تحریر : سید کرامت حسین شعور جعفری
حوزہ نیوز ایجنسی|
آج تہران کی فضائیں سوگوار ہیں، قم کے علمی ایوان خاموش ہیں، نجف کے مینار غم کی داستان سنا رہے ہیں، کربلا کی مٹی صبر کا سبق دہرا رہی ہے اور مشہد کے صحن اشکوں سے تر ہیں۔ ایک ایسا قافلہ رواں ہے جس کے ہر قدم کے ساتھ تاریخ اپنے اوراق پلٹ رہی ہے، ہر نگاہ میں آنسو ہیں مگر ہر دل میں عزم بھی ہے۔
یہ صرف ایک جنازہ نہیں، بلکہ ایک فکر، ایک استقامت، ایک مزاحمت اور ایک عہد کی علامت ہے۔ دشمن شاید یہ سمجھتا ہو کہ جسموں کے رخصت ہونے سے قافلے رک جاتے ہیں، مگر تاریخ گواہ ہے کہ حق کے قافلے شہادت سے کمزور نہیں، بلکہ پہلے سے زیادہ طاقتور ہو کر اٹھتے ہیں۔
تہران سے قم تک، قم سے کربلا تک، کربلا سے نجف تک اور نجف سے مشہد تک اگر لاکھوں انسان اشکبار آنکھوں کے ساتھ چل رہے ہیں تو ان کے لبوں پر صرف آہ و زاری نہیں، بلکہ صبر، استقامت اور وفاداری کا اعلان بھی ہے۔ یہ وہ آنسو ہیں جو کمزوری کی علامت نہیں بلکہ اس عہد کی تجدید ہیں کہ ظلم کے سامنے سر نہیں جھکے گا۔
کربلا آج بھی یہی پیغام دیتی ہے کہ شہادت شکست کا نام نہیں، بلکہ باطل کے مقابلے میں حق کی دائمی فتح کا عنوان ہے۔ نجف کی گلیاں گویا مولا علیؑ کے اس درس کو دہرا رہی ہیں کہ عزت کے ساتھ جینا اور حق پر قائم رہنا ہی مؤمن کی پہچان ہے۔ قم کے مدارس علم، فکر اور بیداری کی شمعیں مزید روشن کرنے کا عزم کر رہے ہیں، اور مشہد کے صحن یہ گواہی دے رہے ہیں کہ اہلِ وفا اپنے رہنماؤں کو رخصت ضرور کرتے ہیں، مگر ان کے راستے کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتے۔
غم بہت گہرا ہے، دل زخمی ہیں، آنکھیں نم ہیں، مگر یہ قوم ماتم کے ساتھ ساتھ عزم کا پرچم بھی بلند کیے ہوئے ہے۔ یہی تو مکتبِ اہلِ بیتؑ کا درس ہے کہ مصیبت جتنی بڑی ہو، صبر اس سے بڑا ہونا چاہیے، اور ظلم جتنا شدید ہو، حق کی آواز اتنی ہی بلند ہونی چاہیے۔
آج اگر ایک رہبر رخصت ہوا ہے تو اس کا پیغام زندہ ہے، اس کی فکر زندہ ہے، اس کا حوصلہ زندہ ہے، اور اس کے ماننے والوں کے دلوں میں وہی رجز گونج رہا ہے کہ حق کا سفر کسی ایک شخصیت سے وابستہ نہیں ہوتا۔ قافلے بدلتے ہیں، علم نہیں جھکتا؛ افراد رخصت ہوتے ہیں، مگر نظریات زندہ رہتے ہیں۔
اے ضمیرِ انسانی کے امیرو! اپنے آنسوؤں کو کمزوری نہ بننے دیں، انہیں عزم کی قوت بنا دیں۔ اپنے غم کو مایوسی میں تبدیل نہ ہونے دیں، اسے ظلم کے مقابلے میں استقامت کا سرمایہ بنا دیں۔ یہی شہیدوں کا راستہ ہے، یہی کربلا کا سبق ہے، اور یہی تاریخ کا اٹل قانون ہے کہ خونِ شہید کبھی رائیگاں نہیں جاتا۔









آپ کا تبصرہ