسی کی بس کی بات نہیں ہے۔
ضحاک بن عبداللہ مشرقی عصرِ عاشورا حق کے گروہ سے فرار ہو گیا جبکہ وہ صبح سے شام تک امام کے ہمراہ تلوار چلاتا رہا۔ خوف شک کا فرزند ہے اور شک شرک کی پیداوار اور یہ تینوں خوف، شک و شرک حق کے راستے سے منحرف کرنے والے ہیں کہ اگر موت سے اُنس نہ رکھو گے خوف تمہارا راستہ کاٹ لے گا اور تم اپنے امام کو صحرائے کربلا میں اکیلا چھوڑ دو گے۔
مُسلمِ زمان اور شب عاشور کے ذریعے سے انسان کے ایمان اور دعویٰ کا امتحان لیا جاتا ہے۔ رات کی تاریکی میں کون اپنے ایمان کے ستاروں کے ساتھ چمکتا ہے۔ رات اپنی تاریکی میں جتنی بھی گہری ہوتی جائے، اس کی تاریکی کی بدولت ستاروں کی روشنی زیادہ جگمگانے لگتی ہے اور شب بیداری کرنے والوں کے اسرار میں سے ایک راز یہ ہے۔
دوستو! عشق کا کام ناچار کربلائی ہونا ہے۔ کربلائی ہونے کا انجام شہادت اور قربانی ہے۔ آج چودہ سو سال بعد امام حسین علیہ السلام اور حسین جیسوں کی شہادت کے بعد ایرانی عوام اپنے وظیفے کو لیکر مبعوث ہوا ہے۔ مبعوث لفظ بعثت سے نکلا ہے، یعنی برانگیختہ کرنا، بھڑکانا، ابھارنا، حرکت کرنا۔ بعثت یعنی انسان ایک ٹھہراؤ، توقف، سستی اور جمود کی حالت سے نکل کر اپنے اندر بیداری، انقلاب، تغیّر، تحرّک اور ایک تبدیلی پیدا کرنے کا نام ہے۔
جب انسان کی روح یا باطن کے اندر یہ قیامت برپا ہوتی ہے تو اس کے اندر رکھی گئی تمام صلاحیتیں اس چشمے کی مانند ہوتی ہیں جس سے ہر لمحے پانی کی اربوں لہریں باہر آتی ہیں اور بہتی ہیں۔ اس کے بعد یہی چشمہ، یہی تبدیلی، یہی جوش و خروش، یہی انقلاب معاشرے کے اندر نکلتا ہے اور ایک انسانی معاشرے کے وجود کے اندر منتقل ہو جاتا ہے۔ وہ معاشرہ انسان تعمیر و ترقی، رشد و تکامل کا ذریعہ بن جاتا ہے۔
اس عاشورائی جنگ میں حسین زمان حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ائ کی شہادت کے بعد ایرانی عوام کوفی بننے کے بجائے عاشورایی و زینبی بن کر کوچہ و بازاروں کو مساجد اور امام بارگاہوں میں تبدیل کیا ہے۔ جہاں بارش کی طرح راکٹ، میزائل برسائے جا رہے ہیں انہیں میزائلوں کے درمیان اللہ اکبر، لبیک یا حسین، مردہ باد امریکہ، مردہ باد اسرائیل ، مردہ باد منافقین کے فلک شگاف نعروں کی گونج اور قرآن مجید کی تلاوت امریکی و اسرائیلی میزائلوں کی مہیب آواز پر غالب ہے۔
ہر رات خیابان (شاہراؤں) کی جدید مساجد اور امام بارگاہوں میں عوام کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ ان راتوں کو شب عاشور کی رات سمجھ کر ہر پیر و جوان کی زبان پر ایک ہی شعار ہے، "ھیھات من الذلۃ" ہم نہ یزید وقت کے سامنے تسلیم ہوں گے نہ سازش کا حصہ بنیں گے بلکہ خون کے آخری قطرے تک حسین زمان کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔









آپ کا تبصرہ