حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حوزه علمیه قم کے قائم مقام مدیر حجت الاسلام والمسلمین حمید ملکی نے کہا: اگر ہم انقلاب کو کھو دیں تو نہ سیدالشہدا علیہ السلام کا ذکر باقی رہے گا، نہ قرآن اور نہ مساجد۔ اس لیے کسی بھی قسم کی نرمی، سیاسی مصلحت یا مذاکرات اب قطعی طور پر قابلِ قبول نہیں۔
انہوں نے کہا: جب دشمن ہمارے حکیم اور عزیز رہبر کو دن دیہاڑے، ہمارے ہی ملک میں شہید کر دیتا ہے تو پھر کسی شک و تردّد کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ اب مذاکرات کوئی مؤثر حل نہیں رہے۔
حجت الاسلام والمسلمین حمید ملکی نے انقلابِ اسلامی کی پُرپیچ تاریخ اور اس کے تحفظ کی بھاری قیمتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا: حضرت آیت اللہ العظمیٰ امام خامنہای رحمۃ اللہ علیہ کی مظلومانہ اور باوقار شہادت ایک دردناک واقعہ ہے، جس کی گہری سمجھ کے ساتھ انقلاب کے راستے کو جاری رکھنا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا: انقلابِ اسلامی نے اپنے قیام سے اب تک اپنے تسلسل اور بقا کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ اس عظیم راستے میں دو لاکھ سے زائد باوقار، باایمان اور متقی نوجوانوں نے دفاعِ مقدس میں اپنا پاکیزہ خون پیش کیا۔ اس کے علاوہ لاکھوں افراد زخمی اور جانباز ہوئے اور ہزاروں قید و اسارت کا شکار ہوئے لیکن ان تمام مشکلات کے باوجود ایرانی عوام نے مزاحمت ترک نہیں کی۔
قائم مقام مدیر حوزہ علمیہ نے کہا: ملتِ ایران نے وہ عہد نہیں بھلایا جو انہوں نے امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ اور امام زمان عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف سے کیا تھا۔ انہوں نے اس مضبوط عہد پر ثابت قدم رہ کر انقلاب کو دشمنوں کی جانب سے تیار کیے گئے خطرناک مراحل سے کامیابی کے ساتھ گزارا۔
انہوں نے انقلاب کے بحرانوں سے نکلنے میں روحالله خمینی (رہ) کی رہنمائی کو نمایاں قرار دیتے ہوئے کہا: امام خمینی (رہ) نے اپنی حکیمانہ قیادت کے ذریعے عوام کو خطرناک مراحل سے گزارا اور عوام بھی اپنے رہبر اور ولی فقیہ کے احکامات پر مضبوطی سے قائم رہے تاکہ دشمنوں کی سازشیں ناکام بنائی جا سکیں۔









آپ کا تبصرہ