جمعہ 10 جولائی 2026 - 19:09
رہبر شہید کے مشن کو زندہ رکھنا اصل ذمہ داری ہے: آیت اللہ عباس کعبی

حوزہ/ آیت اللہ عباس کعبی نے کہا ہے کہ رہبر شہید کے خون کا بدلہ ایک وقتی عمل نہیں بلکہ مسلسل جدوجہد کا نام ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ مزاحمتی محاذ کو مضبوط بنانا، قومی اتحاد کو فروغ دینا اور عالمی ظلم کے خلاف ہر میدان میں کردار ادا کرنا امت کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم کے نائب سربراہ اور مجلس خبرگان رہبری کے رکن آیت اللہ عباس کعبی نے اپنے ایک پیغام میں رہبر شہید کے خون کے بدلے کے سلسلے میں امت کی ذمہ داریوں کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ تاریخی تشییع جنازہ نے عالمی سطح پر بیداری کی نئی لہر پیدا کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ رہبر شہید نے اپنی پوری زندگی قدس و فلسطین کی آزادی، اسلامی تہذیب کے فروغ اور انسانیت کی رہنمائی کے لیے وقف رکھی۔ ان کے بقول، تہران، قم، نجف، کربلا اور مشہد میں کروڑوں افراد کی شرکت سے ہونے والی تشییع نے ثابت کر دیا کہ ان کا پیغام سرحدوں سے بالاتر ہو چکا ہے۔

آیت اللہ کعبی نے کہا کہ اقوام متحدہ کا موجودہ ڈھانچہ اور مستقل ارکان کا ویٹو کا حق اپنی افادیت کھو چکا ہے اور عالمی نظام میں بنیادی تبدیلی ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں بین الاقوامی تعلقات کا نیا نظام مزاحمتی محاذ کے کردار سے تشکیل پائے گا۔

انہوں نے زور دیا کہ شہید امام کے خون کا بدلہ صرف جذباتی نعرہ نہیں بلکہ ایک شرعی اور اجتماعی ذمہ داری ہے۔ ان کے مطابق، ہر شخص اپنی استطاعت کے مطابق فکری، ثقافتی، ابلاغی، سماجی، اقتصادی اور دیگر میدانوں میں کردار ادا کرکے اس مشن کا حصہ بن سکتا ہے۔

آیت اللہ کعبی نے مزید کہا کہ مزاحمت کا تسلسل، قومی اقتدار میں اضافہ، مسلح افواج کی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا، عوامی اتحاد، مؤثر حکمرانی، عوامی معیشت اور ایرانی۔اسلامی تشخص کا استحکام اس جدوجہد کے بنیادی تقاضے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شہید امام کا راستہ ان کے جانشین کی قیادت میں جاری رہے گا اور امتِ اسلام ظلم و استکبار کے خلاف اپنی جدوجہد کو آزادیٔ فلسطین اور عدل و انصاف پر مبنی عالمی امن کے قیام تک جاری رکھے گی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha