حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، تہران، قم، نجف اشرف اور کربلائے معلیٰ میں لاکھوں عاشقانِ انقلاب کی تاریخی اور پُرشکوہ تشییع کے بعد رہبرِ شہید کا جسدِ خاکی مشہد مقدس پہنچ گیا، جہاں ان کی آخری آرام گاہ کے لیے تیاریاں مکمل ہیں اور پورا شہر غم و اندوہ کی فضا میں ڈوبا ہوا ہے۔
مشہد مقدس میں آج شہر کی فضا سوگوار ہے، سڑکیں اور گلیاں سیاہ پرچموں سے آراستہ ہیں اور لاکھوں افراد اپنے محبوب رہبر کو آخری بار خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے جمع ہیں۔
مشہد اس عظیم قائد کو الوداع کہنے کے لیے کھڑا ہے جس نے اپنی پوری زندگی مظلوموں، محروموں اور مستضعفین کی حمایت میں گزاری، ظلم، استکبار اور سامراج کے خلاف ہمیشہ بلند آواز اٹھائی اور کسی بھی دباؤ یا دھمکی کے سامنے سرِ تسلیم خم نہیں کیا۔ وہ دنیا بھر کے مظلوموں کے لیے امید، حوصلے اور استقامت کی علامت تھے۔
مشہد اپنے مجاہد اور شہید فرزند کا استقبال اس احساس کے ساتھ کر رہا ہے کہ اس نے تاریخِ معاصر کی ایک عظیم ترین شخصیت کو کھو دیا ہے، لیکن اس کے افکار، جدوجہد اور مزاحمت کا راستہ ہمیشہ زندہ رہے گا۔ عوام اس رہبر کو خراجِ تحسین پیش کر رہے ہیں جس نے عزت، استقلال اور اسلامی اقدار پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا اور اسی راہ میں جامِ شہادت نوش کیا۔
سوگوار عوام کا کہنا ہے کہ رہبرِ شہید نے اپنے جدِ امجد حضرت امام حسینؑ کی سیرت پر عمل کرتے ہوئے ظلم کے سامنے جھکنے سے انکار کیا اور اپنے کردار سے "ہیہات منا الذلہ" کے پیغام کو نئی زندگی بخشی۔ ان کی استقامت آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ رہے گی۔
مشہد مقدس آج اس عزم کا بھی اظہار کر رہا ہے کہ رہبرِ شہید کے بلند مقاصد، اسلامی انقلاب کے اصولوں اور مظلوموں کی حمایت کے مشن کو پوری قوت کے ساتھ آگے بڑھایا جائے گا۔ ان کی تشییع اور تدفین کا یہ مرحلہ ایران کی معاصر تاریخ میں وفاداری، قدردانی اور قومی وحدت کی ایک یادگار مثال کے طور پر روم کیا جائے ہوگا۔









آپ کا تبصرہ