منگل 3 مارچ 2026 - 17:28
امام خمینی کا راستہ اور شہید خامنہ‌ای کا مشن بدستور جاری رہے گا اور یہ سلسلہ رکے گا نہیں۔ عبدالرحیم اباذری

حوزہ/ جو بھی شخص کسی بھی آواز اور کسی بھی بہانے سے تفرقہ پھیلائے، مایوسی کو ہوا دے اور ذمہ داران کے راستے میں رکاوٹ ڈالے، وہ دانستہ یا نادانستہ طور پر دشمن کی آواز بن جاتا ہے اور دنیا و آخرت کے خسارے میں مبتلا ہو کر عوام سے کٹ جاتا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حجت الاسلام و المسلمین عبدالرحیم اباذری نے رہبر انقلاب اسلامی کی شہادت پر تعزیتی پیغام ارسال کیا ہے جسکا مکمل متن اس طرح ہے؛

اِنّا لِلّٰہِ وَاِنّا اِلَیْهِ رَاجِعُونَ

"وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ"

رہبرِ معظم انقلاب آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ‌ای کی عظیم مصیبت اور جانسوز شہادت "جو امام خمینی کے مخلص و فداکار ساتھیوں میں نمایاں مقام رکھتے تھے" اور ان کے ساتھ متعدد اعلیٰ فوجی کمانڈروں، افسروں، عام شہریوں اور معصوم بچوں کی ماہِ مبارک رمضان میں سفاک اور درندہ صفت عناصر کے ہاتھوں شہادت پر ہم بارگاہِ حضرت ولی عصر (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف)، مراجعِ عظام تقلید، امتِ مسلمہ اور دنیا بھر کے آزاد فکر انسانوں، خصوصاً شریف، مظلوم اور ثابت قدم ایرانی عوام کی خدمت میں دلی تعزیت پیش کرتے ہیں۔

ہم تاکید کرتے ہیں کہ روح‌ اللہ خمینی کا راستہ اور شہید خامنہ‌ای کا مشن بدستور جاری رہے گا اور یہ سلسلہ رکے گا نہیں۔ ان وحشیانہ جرائم کا انتقام بھی ہرگز بے جواب نہیں رہے گا۔ "وَإِنَّ جُندَنَا لَهُمُ الْغَالِبُونَ"

یہ سانحہ اگرچہ نہایت بھاری اور دل سوز ہیں اور ہم اس پر خدائے تبارک و تعالیٰ کی بارگاہ میں فریاد کرتے ہیں، لیکن ملتِ ایران تمام طبقات، ادیان، مذاہب اور سیاسی رجحانات سے تعلق رکھنے کے باوجود اتحاد، یکجہتی اور ہمدلی کے ساتھ ایران، انقلاب اور نظامِ اسلامی کے دفاع میں ڈٹی رہے گی۔ وہ ہرگز اس بات کی اجازت نہیں دے گی کہ مغرب و مشرق کی استکباری طاقتیں، خصوصاً اسرائیل اور امریکہ کے ظالم و انسان کُش عناصر، اس باوقار اور جری قوم پر ناحق تسلط قائم کریں۔ "وَمَن يُقَاتِلْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيُقْتَلْ أَوْ يَغْلِبْ فَسَوْفَ نُؤْتِيهِ أَجْرًا عَظِيمًا"

جان لیں کہ اس قبیلے میں اگر باپ چلا بھی جائے تو باپ کی بندوق ابھی باقی ہے۔

امام خمینی کی نصیحت کے مطابق: "امریکہ کے حواری جان لیں کہ خدا کی راہ میں شہادت کوئی ایسی چیز نہیں جسے میدانِ جنگ کی کامیابی یا ناکامی سے تولا جائے… اپنی کمر کس لو کہ کچھ بھی تبدیل نہیں ہوا۔ آج وہی ہے جو خدا نے چاہا ہے، کل بھی وہی تھا جو خدا نے چاہا، اور ان شاء اللہ کل حق کے لشکر کی فتح کا دن ہوگا… ہم سب پر لازم ہے کہ اپنے فرائض کو بصیرت اور دقت کے ساتھ بہترین انداز میں انجام دیں؛ سب جانتے ہیں کہ ہم نے جنگ کا آغاز نہیں کیا تھا۔" (صحیفۂ امام، جلد 21، صفحہ 88-89)

زندگی باوقار ہوتی ہے اور اس میں نشیب و فراز، تلخی اور شیرینی ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ قرآن کے الفاظ میں: "إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا" سختی کے ساتھ آسانی بھی ہے۔ لہٰذا مشکلات سے گھبرانا نہیں چاہیے اور "وَإِلَىٰ رَبِّكَ فَارْغَبْ"

ایسے نازک حالات میں پروردگار کی طرف رجوع کرنا اور اس کی مدد پر امید رکھنا ضروری ہے، کیونکہ وہی سب سے بہتر تلافی کرنے والا اور سب سے قوی سہارا دینے والا ہے۔ "إِنَّ اللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ"

اس فیصلہ کن تاریخی مرحلے پر تمام لوگوں، خصوصاً انقلاب اور نظام کے سچے خیرخواہوں پر چند اہم ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں: میدان میں پرجوش اور باوقار موجودگی، اتحاد و یکجہتی کو فروغ دینا، امید کو عام کرنا اور سیاسی و عسکری ذمہ داران کی حمایت کرنا۔

جو بھی شخص کسی بھی آواز اور کسی بھی بہانے سے تفرقہ پھیلائے، مایوسی کو ہوا دے اور ذمہ داران کے راستے میں رکاوٹ ڈالے، وہ دانستہ یا نادانستہ طور پر دشمن کی آواز بن جاتا ہے اور دنیا و آخرت کے خسارے میں مبتلا ہو کر عوام سے کٹ جاتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha