حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، رہبرِ شہید (رہ) کی تشییع کمیٹی کی بین الاقوامی امور کے سیکرٹری وحید جلال زادہ نے کہا: دوسرا حصہ ممتاز شخصیات، اساتذہ، علماء، ذرائع ابلاغ کی مؤثر شخصیات، مقاومتی محاذ کے نمائندوں اور مختلف انقلابی تحریکوں سے وابستہ افراد پر مشتمل ہے، جنہوں نے دنیا کے مختلف خطوں سے تقریب میں شرکت کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے۔ ان میں سے بعض ملک کے افراد پہنچ چکے ہیں جبکہ بعض دیگر راستے میں ہیں۔
وحید جلال زادہ نے مزید کہا: بیشتر ہمسایہ ممالک سے اہم شخصیات تقریب میں شریک ہوں گی۔ ترکمانستان کے قومی رہنما اور عوامی مصلحت کونسل کے سربراہ، تاجکستان، عراق اور جارجیا کے صدور، نیز عراقی کردستان کے صدر بھی تقریب میں شرکت کریں گے۔
انہوں نے کہا: وزرائے اعظم کی سطح پر پاکستان، آرمینیا اور افغانستان کے وزراء اعظم بھی تقریب میں شریک ہوں گے۔ کابل حکومت کے سربراہ بھی اپنے وفد کے ہمراہ، جس میں اس ملک کے وزیر خارجہ بھی شامل ہوں گے، تقریب میں شرکت کریں گے۔
رہبرِ شہید کی تشییع کمیٹی کی بین الاقوامی امور کے سیکرٹری نے مزید کہا: روس کی سلامتی کونسل کے نائب سربراہ ڈیمتری میڈویڈیف، پاکستان کے آرمی چیف اور چین کی نیشنل پیپلز کانگریس کے نائب چیئرمین بھی اس تقریب میں شریک ہوں گے۔
انہوں نے کہا: عراق، پاکستان کی سینیٹ، پاکستان کی قومی اسمبلی، عمان، قطر، بیلاروس، جمہوریہ آذربائیجان، کرغزستان، ازبکستان، بنگلہ دیش اور مصر کے پارلیمانی سربراہان بھی تقریب میں شرکت کریں گے۔
وحید جلال زادہ نے مزید کہا: وزرائے خارجہ کی سطح پر افغانستان، قازقستان، گھانا، نکاراگوا اور کانگو کے وزرائے خارجہ بھی تقریب میں شریک ہوں گے۔
انہوں نے کہا: ترکیہ کے نائب صدر، مختلف ممالک کے وزراء اور خصوصی نمائندے بھی مختلف سطحوں پر تقریب میں شرکت کریں گے۔
رہبرِ شہید کی تشییع کمیٹی کی بین الاقوامی امور کے سیکرٹری نے مزید کہا: سربیا، تیونس، لبنان، نمیبیا، ملائیشیا، کیوبا، سری لنکا، میانمار، بھارت، گیمبیا اور تھائی لینڈ بھی مختلف سطحوں پر اپنے نمائندے بھیجیں گے۔ اسی طرح شنگھائی تعاون تنظیم کے سیکرٹری جنرل، اقتصادی تعاون تنظیم (ایکو) کے سیکرٹری جنرل اور ایکو کلچرل انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ بھی تقریب میں شریک ہوں گے۔
انہوں نے کہا: مجموعی طور پر تقریباً 50 غیر ملکی وفود کی میزبانی کی جائے گی۔ امید ہے کہ یہ تمام وفود ایرانی عوام کے شانہ بشانہ رہبرِ شہید کے جسدِ خاکی کو الوداع کہنے کی اس تاریخی تقریب میں شریک ہوں گے تاکہ ایک یادگار تاریخی منظر رقم ہو اور ایرانی قوم کی طاقت اور آزادی پسند ممالک کے درمیان اس کی مقبولیت دنیا پر مزید واضح ہو۔
وحید جلال زادہ نے آخر میں کہا: قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ دشمن نے انقلاب اسلامی پر حملہ کرتے وقت اپنے باطل گمان میں یہ تصور کیا تھا کہ انقلاب اسلامی منہدم ہو جائے گا لیکن نہ صرف میدانِ جنگ میں اسے شکست ہوئی بلکہ سیاسی محاذ پر بھی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ جنگ کے بعد آج دنیا انقلاب اسلامی کا ایک نیا چہرہ دیکھ رہی ہے۔ ہمارے دوست پہلے سے زیادہ پُرامید اور ہمارے دشمن پہلے سے زیادہ مایوس ہو چکے ہیں کیونکہ وہ دیکھ رہے ہیں کہ ہمارے تمام ہمسایہ ممالک مختلف اعلیٰ سطحوں پر اس امامِ شہید کے جسدِ خاکی کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے موجود ہیں جنہیں دنیا کے سفاک ترین اور جرائم پیشہ عناصر اور ظالم حکومت نے شہید کیا۔









آپ کا تبصرہ