یادداشت: فرح بتول جلبانی
حوزہ نیوز ایجنسی|
کربلا نہ تو ماضی کا قصہ ہے اور نہ ہی کتابوں تک محدود ہے، بلکہ ہر دور میں کچھ لوگ ایسے پیدا ہوئے جنہوں نے مولا حسین علیہ السّلام کے پیغام کو جاری رکھا اور ان کی راہ پہ قائم رہے۔
شہید رہبر معظم سید علی خامنہ ای بھی ان میں سے ایک نمایاں ترین شخصیت ہیں؛ جنہوں نے اپنی زندگی مظلوموں کی حمایت اور حق کی سر بلندی کے لیے قربان کر دی۔
انہوں نے ہمیں یہ درس دیا کہ حسینیت کا مطلب صرف عقیدت نہیں، بلکہ مزاحمت و قربانی ہے۔
وہ آخری سانس تک مظلوموں کے حامی اور حق کے علمبردار رہے۔
آخر کار انہوں نے اپنی جان قربان کر کے آج کے دور میں یہ ثابت کیا کہ مولا حسین ع کے سچے پیروکار وقت آنے پر کسی قربانی سے دریغ نہیں کرتے۔
آج جب ہم شہید رہبر معظم کی قربانی کو دیکھتے ہیں تو ہمیں یہ واضح نظر آتا ہے کہ انہوں نے آج کے دور میں، آج کی کربلا میں کل(گزشتہ) کی کربلا کا فلسفہ سمجھا دیا۔
انہوں نے سمجھایا کہ فقط دین دار حسینی نہیں بن سکتے بلکہ حسینی بننے کے لیے دین شناسی لازمی ہوتی ہے۔
وہ بار بار سمجھاتے رہے کہ آج بھی شمر ملعون( نیتن یاہو کی شکل میں) موجود ہے
اور آج بھی کربلا اور مولا حسین کے قافلے کو پہچاننے کی ضرورت ہے۔
شہید رہبر معظم کے دیے گئے سبق سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اگر ہمیں آج کی کربلا کی کوئی معرفت نہیں تو اس کا مطلب ہے کہ ہم ماضی کی کربلا کو سمجھ ہی نہیں سکے۔
آج کی کربلا کو سمجھنا لازم ہے، کیونکہ ہم سے اِسی کے متعلق پوچھا جائے گا۔
آج فلسطین، پارا چنار، کشمیر و دیگر مظلوم خطے اسی پیغام کا تسلسل ہیں کہ جہاں آج بھی حق و باطل کی جنگ جاری ہے۔
شہید رہبر معظم نے سمجھایا کہ آج بھی حق کے لیے ڈٹ جانا حسین علیہ السّلام کے قافلے میں جا مِلنے کی شرط ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ان کے عاشقوں کے دلوں میں ان کی یاد صرف ایک راہنما کی حیثیت سے نہیں، بلکہ ایک حسینی مجاہد کے طور پہ بھی باقی رہے گی کہ جنہوں نے اپنے خون سے اپنے نظریے کی گواہی دی۔









آپ کا تبصرہ