جمعرات 9 جولائی 2026 - 16:34
تشییعِ رہبرِ شہید میں عوامی اتحاد نے مخالفین کو بے چین کر دیا، ٹرمپ کے توہین آمیز بیانات پر تنقید

حوزہ/ رہبرِ شہید آیت اللہ العظمی خامنہ ای کے پیکرِ مطہر کی تشییع میں ایرانی عوام کی تاریخی، پرشکوہ اور بے مثال شرکت نے ایک بار پھر دنیا کے سامنے ایران کی قومی یکجہتی، استقامت اور انقلاب اسلامی سے وابستگی کا عملی مظاہرہ پیش کیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، رہبرِ شہید آیت اللہ العظمی خامنہ ای کے پیکرِ مطہر کی تشییع میں ایرانی عوام کی تاریخی، پرشکوہ اور بے مثال شرکت نے ایک بار پھر دنیا کے سامنے ایران کی قومی یکجہتی، استقامت اور انقلاب اسلامی سے وابستگی کا عملی مظاہرہ پیش کیا۔ اس عظیم اجتماع نے نہ صرف عالمی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی بلکہ ایران کے مخالفین کو بھی سخت پریشانی میں مبتلا کر دیا۔

رہبرِ شہید کی تشییع جنازہ میں لاکھوں افراد کی والہانہ شرکت نے یہ واضح کر دیا کہ ایرانی قوم اور قیادت کے درمیان تعلق محض سیاسی نہیں بلکہ عقیدت، اعتماد اور قلبی وابستگی پر استوار ہے۔ اس تاریخی منظر نے یہ پیغام دیا کہ بیرونی دباؤ، پابندیاں اور دھمکیاں ایرانی عوام کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتیں۔

اسی تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو اجلاس کے موقع پر ایران، ایرانی عوام اور ان کی قیادت کے بارے میں توہین آمیز اور اشتعال انگیز زبان استعمال کی، جسے مبصرین ایران کے خلاف امریکی پالیسیوں کی ناکامی اور سیاسی بوکھلاہٹ کا مظہر قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عوامی اتحاد کے اس عظیم منظر نے ان حلقوں کو مایوس کر دیا جو برسوں سے ایران کو اندرونی اختلافات کا شکار دکھانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، دنیا کی ایک بڑی طاقت کے سربراہ کی جانب سے غیر مہذب اور توہین آمیز طرزِ گفتگو اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ وہ ایرانی عوام کے انقلاب اسلامی اور اس کے اعلیٰ اہداف سے گہرے تعلق کو سمجھنے میں ناکام رہے ہیں۔ مبصرین کے مطابق اس قسم کے بیانات دراصل اس اضطراب کی عکاسی کرتے ہیں جو ایران میں عوامی اتحاد اور استقامت کے مظاہرے کے بعد مخالفین میں پیدا ہوا ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ایران کے خلاف معاہدوں سے دستبرداری کے اعلانات، دباؤ کی پالیسی اور محدود فوجی اقدامات بھی واشنگٹن کی حکمت عملی میں پائے جانے والے بحران اور بے بسی کی علامت ہیں۔ ان تمام کوششوں کے باوجود ایرانی عوام نے ہمیشہ اتحاد، استقلال اور مزاحمت کا راستہ اختیار کرتے ہوئے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ اپنے قومی اصولوں اور انقلابی اقدار سے دستبردار ہونے والے نہیں۔

رپورٹ کے مطابق، آج دنیا ایک ایسے معرکے کی گواہ ہے جس میں ایک طرف اپنے عقیدے، ایمان اور قومی وحدت پر قائم ایک قوم ہے اور دوسری جانب وہ طاقتیں ہیں جو عسکری قوت اور ذرائع ابلاغ کے وسیع وسائل رکھنے کے باوجود عوامی عزم اور ارادے کے میدان میں کامیابی حاصل نہیں کر سکیں۔ تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ ایرانی قوم نے ہر مشکل مرحلے میں اتحاد اور استقامت کے ذریعے رکاوٹوں کو عبور کیا ہے اور آئندہ بھی اپنے اصولوں پر ثابت قدم رہنے کا عزم رکھتی ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha