حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، یمن میں تصوف کے رہنما سید عدنان الجنید نے اپنے ایک بیان میں مسلمانوں کو جہاد کی اہم ذمہ داری ادا کرنے کی دعوت دی ہے۔
انہوں نے قرآن کریم کی آیت (و ما لکم لا تقاتلون فی سبیل الله و المستضعفین من الرجال و النساء و الولدان الذین یقولون ربنا اخرجنا من هذه القریة الظالم اهلها و اجعل لنا من لدنک ولیا و اجعل لنا من لدنک نصیرا – سورہ نساء: آیت 75) کا حوالہ دیا جس میں مؤمنین کو جہاد کی طرف بڑھنے کے وقت سستی اور دنیا سے چمٹے رہنے سے منع کیا گیا ہے اور تاکید کی کہ دنیا کا مال و متاع آخرت کے مقابلے میں بہت کم حیثیت رکھتا ہے۔
انہوں نے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے غزہ کے عوام خصوصاً ہزاروں بچوں کے قتل کو شرمناک جرم قرار دیا۔ اسی طرح جمہوریہ اسلامی ایران میں مسلمانوں کے خلاف حالیہ حملوں، جن میں ایک بچیوں کے ایک سکول پر حملہ اور پچاس سے زائد بچیوں کی ہلاکت نیز بزرگ شخصیات بالخصوص “امام سید علی خامنہ ای” کو نشانہ بنانے کو دشمن کی اس مذموم کوشش کا حصہ قرار دیا جس کا مقصد اسلامی حکومتوں کو مضبوط ہونے سے روکنا اور مشرقِ وسطیٰ پر تسلط قائم کرنا ہے۔
اس یمنی عالم نے کہا: ہر مسلمان پر واجبِ عینی ہے کہ وہ اٹھ کھڑا ہو اور جو ذمہ داری اس کے سپرد کی گئی ہے اسے ادا کرے اور اگر وہ اقدام نہ کرے تو اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے حضور اس کے پاس کوئی عذر قابلِ قبول نہیں ہو گا۔









آپ کا تبصرہ