جمعہ 3 جولائی 2026 - 18:05
رہبرِ شہیدِ امت سید علی خامنہ ای کا آخری دیدار

حوزہ/ آج امتِ مسلمہ ایک ایسے لمحے سے گزر رہی ہے جس میں لاکھوں دل غم سے بوجھل ہیں، آنکھیں اشکبار ہیں اور زبانیں دعا و استغفار میں مشغول ہیں۔ ہر آنے والا قافلہ، ہر وفد، ہر عالمِ دین، ہر سیاسی و مذہبی رہنما ایک ہی مقصد کے ساتھ حاضر ہو رہا ہے: اپنے رہبرِ شہید کے آخری دیدار کے لیے۔

یادداشت: مولانا غلام رسول صابری

حوزہ نیوز ایجنسی|

بسم الله الرحمٰن الرحیم

﴿مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ﴾

"مؤمنوں میں ایسے مرد ہیں جنہوں نے اللہ سے کیے ہوئے عہد کو سچ کر دکھایا۔"

آج امتِ مسلمہ ایک ایسے لمحے سے گزر رہی ہے جس میں لاکھوں دل غم سے بوجھل ہیں، آنکھیں اشکبار ہیں اور زبانیں دعا و استغفار میں مشغول ہیں۔ ہر آنے والا قافلہ، ہر وفد، ہر عالمِ دین، ہر سیاسی و مذہبی رہنما ایک ہی مقصد کے ساتھ حاضر ہو رہا ہے: اپنے رہبرِ شہید کے آخری دیدار کے لیے۔

یہ آخری دیدار محض ایک شخصیت کو دیکھنے کا نام نہیں، بلکہ ایک عہد، ایک فکر، ایک تحریک اور ایک پوری تاریخ کو سلام پیش کرنے کا نام ہے۔ جب کوئی قوم اپنے شہداء کو اس عظمت کے ساتھ رخصت کرتی ہے تو درحقیقت وہ دنیا کو یہ پیغام دیتی ہے کہ شہادت افراد کا خاتمہ نہیں بلکہ افکار کی حیاتِ نو ہے۔

رہبرِ شہید سید علی خامنہ ایؒ نے اپنی پوری زندگی اسلام، قرآن، ولایت، امتِ مسلمہ کی عزت، مظلوموں کی حمایت اور استکبار کے مقابلے میں استقامت کے لیے وقف کیے رکھی۔ ان کی زندگی کا ہر باب صبر، حکمت، بصیرت، تقویٰ اور جہاد سے عبارت تھا۔ انہوں نے امت کو یہ سکھایا کہ عزت صرف اللہ، رسولؐ اور مؤمنین کے لیے ہے، اور باطل قوتوں کے سامنے جھک جانا اہلِ ایمان کا شیوہ نہیں۔

آج جب دنیا کے مختلف ممالک سے سربراہان، علماء، دینی شخصیات، سیاسی قائدین اور عوام کے جمِ غفیر آخری دیدار کے لیے حاضر ہو رہے ہیں تو یہ اس حقیقت کا اعلان ہے کہ عظیم شخصیات اپنی زندگی میں بھی دلوں پر حکومت کرتی ہیں اور شہادت کے بعد بھی دلوں میں زندہ رہتی ہیں۔

آخری دیدار دراصل ایک خاموش زبان ہے، جو کہہ رہی ہے:"اے رہبر! آپ کا جسم ہم سے جدا ہو رہا ہے، لیکن آپ کا راستہ، آپ کی فکر، آپ کی استقامت اور آپ کا پیغام ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہے گا۔"

یہ منظر ہمیں تاریخِ کربلا کی یاد بھی دلاتا ہے۔ جب شہدائے کربلا نے اپنے خون سے حق کو زندہ کیا تو وقت گزرنے کے ساتھ ان کے ماننے والوں کی تعداد کم نہیں ہوئی بلکہ بڑھتی چلی گئی۔ شہداء کا راستہ یہی ہوتا ہے کہ ان کی جدائی جسمانی ہوتی ہے، مگر ان کا پیغام ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔

آج ہر آنکھ اشکبار ہے، مگر یہ آنسو کمزوری کے نہیں بلکہ وفاداری، محبت اور تجدیدِ عہد کے آنسو ہیں۔ یہ آنسو اعلان کر رہے ہیں کہ رہبر کا مشن جاری رہے گا، ظلم کے خلاف آواز بلند ہوتی رہے گی، مظلوموں کی حمایت کا سلسلہ نہیں رکے گا، اور حق کا پرچم سرنگوں نہیں ہوگا۔

آج کا یہ آخری دیدار دراصل نئے عہد کی ابتدا ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جب ہر عاشقِ ولایت اپنے دل میں یہ عہد کرتا ہے کہ وہ رہبرِ شہید کے افکار، بصیرت، استقامت اور خدمتِ اسلام کے راستے کو اپنی زندگی کا نصب العین بنائے گا۔

بارگاہِ الٰہی میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ رہبرِ شہید سید علی خامنہ ایؒ کے درجات بلند فرمائے، انہیں اپنے مقرب بندوں اور اولیائے صالحین کے ساتھ محشور فرمائے، امتِ مسلمہ کو ان کے راستے پر ثابت قدم رکھے، اور ہمیں بھی حق، عدالت، عزت اور مقاومت کے علمبرداروں میں شامل فرمائے۔

"شہید مرتے نہیں، بلکہ قوموں کی رگوں میں حیاتِ نو بن کر دوڑتے ہیں۔"

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha