حوزہ نیوز ایجنسی کے مطابق، اتحادِ امت فورم پاکستان کے زیر اہتمام مینارِ پاکستان لاہور میں منعقدہ "شہیدِ امت کانفرنس" ہفتہ 13 جون 2026ء کو بھرپور عوامی شرکت کے ساتھ جاری ہے۔ جس میں ملک بھر سے دینی، سیاسی، سماجی اور فکری شخصیات نے شرکت کر رہے ہیں۔
کانفرنس میں امتِ مسلمہ کے اتحاد، استقامت، مقاومت، قومی وحدت اور عالمی سطح پر مظلوم اقوام کی حمایت کے موضوعات پر اظہارِ خیال کیا گیا۔
مقررین نے کانفرنس کو امتِ مسلمہ کے اتحاد، فکری بیداری اور اجتماعی شعور کے عملی مظہر قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں مختلف مکاتبِ فکر کی قیادت کا ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونا قومی یکجہتی اور بین المسالک ہم آہنگی کا مثبت پیغام ہے۔
علامہ امین شہیدی نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسلمان مظلوم ضرور ہیں لیکن کمزور نہیں۔
انہوں نے کہا کہ جس قوم کو اپنی زندگی سے زیادہ شہادت عزیز ہو وہ کسی طاقت سے خوفزدہ نہیں ہوتی۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ خون کے آخری قطرے تک رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔

رکنِ قومی اسمبلی انجینئر حمید حسین نے اپنے خطاب میں کہا کہ شہیدِ امت نے پوری امت کو استقامت، صبر اور ثابت قدمی کا درس دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مینارِ پاکستان میں عوام کا یہ عظیم اجتماع اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کے عوام بیدار ہیں اور حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اتحاد اور وحدت کی فضا ہمیشہ برقرار رہے گی اور قوم باہمی ہم آہنگی کے ذریعے اپنے قومی مقاصد حاصل کرے گی۔
سجادہ نشین غلام رسول اویسی نے کہا کہ شہیدِ امت نے عظیم قربانی دے کر امتِ مسلمہ کو یہ پیغام دیا کہ حق کے موقف پر کبھی جھکا نہیں جا سکتا اور نہ ہی کمزوری کا اظہار کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے واقعۂ کربلا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حضرت امام حسین علیہ السلام نے جس استقامت، عزت اور حق پسندی کا درس دیا تھا، شہیدِ امت نے بھی اسی پیغام کو اپنی عملی زندگی کے ذریعے زندہ رکھا۔
کانفرنس میں ایرانی قونصلیٹ جنرل لاہور کے نمائندے نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شہید رہبر پوری زندگی ثابت قدم رہے اور اللہ تعالیٰ نے انہیں شہادت کی عظیم نعمت سے سرفراز فرمایا۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم گزشتہ کئی ماہ سے سخت حالات اور چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے، تاہم تمام تر مشکلات کے باوجود اس نے استقامت کا مظاہرہ کرتے ہوئے جدوجہد کا راستہ ترک نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ ایرانی عوام نے ظلم و جبر کے مقابلے میں ہمت اور حوصلے کے ساتھ مزاحمت جاری رکھی اور ظالم قوتوں کو منہ توڑ جواب دیا۔
مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ امتِ مسلمہ کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ اتحاد، بصیرت اور مشترکہ جدوجہد کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو امت کی بیداری کا سرمایہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ شہداء کا راستہ عزت، آزادی اور حق کی سربلندی کا راستہ ہے۔
کانفرنس کے منتظمین کے مطابق اجتماع میں ملک بھر سے لاکھوں مرد و خواتین شریک ہوئے جبکہ مختلف دینی و سیاسی جماعتوں، مذہبی تنظیموں اور سماجی اداروں کے قائدین کی نمایاں نمائندگی موجود تھی۔ کانفرنس کے آئندہ سیشنز میں علامہ سید جواد نقوی، علامہ راجہ ناصر عباس جعفری، سینیٹر سراج الحق، مولانا ابوالخیر محمد زبیر، خواجہ سعد رفیق، مولانا امجد خان، مرکزی صدر آئی ایس او پاکستان سید امین شیرازی اور معروف تجزیہ کار حفیظ اللہ نیازی سمیت دیگر شخصیات کے خطابات بھی متوقع ہیں۔
کانفرنس کے شرکاء امتِ مسلمہ کے اتحاد، مظلوم اقوام کے ساتھ یکجہتی، قومی وحدت اور فکری بیداری کے فروغ کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کر رہے ہیں۔










آپ کا تبصرہ