حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، رہبرِ شہید کی تشییع کے سلسلے میں ایران بھر میں لاکھوں زائرین کی آمد کے پیش نظر رہائش کے وسیع انتظامات کیے گئے ہیں۔ تہران کے تمام ہوٹلوں اور رہائشی مراکز نے جمعہ سے منگل تک زائرین کے لیے 50 فیصد رعایت کا اعلان کیا ہے، جبکہ قم، مشہد اور دیگر شہروں میں بھی لاکھوں افراد کے قیام کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔
رہبرِ شہید ایت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کی تشییع اور وداع کی تقریبات کے لیے ایران بھر میں غیر معمولی انتظامات جاری ہیں۔ حکام کے مطابق ان تقریبات میں شرکت کے لیے ملک اور بیرون ملک کے مختلف حصوں سے لاکھوں زائرین کی آمد متوقع ہے، جس کے پیش نظر سرکاری اداروں، نجی شعبے اور عوامی تنظیموں نے رہائش اور دیگر سہولیات کی فراہمی کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لانا شروع کر دی ہیں۔
تہران ہوٹل ایسوسی ایشن کے سربراہ محمد علی فرخ مہر نے اعلان کیا ہے کہ صوبہ تہران کے تمام ہوٹل اور رہائشی مراکز جمعہ سے منگل تک زائرین اور شرکائے تقریب کو 50 فیصد رعایت کے ساتھ رہائش فراہم کریں گے۔ ان کے مطابق اس اقدام کا مقصد یہ ہے کہ رہائش کے اخراجات کسی بھی زائر کی شرکت میں رکاوٹ نہ بنیں۔
سرکاری اندازوں کے مطابق 4 سے 9 جولائی تک تہران، قم، مشہد اور عراق میں منعقد ہونے والی الوداعی تقریب، تشییع اور تدفین سے متعلق تقریبات میں لاکھوں افراد شریک ہوں گے، جس کے باعث مختلف شہروں میں رہائش کے انتظامات کو غیر معمولی وسعت دی گئی ہے۔
صوبہ قم میں تقریباً 8 لاکھ 22 ہزار افراد کے قیام کی گنجائش فراہم کی گئی ہے۔ اس مقصد کے لیے ہوٹلوں، مسافر خانوں اور دیگر رہائشی مراکز کے علاوہ مساجد، حسینیہ اور عوامی مقامات کو بھی تیار کیا گیا ہے۔ ہوٹلوں میں تقریباً 14 ہزار بستروں کا انتظام کیا گیا ہے، جبکہ خصوصی مہمانوں کے لیے 2 ہزار اضافی بستروں کی بھی فراہمی کی گئی ہے۔
اسی طرح صوبہ خراسان رضوی میں اب تک تقریباً 15 لاکھ افراد کی رہائش کی گنجائش پیدا کی جا چکی ہے۔ حکام کے مطابق سات ہزار کے قریب مقامات کو رہائش کے لیے مختص کیا گیا ہے، جبکہ مساجد، مدارس، کھیلوں کے ہال، زائر سراؤں اور ثقافتی مراکز کو بھی اس نیٹ ورک میں شامل کیا جا رہا ہے۔ مشہد کے اطراف کے شہروں کی رہائشی سہولیات بھی زائرین کے لیے مختص کر دی گئی ہیں تاکہ کسی ایک شہر پر غیر معمولی دباؤ نہ پڑے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ضرورت پڑنے پر مزید رہائشی مراکز بھی فعال کیے جائیں گے۔ ان انتظامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ زائرین کی میزبانی صرف حکومتی ذمہ داری نہیں بلکہ ایک قومی خدمت کی صورت اختیار کر چکی ہے، جس میں عوام، نجی ادارے اور مختلف تنظیمیں بھرپور تعاون کر رہی ہیں۔









آپ کا تبصرہ