حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، قم میں مرحوم آیت اللہ فاضل لنکرانیؒ کے دفتر میں عشرۂ محرم کی مجلس سے خطاب کرتے ہوئے حجت الاسلام نظری منفرد نے واقعۂ کربلا کے ابتدائی ایام کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ مشہور روایت کے مطابق حضرت امام حسین علیہ السلام دو محرم کو سرزمین کربلا پہنچے۔ اسی روز عبیداللہ بن زیاد کا ایک قاصد حر بن یزید ریاحی کے پاس آیا اور انہیں حکم دیا گیا کہ امام حسین علیہ السلام کے قافلے کو آگے بڑھنے نہ دیا جائے۔
انہوں نے بتایا کہ جب امام حسین علیہ السلام نے اس سرزمین کا نام "کربلا" سنا تو مٹی اٹھا کر دیکھی، آہ بھری اور گریہ فرمایا۔ بعد ازاں آپؑ نے ایک مختصر خطبہ دیا جس میں فرمایا: "لوگ دنیا کے بندے ہیں اور دین صرف ان کی زبانوں پر رہتا ہے، لیکن جب آزمائش آتی ہے تو سچے دیندار کم رہ جاتے ہیں۔"
حجت الاسلام نظری منفرد نے کہا کہ قیامت کے دن سب اللہ کے بندے ہوں گے، لیکن دنیا میں بعض لوگ خواہشات، شیطان اور دنیاوی مفادات کے غلام بن جاتے ہیں۔ کربلا میں بھی یہی منظر دکھائی دیا؛ مخلص اور باوفا اصحاب امام حسین علیہ السلام کے ساتھ رہے، جبکہ کچھ لوگ مال و دولت کی لالچ میں چلے گئے اور بعض منافق مزاج افراد راستے ہی سے واپس لوٹ گئے۔
انہوں نے کہا کہ اہلِ بیت علیہم السلام کے دشمن حقیقت کو جانتے تھے، لیکن دنیا کی چمک دمک نے ان کی بصیرت چھین لی تھی۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ حبِ دنیا انسان کو حق سے دور اور امام حسین علیہ السلام کے راستے سے جدا کر دیتی ہے، لہٰذا مؤمن کو ہر حال میں دنیا پر دین کو ترجیح دینی چاہیے۔









آپ کا تبصرہ